Book Name:Shan o Ausaf e Muaviya
مخلص و باوَفَا! حضرتِ مُعاوِیہ باعَمَل بے ریا حضرت مُعاوِیہ
جنّتی بےشُبہ! حضرت مُعاوِیہ باخُدا باصَفا! حضرت مُعاوِیہ([1])
وضاحت:باخُدا :یعنی خدا کی قسم ۔باصَفا: یعنی باطنی خوبیوں سے آراستہ۔
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت امیر معاوِیَہ رَضِیَ اللہ عنہ کے اس مبارَک عَمَل سے 2باتیں سیکھنے کو ملیں؛ (1):پہلی یہ کہ آپ نیکی کی دعوت دینے کے بہت حَرِیْص تھے اور کمال کی بات یہ ہے کہ صِرْف زبانی بَوْل کر ہی نیکی کی دعوت نہ دیتے بلکہ عَمَل کر کے بھی دِکھایا کرتے تھے، آپ نے منبر پر بیٹھ کر خُود عملی طور پر اذان کا جواب دیا، پِھر پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی ادا بتائی کہ جیسے میں نے کیا ہے، یہی رسولِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا بھی عَمَل مبارَک ہے، لہٰذا اَے عاشقانِ رسول! تم بھی اذان کا جواب دیا کرو! (2): دوسری بات یہ سیکھنے کو ملی کہ اذان کا جواب دینا رسولِ اَکْرم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی پاکیزہ ادا بھی ہے اور انتہائی ثواب کا کام بھی ہے۔
عموماً ہمارے ہاں اس آسان نیکی کی طرف تَوَجُّہ نہیں کی جاتی، اذان ہو رہی ہوتی ہے لوگ اپنے کاموں میں،باتوں وغیرہ میں مَصْرُوف ہوتے ہیں۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ بہارِ شریعت میں ہے: جب اذان ہو تو اُتنی دیر کے لیے سلام وکلام اورجوابِ سلام اورتمام کام مَوقوف کردیجیے یہاں تک کہ تِلاوت بھی، اذان کو غور سے سنیے اورجوا ب دیجیے۔ اذان کے دوران چلنا ،پھرنا ،برتن،گلاس وغیرہ کوئی سی چیز اُٹھانا ،کھانا وغیرہ رکھنا ، چھوٹے بچّوں