Share this link via
Personality Websites!
کے علاوہ فقراءومساکین کی مددکرنےیااپنےقریبی رشتہ داروں کی مدد کرنےکے لیے کمائےیہ مستحب اور نفل عبادت سے افضل ہے۔ اوراس لیے کمانا کہ مال ودولت زیادہ ہونے سے میری عزت ووقار میں اضافہ ہو گا ، فخر وتکبر کی نیت نہ ہو اتنا کمانا مباح ہے۔ اور اگرکمانے سے مقصد فقط مال کی کثرت یا فخر و تکبرہے تو منع ہے۔ ([1])
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!یقیناًحرص سے بچنا ناممکن کہ یہ انسان کے خمیر میں شامل ہے ، لیکن بُری حرص کو نیکی کی حرص میں تبدیل کرنا ممکن ہے۔ بُری حرص سےبچنےکےلیے* بارگاہِ الٰہی میں حِرْص سےبچنےکی دعاکیجئے* حِرْصِ مال کے نقصانات پرغورکیجئے* صبروقناعت اپنالیجئے* خواہشات کوکنٹرول کیجئے* اپنے رب پرحقیقی توکل اوراخراجات میں میانہ روی اختیار کیجئے * لمبی امیدیں نہ لگائیے* موت کو یادکیجئے* میدانِ محشر میں مالداروں سےحساب کاتصورکیجئے* سخاوت کی عادت اپنا لیجئے* مال کےحریصوں کےعبرتناک انجام اپنے پیشِ نظر رکھئے ۔
پیارےپیارےاسلامی بھائیو!متعلق سنا بھائیوے یال کے لئے کچھ جمع کرنے کی مال ودولت ، منصب وشہرت اوردیگردنیاوی چیزوں کی بُری حرص سےبچ کرنیکیوں کاحریص بننابےحدضروری ہے ، سرکارِذی وقار ، مدینے کےتاجدارصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نیکیوں کا حریص بننے کی تاکید فرماتے ہوئےارشاد فرمایا : اس پرحرص کروجوتمہیں نفع دےاوراللہ پاک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami