Book Name:Aala Hazrat Ki Shayri Aur Ishq-e-Rasool

مدینے کا چاند بھی نور کی خیرات بانٹتا ہے، آسمانوں کا چاند جو روشنی دیتا ہے وہ ایک دو پہر تک کے لیے ہوتی ہے جبکہ مدینے کا چاند اگر نور کی جھلک بھی عطا فرما دے تو دنیا و آخرت دونوں روشن ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ایک اور مقام پر نور کی خیرات لینے کے لیے عرض کرتےہیں:

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

مِرا دِل بھی چمکا دے چمکانے والے

(حدائقِ بخشش، ص۱۵۸)

چودھویں کا چاند اور طیبہ کا چاند

       (5) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں  کہ چاند سورج تو آقا کریم، رسولِ عظیم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے رُخِ روشن کے سامنے کچھ بھی نہیں، چنانچہ اِرْشاد فرماتے ہیں:

خُورشید تھا کِس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر

بے پردہ جب وہ رُخ ہوا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

(حدائقِ بخشش، ص۱۱۰)

            یعنی عین دوپہر کے وقت سورج اپنے عروج پر ہو، پھر رات ہو جائے اور چاند اپنے جوبن پر آجائے، ایسے میں جانِ عالَم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا رُخِ انور پردے سے باہر آئے تو سورج بھی شرما جائے گا، چاند بھی آنکھیں چُرائے گا اور منہ چھپائے گا کیونکہ جیسے میرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئی۔ اس میں اس حدیثِ پاک کی طرف اشارہ بھی ہے کہ حضرت جابر بن سَمُرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوچاندنی رات میں سُرخ(دھاری دار) حُلّہ پہنے ہوئے دیکھا،میں کبھی چاندکی طرف دیکھتا اور کبھی آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکے چہرۂ اَنور کو دیکھتا،تو مجھےآپ کا