Book Name:Shaitan Ke Darwaze
(10):شیطان لالچ کے ذریعے بہکاتا ہے، اس کا عِلاج یہ ہے کہ بندہ صِرْف رَبّ کریم کی عطاؤں پر نظر رکھے، لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے مایُوس ہو جائے۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ شیطان کے چند دروازے ہیں، جن کے ذریعے شیطان ہمیں بہکاتا ہے*نمازوں میں سُستی شیطان کا دروازہ ہے*اپنے گُنَاہوں کو بُھول جانا بھی شیطان کا دروازہ ہے*پیٹ بھر کر کھانا بھی شیطان کا دروازہ ہے*لالچ*لمبی اُمِّیدیں * آرام طلبی*خود پسندی*اپنے مسلمان بھائیوں کو حقیر سمجھنا*حسد کرنا*ریاکاری اور *کنجوسی وغیرہ یہ سب شیطان کے دروازے ہیں، ہمیں چاہئے کہ ان ظاہِری و باطنی بُرائیوں سے ہمیشہ بچتے رہیں تاکہ ہم شیطانی حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔
شیطان سے بچنے کے چند مزیدطریقے
اس کے عِلاوہ شیطان سے بچنے کے چند مزید طریقے بھی ہیں۔(1):ان میں سے ایک طریقہ ذِکْرُ اللہ کی کثرت کرنا ہے۔ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سے مروی ہے کہ کسی نے اللہ پاک سے سوال کیا :مجھے انسانی دل میں شیطان کی جگہ دکھا دے، خواب میں اس نے شیشہ کی طرح صاف شفاف ایک انسانی جسم دیکھا جو اندر باہر سے ایک جیسا نظر آرہا تھا، شیطان کو دیکھا وہ اس انسان کے بائیں کندھے اور کان کے درمیان مینڈک کی صورت میں بیٹھا ہوا تھا اور اپنی لمبی سونڈ سے اس کے دل میں وسوسے ڈال رہا تھا۔ جب وہ انسان اللہ کا ذکر کرتا تو وہ فوراً ہی پیچھے ہٹ جاتا۔ ([2])
حضرتِ ابن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ کا قول ہے کہ مومن کا شیطان کمزور ہوتا ہے۔