Book Name:Shaitan Ke Darwaze
فرمان ہے کہ بَقیَّۃُ عُمْرِ الرَّجُلِ لَا ثَمْنَ لَہٗ یعنی آدمی کی جو باقی زندگی ہے، وہ انمول ہے۔([1])
واقعی یہ حقیقت ہے، جو لمحات گزر چکے، وہ تو گزر گئے، اب کبھی پلٹ کر نہیں آئیں گے، جو لمحات ہمیں میسر ہیں، یہ انمول ہیں، ہمیں چاہئے کہ ان سے فائدہ اُٹھائیں، آیندہ ماہِ رَمضَان ہم دیکھ پائیں گے یا نہیں، یہ تو ہم نہیں جانتے، لہٰذا یہ جو چند لمحات رہ گئے ہیں، ان میں خُوب دِل لگا کر نیکیاں کر لیں، اب ایک ایک منٹ قیمتی ہے، ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیرزیادہ سے زیادہ برکتیں لُوٹ لیں۔ آخری عشرے کے قیمتی لمحات چل رہے ہیں۔ پِھر اس کے بعد لَیْلَۃُ الْجَائِزہ (یعنی عید کی چاند رات) بھی آنی ہے* وہ عظیم رات کہ پُورے ماہِ رمضان میں جتنوں کی مغفرت ہوتی ہے، ان کی مجموعی تعداد کے برابر لوگوں کی مغفرت اس ایک رات میں کر دی جاتی ہے۔([2]) یعنی ہمارے لئے مواقع ہی مواقع ہیں، بس ہمیں قَدر نصیب ہو جائے۔ ہم ان قیمتی لمحات سے صحیح معنوں میں فائدہ اُٹھانے میں کامیاب ہوجائیں۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
اے عاشقانِ رسول! ماہِ رَمْضَانُ الْمُبارَک عنقریب رُخصت ہو رہا ہے تو اس کے ساتھ ہی ہمارا اَصْل اور حقیقی دُشمن یعنی شیطان بھی آزاد ہونے والا ہے۔ اَفْسوس! شیطان جونہی آزاد ہوتا ہے، اُودھم مچا ڈالتا ہے، بس یہ اِعلان ہونے کی دَیْر ہوتی ہے کہ عِید کا چاند نظر آگیا ہے، ماہِ رمضان کے دِیوانے تو اس وقت رَمْضَان کی جدائی کے غم میں دھاڑیں مار مار کر رَو رہے ہوتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہزاروں لوگ اس وقت شیطان کے چُنگل میں پھنس