Share this link via
Personality Websites!
مطلب یہ کہ جب بندہ اپنی میں کو ختم کر لیتا ہے تب اسے اللہ پاک کا فضل نصیب ہوتا ہے، جب فضل نصیب ہوتا ہے تو اسے اللہ پاک کی معرفت مل جاتی ہے۔
نتیجۂ کلام یہ نکلا کہ اللہ پاک ہے، وہ ایک ہی ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس بات کے دلائل تو خُود ہمارے 5، 6فِٹ کے وُجُود میں بھی موجود ہیں مگر جب تک ہمارے اندر میں ہے، انا، تکبُّر اور خود پسندی موجود ہے، تب تک ہم اُن دلائل کو دیکھ نہیں سکتے، ان دلائل کو سمجھ نہیں سکتے، اس لئے لازِم ہے کہ ہم اپنی انا اور خُود پسندی کو مِٹائیں، اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! کائنات کے ذرّے ذرّے میں رَبّ کریم کی قدرتوں کے نشان نظر آنے لگیں گے۔
مٹ جائے یہ خُودی تو وہ جلوہ کہاں نہیں
دردا میں آپ اپنی نظر کا حجاب ہوں
یعنی اگرمیری میں،میری انا اور خُود پسندی مٹ جائے تو اللہ پاک کے جلوے ہر جگہ نظر آئیں گے مگر افسوس! میں آپ ہی اپنی نظر کا پردہ ہوں۔
یہ معرفت سےمتعلق چند باتیں تھیں، اب آئیے! آیتِ کریمہ کی مختصر وضاحت سنتے ہیں۔ اللہ پاک نے فرمایا:
كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ
ترجمہ کنزُ العِرفان:تم کیسے اللہ کے منکر ہو سکتے ہو
یہ تعجب دِلانے کا سُوال ہے:یعنی خُدا کا اِنکار کرنے والوں کوتعجب دِلایا جا رہا ہے کہ کتنی حیرت کی بات ہے، آخر تم اللہ پاک کا اِنْکار کر کیسے سکتے ہو؟ حالانکہ
وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْۚ-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۲۸)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami