Shaitan Ke Darwaze

Book Name:Shaitan Ke Darwaze

خوفناک وادی غی سے جاملیں گے۔

بَیان کردہ آیتِ مُبارَکہ میں غَیّ  کا تَذکِرَہ ہے اور اِس سے مُراد جہنّم کی ایک وادی ہے۔ صاحبِ بہارِ شریعت مفتی محمد امجد علی اَعْظَمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: غَیّ  جہنّم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زِیادہ ہے، اِس میں ایک کُنواں ہے جس کا نام ہَبْ ہَبْ ہے،جب جہنّم کی آگ بھجنے پر آتی ہے اللہ پاک اس کُنْویں کو کھول دیتا ہے جس سے وہ (یعنی جہنّم کی آگ) پہلے کی طرح بھڑکنے لگتی ہے(اللہ پاک اِرْشادفرماتا ہے :)

كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا(۹۷) (پارہ:15، بنی اسرائیل:97)

ترجمہ ٔکنزُالعِرفان: جب کبھی بجھنے لگے گی تو ہم ان کے لئے اور بھڑکادیں گے

یہ کُنواں* بےنَمازیوں * زانِیُوں * شرابِیوں * سُود خوروں * اور ماں باپ کو تکلیف دینے والوں کے لئے ہے۔ ([1])

اللہ پاک ہمیں پانچوں نمازیں مسجد میں باجماعت تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ ادا کرتے رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم

شیطان کا دروازہ: اِستغفار سے غَفلت

حضرت عبد الرحمٰن بن زیاد رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت موسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام تشریف فرما تھے، سامنے سے ایک شخص آتا ہوا دِکھائی دیا، اس نے سَر پر رنگ برنگی ٹوپی پہن رکھی تھی، جب وہ قریب آیا تو اس نے وہ ٹوپی اُتار دی، حضرت موسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام نے پوچھا: تم کون ہو؟ وہ بولا: میں ابلیس ہوں۔ فرمایا: یہ ٹوپی جو تُو نے پہن رکھی


 

 



[1]... بہارِشریعت،جلد:1، صفحہ:434، حصہ:3۔