Share this link via
Personality Websites!
اور اپنی آخرت تو برباد کر لیتا ہی ہےدنیا میں بھی ذلیل و رسوا ہوجاتاہے۔
حرص و ہوسِ بَد سے دل تُو بھی سِتَم کر لے تُو ہی نہیں بے گانہ دُنیا ہی پَرائی ہے([1])
شعر کی مختصر وضاحت : اس شعر میں اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت امام احمد رضاخانرَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اپنے دل سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں : اے دل بُری لالچ اور طمع کے ساتھ جتنا ظلم کر سکتا ہے کر لے کیونکہ صرف تُو ہی تو نہیں ساری دنیا ہی اجنبی اور بیگانی ہے۔ جو صرف اپنی خواہشات کے پیچھے پڑی ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
مال کی حرص کے علاوہ ایک حرص لمبی زندگی کی بھی ہے جس کی خواہش فی زمانہ شاید ہر شخص اپنے دل میں لیے پھرتاہے ، لمبی لمبی امیدیں اور منصوبے(Plans) بنائے بیٹھاہے حالانکہ خدائے جبا ر و قہّار مشرکوں کی لمبی زندگی کی خواہش کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :
وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍۚۛ-وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْاۚۛ-یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍۚ-وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ
ترجمۂکنزالایمان : اوربےشک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زِیادَہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں اور مشرکوں سے ایک کو تمنا ہے کہ کہیں ہزار برس جیئے اور وہ اسے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami