Shaitan Ke Darwaze

Book Name:Shaitan Ke Darwaze

الْمُبارَک کے 10 روزے رکھے، کوئی انہیں بتائے کہ بھائی! آپ نے 20 روزے قضا کر دئیے! * مسجد میں دئیے ہوئے 10 رُوپے یاد رہتے ہیں، تجارت میں ڈنڈی مار کر کمائے ہوئے ہزار بُھول جاتے ہیں۔ یاد رکھئے! یہ سخت تشویش کی بات ہے، اپنے گُنَاہوں کو بُھول جانا شیطان کا دروازہ ہے۔ جب آدمی اپنے گُنَاہوں کو بُھول جاتا ہے تو شیطان اس پر غالِب آجاتا ہے۔ اس لئے اپنے گُنَاہوں کو ہمیشہ یاد رکھئے! یہ وہ ذریعہ ہے جس سے ہمارے دِل میں رِقَّت پیدا ہو گی، دِل میں اللہ پاک کا خوف آئے گا اور ہم رَبّ کریم کی پکڑ سے ڈر کر توبہ بھی کرتے رہیں گے اور آیندہ گُنَاہوں سے بچتے بھی رہیں گے۔

بچپن کا گُنَاہ یاد رکھا

حضرت امام حسن بصری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ جو بہت بڑے وَلِیُّ اللہ تھے، آپ کی سیرت میں ہے کہ آپ سے بچپن میں ایک گُنَاہ ہو گیا تھا، حالانکہ نابالغ بچے کا گُنَاہ، گُنَاہ نہیں ہوتا، اس کے باوُجُود آپ نے اس گُنَاہ کو یاد رکھا، آپ کی عادت تھی کہ جب بھی نئے کپڑے سلواتے تو گریبان پر وہ گُنَاہ لکھ لیتے، پِھر اسے دیکھ دیکھ کر شرمندگی سے آنسو بہاتے رہتے تھے۔ ([1])

اللہ اکبر! کیا نِرالا انداز ہے۔ ہمیں بھی چاہئے کہ اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور گُنَاہوں کو ہمیشہ یاد رکھیں، انہیں سوچ سوچ کر اللہ پاک کے عذاب سے، اس کی پکڑ سے ڈرتے رہا کریں، ایسا کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! توبہ کی توفیق بھی ملتی رہے گی اور آیندہ گُنَاہوں سے بچنے کا ذہن بھی بنا رہے گا۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد


 

 



[1]...تذکرۃ الاولیاء، جز:1، صفحہ:39۔