Shan o Ausaf e Muaviya

Book Name:Shan o Ausaf e Muaviya

پاک کے نزدیک بخیل عالِم سے بہتر ہے۔([1])  (4): اے انسان! اگر تم بچا مال خرچ کردو توتمہارے لیے اچھا ہے اور اگر اُسے روک رکھو تو تمہارے لیے بُرا ہے اور بَقَدْرِ ضرورت اپنے پاس رکھ لو تو تم پر مَلامت نہیں اور دینے میں اپنے عیال سے اِبْتدا کرو اور اُوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔([2])

    اس حدیث کی شرح میں مُفْتی احمدیارخان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی اپنی ضَروریات سے بچا ہوا مال خَیْرات کردینا،  خُود تیرے لیے ہی مُفید ہے کہ اُس سے تیرا کوئی کام نہ رُکے اور تجھے دُنیا وآخرت میں بدلہ مل جائے گا اور اُسے روکے رکھنا، خُود تیرے لیے ہی بُرا ہے، کیونکہ وہ چیز ضائع ہوجائے گی اور تُو ثواب سے محروم ہو جائے گا، اسی لیے حکم ہے کہ نیا کپڑا پاؤ تو پُرانا بیکار کپڑا خیرات کردو ،نَیا جُوتا رَبّ کریم دے تو پُرانا جوتا جو تمہاری ضرورت سے بچا ہے، کسی فقیر کو دے دو کہ تمہارے گھر کا کُوڑا نکل جائے گا اور اُس کا بھلا ہوجائے گا۔ مزیدفرماتے ہیں: اس میں2 حکم بیان ہوگئے، ایک یہ کہ جو مال اس وقت تو زائد ہے، کل ضرورت پیش آئے گی، اسے جمع رکھ لو، آج نفلی صَدَقہ دے کر کل خُود بھیک نہ مانگو، دُوسرا یہ کہ خیرات پہلے اپنے عزیز غریبوں کو دو، پھر اَجنبیوں کو کیونکہ عزیزوں کو دینے میں صَدَقہ بھی ہے اور صِلہ رحمی بھی۔([3])

بیان کا خلاصہ

پیارے اسلامی بھائیو!   آج ہم نے عظیم صحابئ رسول حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  


 

 



[1]...ترمذی ، کتاب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی السخاء، صفحہ:478، حدیث:1961۔

[2]... مسلم،  کتاب الزکاۃ، باب بيان ان اليد العليا...الخ، صفحہ:371، حديث:1036۔

[3]... مرآۃ المناجیح ، جلد:3 ،صفحہ:70و 71 بتغیر قلیل۔