Seerate Imam Ahmad Bin Hamnbal

Book Name:Seerate Imam Ahmad Bin Hamnbal

روٹی میں نہیں کھاؤں گا، یہ کسی فقیرکو دےدو مگر اُس کو بتا دینا کہ اس روٹی میں قاضی کا گوندھا ہوا آٹا شامل ہے ۔ اِتّفاق سے چالیس(40) روز تک کوئی فقیرنہیں آیا یہاں تک کہ روٹی میں بُو پیدا ہو گئی ۔ خادِم نے وہ روٹی دریائے دِجلہ میں ڈال دی۔حضرت امام احمد بن حَنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کا تقویٰ مرحبا! آپ نے اُس دن کے بعد دریائے دِجلہ کی مچھلی کبھی نہیں کھائی۔(تذکرۃ الاولیاء ص ۱۹۷)

(2)حضرت اِدریس حَدّاد رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک بارحضرت امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ حج کے لئے مکے شریف حاضر ہوئے۔ وہاں آپ پر تنگ دستی غالب آگئی۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کے پاس ایک بالٹی تھی۔وہ آپ نے کسی چیز کے بدلے ایک سبزی بیچنے والے کے پاس گِروی رکھ دی۔جب اللہ پاک نے آپ کی تنگ دستی دُور فرما دی تو آپ اس سبزی بیچنے والے کے پاس آئے اور اسے رقم دے کر اپنی بالٹی کا مطالبہ کیا۔ سبزی بیچنے والا کھڑا ہو ا اور ایک جیسی دو بالٹیاں حاضر کر دیں اور کہنے لگا:مجھ پر آپ کی بالٹی مشکوک ہو گئی ہے، آپ ان میں سے جو چاہیں لے لیں۔تو آپ نے فرمایا:مجھ پر بھی معاملہ مشکوک ہوگیا ہے کہ کون سی بالٹی میری ہے؟ اللہ کریم کی قسم!میں اسے بالکل نہ لوں گا۔سبزی بیچنے والے نے کہا:اللہ کریم کی قسم! میں بھی اس کو دئیے بغیر نہ چھوڑوں گا۔آخر کار دونوں اس کو فروخت کرکے رقم صدقہ کرنے پر رضامند ہوگئے۔(الروض الفائق ص ۲۲۱، بتغیرٍ)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                            صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمّد

سُبْحٰنَ اللہ!آپ نے سنا کہ حضرت امام احمد بن حَنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کس قَدَر مُتَّقِی اور پرہیز گار تھے کہ آپ نے بالٹی اس ڈر سے نہیں لی کہ وہی بالٹی کسی اور کی نہ  ہواور یوں قیامت میں لینے کے دینے نہ پڑجائیں۔یہ بھی پتا چلا کہ پہلے کےتاجر بھی خوفِ خدا اور تقوے کی دولت سے مالا مال ہوتے تھے نیز یہ