Book Name:Shan o Ausaf e Muaviya
صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی زوجہ محترمہ بھی ہیں۔
چونکہ حضرت امیر مُعَاوِیہ رَضِیَ اللہ عنہ ہماری اَمِّی جان کے بھائی ہیں، اس لیے عُلَمائے کرام آپ کو خَالُ الْمُسْلِمِیْن (یعنی مسلمانوں کے ماموں جان) کہتے ہیں۔
*حضرت امیر مُعَاوِیہ رَضِیَ اللہ عنہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے اِعْلانِ نبوت فرمانے سے 5 سال پہلے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے*آپ کا قد مبارک دَرَاز (یعنی لمبا) تھا*رنگت سفید اور خوبصُورت*شخصیت رُعْب دار تھی *عَلّامہ حُسَین بن محمد رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرت امیر مُعَاوِیہ رَضِیَ اللہ عنہ رُعب و دبدبہ والے، دُور اندیش، بہادر، سخی اور بُرْدبار بادشاہ تھے*حضرت امیر مُعَاوِیہ رَضِیَ اللہ عنہ نے صلح حُدَیبیہ کے دِن یعنی 6 ہجری میں اسلام قبول کیا۔([1])
شانِ صحابۂ کرام
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں اور اَلحمدُ لِلّٰہ! سارے کے سارے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم انتہائی اُونچے رُتبے والے، بہت ہی بلند شانوں والے ہیں۔ قرآنِ کریم میں ان سب کے ساتھ جنّت کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ اِرْشاد ہوتا ہے:
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى (پارہ:27، سورۂ حدید:10)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اور ان سب سے اللہ نے سب سے اچھی چیز کاوعدہ فرما لیا ہے۔
مَعْلُوم ہوا؛ سارے کے سارے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم جنّتی ہیں۔([2])
ہر صحابئ نبی! جنّتی جنّتی سب صحابیات بھی! جنّتی جنّتی