Shan o Ausaf e Muaviya

Book Name:Shan o Ausaf e Muaviya

پیسے کہیں گِر گئے۔ بس اب بیچارے کی وہ کلاس لی جاتی ہے کہ خُدا کی پناہ...!! *راہ چلتے کسی کا کندھا ہم سے ٹکرا گیا، لوگ بُڑ بُڑانا شروع کر دیتے ہیں، بعض دفعہ تو اس بات پر لڑائی بھی ہو جاتی ہے *کسی کا پاؤں ہمارے پاؤں پر آ گیا، برداشت نہیں ہوتا *موٹر سائیکل والا گاڑی سے ٹکرا گیا، اب فورًا ایک غُصّے بھری بریک لگتی ہے، آس پاس کے لوگ بھی متوجہ ہو جاتے ہیں کہ کیا ہوا؟ کار والا غُصّے سے لال پیلا ہو کر گاڑی سے اُترتا ہے، پِھر سٹرک پر جو  شرافت کے مظاہرے ہوتے ہیں، اللہ پاک کی پناہ...!!

ایسے اور بہت سارے مُعَاملات ہمارے ہاں نارمل زندگی میں عمومًا ہوتے رہتے ہیں۔ کاش! ہمیں حِلْم کی دولت نصیب ہو جائے، کاش! ہم غُصّہ پینے والے، غُصّے پر قابُو رکھنے والے بن جائیں۔

کہیں بردباری کم نہ ہوجائے!

ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت امیر معاویہ     رَضِیَ اللہ عنہ  سے سخت کلامی کی تو کسی نے کہا: اگرآپ    رَضِیَ اللہ عنہ  چاہیں تو اسے عبرت ناک سزا دے سکتے ہیں۔ اس پر آپ     رَضِیَ اللہ عنہ  نے فرمایا: مجھے اس بات سے حیا آتی ہے کہ میری رِعایا کی  کسی غلطی کی وجہ سے میرا  حِلْم اور بُرْدباری کم ہوجائے ۔([1])

سب سے بڑا سردار کون؟

حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  کی بارگاہ میں سوال ہوا: سب سے بڑا سردار کون ہے؟ فرمایا: *جب کچھ مانگا جائے تو سب سے بڑھ کرسخی ہو *محافل میں حسنِ اَخلاق کے اعتبار سے


 

 



[1]...حلم مُعاوِیہ لابن ابی دنیا،صفحہ:22، رقم:14۔