Shan o Ausaf e Muaviya

Book Name:Shan o Ausaf e Muaviya

کرتے اور جب ہم سے کوئی جہالت والا برتاؤ کرتا تو ہم حِلْم کا مُظَاہرہ کیا کرتے تھے۔([1])

تُو عطا حِلْم کی بھیک کر دے                                                                       میرے اَخلاق بھی ٹھیک کر دے

تجھ کو فاروق کا واسطہ ہے                                                                                      یاخُدا!        تجھ        سے        میری         دُعا        ہے([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد

سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! حِلْم (یعنی بُردباری، قُوَّتِ برداشت) کے کیسے اعلیٰ فضائل ہیں۔ مگر افسوس! آج کل ہمارے ہاں قُوَّتِ برداشت بالکل کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر لوگ غُصّے میں لال پیلے ہو جاتے ہیں، آپے سے باہَر ہو جاتے ہیں، گالیاں بکی جاتی ہیں، لڑائی جھگڑے ہو جاتے ہیں بلکہ کئی دفعہ تو بات قتل تک پہنچ جاتی ہے۔

گھروں میں دیکھ لیجیے! *بچے کے ہاتھ سے برتَن چُھوٹ کر گِرا، ٹُوٹ گیا، اس پر مائیں غُصّہ ہو جاتی ہیں، والدین ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں *غلطی سے چائے ہاتھ سے چُھوٹ کر کپڑوں پر گِر جائے، تب تو قیامت ہی آجاتی ہے، کوئی فنکشن وغیرہ چل رہا ہو، اس میں ایسا ہو جائے تو بعض دفعہ اس وجہ سے پُورا فنکشن ہی خراب ہو جاتا ہے، اس چھوٹی سی بات کا اتنا غُصّہ کیا جاتا ہے کہ اچھا خاصا خوشیوں بھرا ماحول ہی اُداس ہو جاتا ہے *زوجہ سے کوئی غلطی ہو گئی *ہانڈی جل گئی *نمک زیادہ ڈل گیا *کپڑے پریس کرتے ہوئے، جل گئے *کپڑے دھونے میں کمی رہ گئی، کوئی ہلکا سا داغ رہ گیا۔ ہمارے ہاں ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھروں میں لڑائیاں ہوتی ہیں، جھگڑے چِھڑ جاتے ہیں *چھوٹے بھائی سے کوئی غلطی ہو گئی *موٹر سائیکل گِر گئی *چھوٹا موٹا نقصان ہو گیا *بچے کو دُکان پر بھیجا تھا، بیچارے سے


 

 



[1]...شعب الایمان، باب فی حسن الخلق، جلد:6، صفحہ263، حدیث:8086۔

[2]...وسائِلِ بخشش، صفحہ:138۔