Book Name:Shaitan Ke Darwaze
حضرتِ قِیْس بن حجاج رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ مجھ سے میرے شیطان نے کہا: جب میں تیرے اندر داخل ہوا تو اُونٹ کی طرح تھا اور اب میں چڑیا کی طرح ہوں، میں نے کہا: وہ کیوں ؟ شیطان نے کہا: تو نے مجھے ذِکر خدا سے کمزور کردیا ہے۔ ([1])
(2): زبان کا قفل مدینہ
اسی طرح خاموشی(یعنی فضول اور گُنَاہوں بھری باتوں سے رُکے رہنا)بھی شیطان سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوا اور عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مجھے نصیحت فرمائیے! آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اسے چند نصیحتیں کرنے کے بعد فرمایا: وَاخْزُنْ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّكَ بِذَلِكَ تَغْلِبُ الشَّيْطَانَ یعنی اچھی بات کے علاوہ سے اپنی زبان کو روکے رکھو کیونکہ یہ وہ عمل ہے، جس کے ذریعے تم شیطان پر غلبہ حاصل کر لو گے۔([2])
عُلَما فرماتے ہیں: خاموشی وہ نعمت ہے جس کے ذریعے انسان شیطان پر غلبہ پا لیتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنی زبان کی حفاظت کرے۔ ([3])
(3): تَعَوُّذ پڑھنا
پیارے اسلامی بھائیو! شیطان سے بچنے کا ایک بہترین طریقہ تَعَوُّذ یعنی اَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ کی کثرت کرنا بھی ہے۔ یعنی ہم کثرت سے اُٹھتے، بیٹھتے، چلتے، پھرتے اَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھتے رہا کریں، اس کی برکت سےبھی اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! ہم