Book Name:Shan o Ausaf e Muaviya
سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
مَحْبوب کی ادا کو ادا کر رہا ہوں
حضرت اَبُو اُمَامہ بن سَہْل بن حَنِیْف رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما تھے اور مُؤَذِّنْ اَذَان دے رہا تھا، مؤذِّنْ نے کہا: اللہ اَکْبَرُ اللہ اَکْبَرُ۔ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ نے بھی کہا: اللہ اَکْبَرُ اللہ اَکْبَرُ۔ مؤذِّن نے کہا: اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ۔ آپ نے کہا: وَ اَنَا (یعنی میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ پاک کے سِوا کوئی معبود نہیں)۔ مؤذِّن نے کہا: اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہ۔ آپ نے کہا: وَ اَنَا (یعنی میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اللہ کے رسول ہیں)۔ یونہی مؤذِّن اذان دیتا گیا، آپ اذان کا جواب دیتے گئے، جب اذان مکمل ہو گئی تو آپ نے لوگوں کو مخاطَب کر کے فرمایا: اے لوگو...!! میں نے دیکھا؛ اسی طرح رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم منبر پر تشریف فرما تھے، مؤذِّن اذان دے رہا تھا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اذان کے جواب میں وہی کچھ فرمایا، جو میں نے کہا ہے (لہٰذا میں آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی ادائے پاک کو ادا کرتے ہوئے اذان کا جواب دے رہا تھا)۔([1])
خائِفِ کبریا حضرتِ مُعاوِیہ عاشقِ مصطفےٰ حضرتِ مُعاوِیہ
خُوب رُوخوش ادا حضرتِ مُعاوِیہ خُوش نما خُوش لِقَا حضرت مُعاوِیہ