Share this link via
Personality Websites!
نیک اعمال میں سے ایک نیک عمل نمبر 17 یہ ہے کہ کیا آج آپ نے گھر اور باہر ہر چھوٹے بڑے سے اچھے انداز سے یعنی آپ جناب اور جی جی کہہ کر گفتگو کی؟ اگر آپ نیک کاموں کے پابند بننا چاہتے ہیں اور گناہوں کی عادت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو “ نیک اعمال “ کا رسالہ پُر کرنا شروع کردیں آہستہ آہستہ آپ نیکیوں کے پابند بن جائیں گے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!عورت ماں کے روپ میں وہ عظیم ہستی ہے کہ جس کا وجود باعثِ برکت ہے ، جو گھر کی زینت ہے ، گھر کا سکون جس کے دَم سے قائم رہتا ہے ، جسے محبت کیساتھ دیکھنے سے حجِ مقبول کا ثواب ملتا ہے ، جس کی خدمت رِضائے الٰہی کا سبب ہے اور جس کے بغیر گھر اُجڑا ہوا چمن لگتا ہے ، اسی کی گود سے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ، صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن جیسی جلیلُ القدر ہستیوں نے جنم لیا ، ماں کے احسانات کی کوئی حد نہیں ، ماں تکلیفوں پر صبر کرتی ہے ، ماں اولاد کی خواہشات کی خاطر اپنی خواہشات کو قربان کردیتی ہے ، ماں اولادکی ولادت ، دودھ پلانے ، اس کی تربیت اور راتوں کو جاگنے کی تکلیفیں اٹھاتی ہے۔ ماں بھوکی سو جاتی ہے مگر اولاد کو بھوکا سونے نہیں دیتی ، الغرض ماں اپنی اولاد کے سکھ کی خاطر سب کچھ برداشت کرلیتی ہے مگر افسوس کہ بدلے میں اسے دکھ اور تکلیفیں ہی ملتی ہیں ، ماں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا اور اسے ہر دور میں تختۂ مشق بنایا جاتا رہا ، خصوصاً بڑھاپے میں اس کے ساتھ جو کچھ سلوک کیا جاتا رہا ہے اس کے تصور (Imagination) سے ہی بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں (الامان والحفیظ) لہٰذا اسلام نے اس دکھ درد کی ماری ماں کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے سب سے پہلے آوازِ حق بلند کی اور دنیا کو بتایا کہ ماں وہ محترم ہستی ہے کہ جس کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر چارہ نہیں ، ربّ کی رِضا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami