Taqwa o Parhezgari

Book Name:Taqwa o Parhezgari

سنتا بلکہ میں اپنی موج مستی میں گم رہتا آہ ! اسی طرح گناہوں بھری زندگی گزر رہی تھی۔ قسمت اچھی تھی کہ دعوت اسلامی کا   دینی ماحول میسر آگیا سبب کچھ اس طرح بنا کہ ایک دن میں نے دیکھا کہ میرا ایک دوست جو کل تک چوریاں کرتا تھاوہ آج دعوتِ اسلامی کے  دینی ماحول سے وابستہ ہے جس کی بر کت سے بری حرکات چھوڑ چکا ہے اور عاشقانِ رسول کے ساتھ صلوٰۃ وسنّت کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے اوراس پر بھی دعوتِ اسلامی کا مدنی رنگ چڑھتاجا رہا ہے۔ اس کے بعدمیں بھی اس کے ساتھ اجتماعات میں شرکت کرنے لگا پھر ایک اسلامی بھائی نے مجھ پر انفرادی کوشش کرکے رمضانُ المبارک کے آخری عشر ے میں اعتکا ف کرنے کا ذہن بنایا تو میں اعتکاف میں بیٹھ گیا ۔ جہاں میں نے نماز ، وضو ، غسل کے مسائل پاکی نا پاکی کے مسائل سیکھے اور امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہمُ الْعَالِیَہ کا پُرسوزبیان “ پل صراط کی دہشت “ سناتو دل میں خوف ِخدا کا غلبہ ہو گیااور پل صراط کے خوفناک مناظر میری نظروں میں گھومنے لگے لہذااس کی دہشتوں اور ہولناکیوں سے بچنے کے لیے میں نے  کی بارگا ہ میں اشکباری کرتے ہوئے اپنے سابقہ گناہوں سے پکی سچی توبہ کی اور نیکیوں بھری زندگی گزارنے کے لیے دعوت اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ ہوگیا ، نمازِپنجگانہ کے ساتھ ساتھ نماز تہجد بھی ادا کرنے لگا ۔ سنّتوں بھرے اعتکاف کی بَرَکت سے دل میں قرآن پاک پڑھنے کا شو ق پیدا ہوا تو میں نے مدرسۃ المدینہ  بالغان میں داخلہ لے لیا جہاں میں نے قرآن پاک صحیح مخارج کیساتھ پڑھنا سیکھ لیا۔ یوں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  دینی ماحول نے میری زندگی یکسر بدل دی۔ تادم تحریر  “ نیک اعمال “ کے ذمہ دار کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کا دینی کام کر رہا ہوں۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                         صَلَّی اللہُ  عَلٰی مُحَمَّد