Book Name:Aala Hazrat Ki Shayri Aur Ishq-e-Rasool

قرآن خوانی، نعت خوانی اورسیرتِ اعلیٰ حضرت پربیانات وغیرہ کاشیڈول ہوتاہے،اس سال چونکہ یہ اجتماع یومِ رضاشبِ جمعہ کوہے اوردعوتِ اسلامی کا ہفتہ واراجتماع اکثر شہروں میں شبِ جمعہ(جمعرات اورجمعہ کی درمیانی رات)کوہی ہوتاہے،اس لیے اس بارملک بھر میں اجتماع یومِ رضااورہفتہ واراجتماع ایک ساتھ ہی ہورہے ہیں۔

آئیے! سب سے پہلے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی سیرت کی کچھ مختصر جھلکیاں سنتے ہیں، چنانچہ ٭اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی ولادتِ باسعادت 10شوَّالُ الْمُکَرَّم ہفتے کے دن ہوئی ٭اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے تقریباً 4 سال کی عمر  میں ناظرہ قرآنِ پاک ختم کرلیا اور اسی عمر میں فصیح (یعنی خالص) عربی زبان میں گفتگو فرمائی ۔٭اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے تقریباً 6 سال کی عمر میں پہلا بیان فرمایا٭اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے13 سال10 ماہ اور4 دن کی عمرمیں علومِ درسیہ سے فراغت  پائی،دستارِ فضیلت ہوئی،اسی دن فتویٰ لکھنے کاباقاعدہ آغازفرمایااوردرس وتدریس کابھی آغازفرمایا۔ ٭اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی تقریبا ً19 سال کی عمر میں  سنّتِ نکاح ادا ہوئی اور ازدواجی زندگی کی ابتدا ہوئی ٭اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کوتقریباً23 سال کی عمر میں پہلی باراور تقریباً51 سال کی عمر میں دُوسری بارزیارتِ حرمین شریفین کا شرف حاصل ہوا۔٭اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نےتقریبا ً 68سال کی عمر میں آخری وصیتیں لکھوائیں اوربالآخر علم و فن کایہ عظیم آفتاب 25صفرالمظفر 1340ھ،28 اکتوبر1921ء کوجمعۃ المبارک کے دن ٹھیک اذانِ جمعہ کے وَقْت تقریباً68 سال  کی عمر میں غروب ہوگیا۔(ماخوذازحیاتِ اعلیٰ حضرت ،جہانِ رضا، سوانحِ امام احمدرضا، تجلیاتِ امام احمد رضا ،تذکرہ امام احمد رضا)

اللہکریم کی ان پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں،اللہپاک ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔