Book Name:Apni Islah Ka Nuskha
پىارے اسلامى بھائىو!معلوم ہوا! خوفِ خدا کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دینا رزق میں برکت کا سبب بنتا ہے، جو بھی خوفِ خدا کی وجہ سے کسی گناہ سے رُکتا ہے تو اللہپاک اُسے ایسے اسباب سے رِزق عطا فرماتا ہے جن کی طرف اُس کا خیال بھی نہیں جاتا۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ ایک تعداد ہے جو رزق روزی اور دیگر معاشی پریشانیوں میں مُبْتَلا نظر آتی ہے، کسی کے گھر کے اَخراجات پورے نہیں ہوتے تو کوئی ہزاروں کما کر بھی کچھ بچا نہیں پاتا۔ کسی کو کاروبار میں رُکاوٹ نظر آتی ہے تو کسی کی دکان (Shop) ٹھیک طرح سے نہیں چلتی، کوئی بے روزگار ہے تو کوئی قرضدار ہے، کوئی تنگ دستی کا شکار ہے،الغرض!ہمارے معاشرے میں تنگ دستی، بے روزگاری اور رِزْق میں بے برکتی کا رونا رونے والے بہت ہیں، غور کیجئے! کہیں اِس کی وجہ یہ تو نہیں کہ ہم گناہ کرتے نہیں ڈرتے؟ مصیبتوں اور رِزْق میں بے برکتیوں کا سبب کہیں ہماری اپنی ہی بد اعمالیاں تو نہیں ہیں؟کیونکہ آج کل ہمارے معاشرے میں گناہوں کا بازاراِس قدر گرم ہے کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ۔بد قسمتی سے لوگوں کی بھاری اکثریَّت بے عملی کا شکار ہے، نہ توبندوں کے حقوق کی ادائیگی کا پاس ہے اور نہ ہی اللہ پاک کے حقوق ضائع کرنے کا کوئی احساس،نیکیاں کرنا نفس کیلئے بے حد دُشوار اور گناہ کرنا بہت آسان ہوچکا ہے،ضروریات وسہولیات حاصل کرنے کی حد سے زیادہ کوشش نے مسلمانوں کی بھاری تعداد کو فکرِ آخِرت سے مکمل غافل کردیا ہے۔گالی دینا،تہمت لگانا، بدگمانی کرنا، غیبت کرنا، چغلی کھانا، لوگوں کے عیب جاننے کی کوشش میں لگے رہنا، لوگوں کے عیب اُچھالنا،جھوٹ بولنا،جھوٹے وعدے کرنا، کسی کا مال ناحق کھانا،خون بہانا، کسی کو بِلااجازت ِشرعی تکلیف دینا، قرض دبا لینا، کسی کی چیز وقتی طور پر لے کر واپس نہ کرنا، مسلمانوں کو بُرے اَلقاب سے پکارنا، کسی کی چیز اُسے ناگوار گزرنے کے باوجود بِلااجازت استعمال کرنا، شراب پینا، جُوا کھیلنا، چوری کرنا، بدکاری کرنا، فلمیں ڈرامے دیکھنا، گانے باجے سُننا، سُود و رِشوت کا لین دَین، ماں باپ کی نافرمانی اور اُنہیں ستانا، امانت میں خیانت،دھوکہ دہی، بدنگاہی،عورتوں کا مَردوں کی اور