Apni Islah Ka Nuskha

Book Name:Apni Islah Ka Nuskha

کر وہ خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف چل دیا ۔گھر پہنچا تو دیکھا کہ اُس کے گھر والے بھوک اور پیاس کی شدت سے غم ناک تھے، وہ بھی اُنہی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر میں اُس کا ایک پڑوسی آیا اور اُس نے اُس عابد سے کہا:کچھ روٹیاں دے دو،عابد کہنے لگا:اللہپاک کی قسم!ہمارے پاس تو کھانے کو کچھ بھی نہیں،تَنوردیکھو! اُس میں بھی کچھ نہیں ہے۔ وہ پڑوسی تَنور کی طرف بڑھا تو اُس میں اُسے پکی ہوئی روٹیاں نظر آئیں۔ اُس نے عابد کو اِس بات کی خبر دی۔ جب اُس کے گھر والوں نے یہ معاملہ دیکھا تو اُنہیں بڑا تَعَجُّب ہوا۔ عبادت گزار کی بیوی کہنے لگی:یقیناً اِس میں ہمارا کچھ کمال نہیں بلکہ یہ سب تیری برکت اور کرامت کی وجہ سے ہے،بتاؤ اِس کا رازکیاہے؟ پھر اُس عبادت گزار نے اپنا راز کھولا  اور وہ مکمل واقعہ بیان کیا جس کی برکت سے اُس پر یہ انعامات ہوئے تھے۔ ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                              صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

حکایت سے حاصل شدہ نکات

 پىارے اسلامى بھائىو!اِس حکایت سے معلوم ہوا!جو کوئی اپنے اعمال کا جائزہ لیتا رہے یعنی غوروفکر کرتارہے اور خود کو ہر وقت اللہ پاک سے ڈراتا رہے تو یہ نیک عمل اُسے دنیا کی آزمائشوں سےبھی بچا لیتا ہے اور آخرت میں بھی اُس کےلیے فائدے کا سبب بنتا ہے۔

دوسری بات یہ معلوم ہوئی! اعمال کا جائزہ لیتے رہنے کی عادت سے بندہ گناہوں سے بھی بچ جاتا ہے۔  ابھی ہم نے سُنا کہ وہ عبادت گزار جب عورت کی دعوتِ گناہ کی طرف مائل ہوا تو اپنا مُحاسَبَہ (Self Accountability) کرنے کی عادت کی وجہ سے فوراً ہی اُس کے منہ سے یہ جُملہ نِکلا :”اے نَفْس!اللہپاک سے ڈر “اور پھر اُس پر خوفِ خدا ایسا غالب ہوا کہ وہ گناہ سے بچ گیا ۔


 

 



[1] دُرّۃُ الناصحین،المجلس التاسع والستون …الخ،ص۲۷۰ ملخصاً