Shan o Ausaf e Muaviya

Book Name:Shan o Ausaf e Muaviya

حِلم اور سخاوت کے فضائل

پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیثِ پاک سے حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  کے 2خصوصی اَوْصاف معلوم ہوئے: (1):حِلْم (2):جُود (یعنی سخاوت)۔

یہ دونوں بہت ہی اَعْلیٰ اَوْصاف ہیں، ہمیں بھی اپنانے چاہئیں۔

حِلم کے فضائل پر احادیثِ کریمہ

اے عاشقانِ رسول! ہمیں بھی حِلْم اپنانا چاہیے!* حِلْم والا اللہ پاک کا پسندیدہ اور پیارا بندہ بَن جاتا ہے*فرشتے حِلْم والے کے مددگار ہوتے ہیں* حِلْم والے کی لوگ تعریف کرتے ہیں*اور حِلْم والا آدمی بلند درجات تک پہنچ جاتا ہے۔

*سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: 5 چیزیں سُنتِ انبیا ہیں، اُن میں سے ایک حِلْم ہے۔([1])

*سرکارِ عالی وقار، مَدَنی تاجدار  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: بےشک اللہ پاک حِلْم والے کو پسند فرماتا ہے۔([2])

*ایک حدیثِ پاک میں ہے: روزِ قیامت مَخلُوق کو جمع کیا جائے گا، ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ اَہْلِ فَضْل کہاں ہیں؟ یہ سُن کر کچھ لوگ اُٹھ کر جلدی سے جنّت کی طرف بڑھ جائیں گے، فرشتے اُن سے پُوچھیں گے؟ تم جلدی جلدی جنّت کی طرف کیوں جا رہے ہو؟ وہ کہیں گے: ہم ہی اَہْلِ فَضْل ہیں۔ فرشتے پوچھیں گے:تمہاری فضیلت کیا ہے؟ وہ کہیں گے: جب ہم پر ظُلْم کیا جاتا تو ہم صبر کرتے، ہم سے بُرا رَوِیَّہ اختیار کیا جاتا تو ہم مُعَاف


 

 



[1]...معجم کبیر، جلد:5، صفحہ:324، حدیث:11282ملتقطاً۔

[2]...سنن کبریٰ للبیہقی، کتاب النکاح، باب ماجاء ...الخ، جلد:7، صفحہ:174، حدیث:13587 ماخوذاً۔