Apni Islah Ka Nuskha

Book Name:Apni Islah Ka Nuskha

مَردوں کا عورتوں کی نقل کرنا، بے پردگی، غُرور، تَکَبُّر،حَسَد،رِیا کاری، اپنے دل میں کسی مسلمان کا بُغض وکینہ رکھنا، کسی مسلمان کو مرض، تکلیف یا نقصان پہنچنے پر خوش ہونا ، غصّہ آجانے پر شریعت کی حدیں  توڑ ڈالنا، عزّت کی خواہش،کنجوسی،خودپسندی وغیرہ معاملات ہمارے معاشرے میں بڑی بے باکی کے ساتھ کئے جاتے ہیں۔ذرا سوچئے!اِس قدر گناہوں کے باوجود بھی اگر ہمیں رِزْق میں تنگی و محرومی  کا سامنا نہ ہو تو کیا ہو؟گناہوں کی ایسی کثرت کے باوُجود بھی ہم پر رزق کے دروازے بند نہ ہوں تو کیا ہو؟ ایک حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا گیا: لَایَرُدُّ الْقَدْرَ اِلَّا الدُّعَاءُ یعنی دعاسے تقدیر پلٹ جاتی ہے وَلَا یَزِیْدُ فِی الْعُمْرِ اِلَّا الْبِرُّ اورنیکیوں سے عمر میں اضافہ ہوتاہے، فَاِنَّ الرَّجُلَ لَیُحْرَمُ الرِزْقَ بِالذَّنْبِ یُصِیْبُہبے شک بندہ گناہ کی وجہ سے اُس رِزق سے محروم کر دیا جاتا ہے جو اُسے پہنچنا ہے۔([1])

پىارے اسلامى بھائىو!معلوم ہوا! اگر ہم مُعاشی ترقی و برکت کے خواہش مند ہیں ،طرح طرح کی مصیبتوں اور رِزْق کی محرومیوں سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں گناہوں کی مصیبت سے چُھٹکارا حاصل کرنا اورنیکیوں سے تعلق جوڑنا ہوگا۔ابھی ہم نے آیتِ کریمہ میں بھی سُنا کہ جو اللہ پاک کے خوف کی وجہ سے گناہوں سے بچتا ہے اُسے ایسے مقام سے رزق دیا جاتا ہے جہاں اُس کا گمان بھی نہیں پہنچتا۔ اللہ  کرے ! ہم گناہوں سے بچنے والے بن جائیں اور ہماری معاشی پریشانیاں دور ہو جائیں۔

اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                             صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

مُحاسَبَہ نفس اور قرآن

 پىارے اسلامى بھائىو!اِس میں شک نہیں کہ گناہوں سے بچنے اور نیکیوں کی کثرت کرنے کا ایک


 

 



[1] المستدرک،کتاب الدعاء والتکبیر،باب:لایرد القدر...الخ ، ۲/۱۶۲، حدیث۱۸۵۷