Shan o Ausaf e Muaviya

Book Name:Shan o Ausaf e Muaviya

جیلانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:*یہ شخص (جو خُود ہدایت پر ہو اور دوسروں کو ہدایت کا رستہ دکھائے، یہ) اللہ پاک کی مَعْرِفت رکھنے والا ہے*یہ وہ ہے جسے اللہ پاک نے اپنی آیات (یعنی نشانیوں) کا عالِم بنایا ہے *اس کے دِل میں نادِر و نایاب عِلْم کے موتی رکھ دئیے گئے ہیں *یہ پسندیدہ بندہ ہے *یہ مَقْبول ہے *اللہ پاک نے اسے ہدایت عطا فرمائی *اللہ پاک نے اسے اپنے قُرب میں ترقی عطا فرمائی *عِلْم کے لیے اس کا سینہ کھول دیا *اسے نیکی کی دعوت دینے والا *عذابات سے ڈرانے والا بنایا *یہ انبیائے کرام علیہم السَّلام کا سچّا نائب ہے۔([1])

اے عاشقانِ رسول! غور فرمائیے! رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم  صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم    نے حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  کے حق میں چند لفظوں کی دُعا فرمائی اور انہی چند لفظوں میں کیسے کیسے فضائل مانگ لیے...!   سُبْحٰنَ اللہ !

انہیں دُعا نبی نے دی مہدی اور ھادی کی ہر ایک شک سے دُور ہے، ہدایتِ مُعاوِیہ

امیر معاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  کے 2اعلیٰ اَوْصاف

مکی مَدَنی، مُحَمَّدِ عربی  صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم   نے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہ عنہم  کے خصوصی اَوْصَاف بیان فرمائے ہیں،   اس حدیثِ پاک میں حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  کے 2 خصوصی اَوْصاف بیان کرتے ہوئے رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم  صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم    نے فرمایا: وَمُعَاوِیَۃُ بْنُ اَبِی سُفْیَانَ اَحْلَمُ اُمَّتِیْ وَ اَجَوَدُهَا اور مُعاوِیہ بن اَبُو سفیان(  رَضِیَ اللہ عنہما ) میری اُمَّت میں سب سے بڑھ کر حِلْم والے اور بہت سخی ہیں۔([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد


 

 



[1]...شرح فُتُوح الغیب، صفحہ:353۔

[2]... مسند حارث، کتاب  المناقب، باب فیما اشترک فیہ ، جلد:1، صفحہ:893، حدیث:965۔