Book Name:Apni Islah Ka Nuskha
2۔اِرشادفرمایا:عقل مند کے لئے ایک گھڑی ایسی ہونی چاہئے جس میں وہ اپنے نفس کامُحاسَبہ کرے ۔([1])
3۔اِرشادفرمایا:(اُمُورِ آخرت میں) گھڑی بھر غور و فکْر کرنا ساٹھ (60) سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔([2])
پىارے اسلامى بھائىو!آیتِ مبارَکہ، اُس کی تفسیر اورفرامینِ مصطفےٰ سے معلوم ہوا! ہمارے دِین میں اپنا محاسبہ (Self Accountability)کرنے کی زبردست ترغیب دلائی گئی ہے، کیونکہ * مُحاسَبَۂ نفس کی وجہ سے انسان گناہوں سے بچنے لگتا ہے۔*نیکیاں کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ * اللہ پاک اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کا ذہن بنتا ہے۔ *دل میں خوفِ خداپیدا ہوتا ہے۔ * انسان کے ظاہر و باطن میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔*موت سے پہلے موت کی تیاری کا ذہن بنتا ہے۔ * اللہ پاک کے نیک بندوں کے نقشِ قدم پر چلنے کا ذہن بنتا ہے۔*اچھی عادتیں بنتی ہیں، * بُری خصلتوں سے چھٹکارے کا ذہن بنتا ہے۔ *الغرض مُحاسَبۂ نفس کی وجہ سےدنیا میں بھی آسانیاں ہوجاتی ہیں اور آخرت بھی اچھی ہوجاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارا دِین مُحاسَبَۂ نفس کی بڑی تلقین کرتا ہے۔آئیے!مُحاسَبَۂ نفس کی تعریف سُنتے ہیں، تاکہ ہم زیادہ اچھے انداز میں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے میں کامیاب ہوسکیں،چنانچہ
مُحاسَبَہ کیا ہے ؟
حضرت امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ اپنی مشہور کتاب”اِحیاء العلوم“میں فرماتے ہیں:اعمال کی کثرت، مقدار میں زیادتی اورنقصان پہچاننے کے لیے جوغورکیا جاتا ہے اُسے مُحاسَبَہ کہتے ہیں،اگربندہ اپنے دن