Shaitan Ke Darwaze

Book Name:Shaitan Ke Darwaze

تھی، یہ کیا ہے؟ بولا: یہ میرے وہ جال ہیں جو میں اَوْلادِ آدم پر ڈالتا ہوں۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام نے پوچھا: یہ بتاؤ! وہ کونسی بُرائی ہے کہ جب آدمی وہ بُرائی کر لے تو تُو اس پر قابُو پا لیتاہے۔ شیطان بولا: جب آدمی خُودپسندی میں مبتلا ہو( یعنی اپنے آپ کو بہتر سمجھے ) اور اپنے گُنَاہوں کو بُھول جائے، تب میں اس پر غلبہ پا لیتا ہوں۔ ([1])

اللہ! اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! اس روایت سے معلوم ہوا کہ خود سری میں مبتلا ہو کر اپنے گُنَاہوں کو بُھول جانا بھی شیطان کے جال میں پھنس جانے کا سبب ہے۔ واقعی یہ حقیقت ہے، جب آدمی اپنے گُنَاہوں کو بُھول جاتا ہے تو وہ خُود کو بہتر سمجھنے لگتا ہے اور اللہ پاک کی خُفیہ تَدبیر سے بےخوف ہو کر مطمئن ہو جاتا ہے، اور یہ اطمینان اور بےخوفی وہ چیز ہے جو شیطان کا کام آسان کر دیتی ہے۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم ہر وقت اپنے گُنَاہوں کو اپنے پیشِ نظر رکھیں۔

گناہ یاد رکھنا عبادت ہے

 مشہور مفسرِ قرآن، حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: اپنی نیکیوں کو بُھول جانا اور گُنَاہوں کو یاد رکھنا عِبَادت ہے۔ ([2])

افسوس! ہمارے ہاں اس کا اُلٹ رِواج ہے،لوگ نیکیاں یاد رکھتے ہیں، گُنَاہ بُھول جاتے ہیں* ایک دِن کی پڑھی ہوئی تہجد یاد رہتی ہے، 50دِن کی قضا کی ہوئی نمازیں یاد نہیں ہوتیں*بعض لوگ بڑے فخر سے بتا رہے ہوتے ہیں: اس بار میں نے رَمْضَانُ


 

 



[1]... تنبیہ الغافلین،باب عداوۃ الشیطان و معرفۃ مکایدہ، صفحہ:346۔

[2]...تفسیر نعیمی، پارہ:1، سورۂ بقرہ، زیرِ آیت:40، جلد:1، صفحہ:325ملتقطاً۔