Book Name:Apni Islah Ka Nuskha
زمانہ کتاب”فیضانِ سنت“پہلی جلد کے صفحہ نمبر 302 سے کھانے کی سنتیں اور آداب سُنتے ہیں: * سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تکیہ (یعنی ٹیک) لگا کر نہیں کھاتے تھے۔(ابو داود، ۳/۴۸۸، حدیث: ۳۷۶۹ مُلَخَّصاً)* میز پر رکھ کر کھانا نہیں کھاتےتھے۔( بخاری،۳ / ۲۴ ،حدیث : ۵۳۸۶ ۵،ملخصاً)*جو کچھ مل جاتا کھالیتے۔(مسلم، ص۱۱۳۴،حدیث:۲۰۵۲ملخصاً)*نہ تو گھر والوں سے کھانا مانگتے اور نہ اُن کے سامنے خواہش (یعنی فرمائش)ظاہِر کرتے، اگر وہ پیش کرتے کھالیتے، وہ جو کچھ سامنے رکھتے قَبول فرمالیتے اور جو کچھ پلاتے وہ پی لیتے۔(اتحاف السادۃ،۸/۲۴۸ملخصاً) * بعض اوقات خود اُٹھ کر کھانے پینے کی چیز لے لیتے۔(ابو داود، ۴ /۵،حدیث:۳۸۵۶ملخصاً) حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے سامنے سے۔( شعب الایمان،۵/۷۹ ،حدیث: ۵۸۴۶ ملخصاً)*تین انگلیوں سے کھاتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبۃ، ۵ /۵۵۹،حدیث: ۳ملخصاً) *اور بعض اوقات چار اُنگلیوں سے بھی کھالیتے۔( جامع صغیر،ص۲۵۰،حدیث: ۶۹۴۲ ملخصاً) مگر دواُنگلیوں سے نہ کھاتے تھے، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:یہ شیطان کے کھانے کا طریقہ ہے۔(فیض القدیر، ۵/۲۴۹، حدیث: ۶۹۴۰، ملخصاً) * جَو کے بغیر چھنے آٹے کی روٹی کھالیا کرتے۔ (بخاری، ۳/۵۳۱، حدیث:۵۴۱۰، ملخصاً) *آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کھانا اکثر کھجور اور پانی پر مشتمل ہوتا۔
(بخاری، ۳/۵۲۳،حدیث: ۵۳۸۳مُلَخَّصاً)
( اعلان :)
کھانے کی بقیہ سنتیں و آداب تربیتی حلقوں میں بیان کیے جائیں گے،لہٰذا ان کو جاننے کیلئے تربیتی حلقوں میں ضرور شرکت کیجئے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سُنَّتوں بھرےاِجْتِماع میں پڑھےجانے والے6 دُرودِ پاک اور 2دعائیں