Share this link via
Personality Websites!
ہر مبلغہ بیان کرنے سے پہلے کم از کم تین بار پڑھ لے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
نبیِّ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:
اَوْلَی النَّاسِ بِیْ يَوْمَ الْقِیَامَةِ اَکْثَرُھُمْ عَلَیَّ صَلَاةً
یعنی قِیامَت کےدن لوگوں میں سب سےزیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا،جو سب سے زیادہ مجھ پر دُرُود شریف پڑھتا ہوگا۔(ترمذی،ابواب الوتر،باب ماجاء فی فضل الصلاة...الخ، ۲/۲۷ ،حدیث:۴۸۴)
حکیمُ الاُمّت حضرتمفتی احمدیارخان نعیمی رَحْمَۃُاللّٰہِ عَلَیْہ اس حدیْثِ پاک کےتحت اِرشَادفرماتے ہیں:قِیامَت میں سب سےآرام میں وہ ہوگا،جوحُضُور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کےساتھ رہےاورحُضُور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کی ہَمراہی(یعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ساتھ)نصیب ہونے کا ذریعہ دُرُود شریف کی کثرت ہے۔ (مرآۃُ المناجیح، ۲/۱۰۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پىاری پىاری اسلامى بہنو! حُصُولِ ثَوَاب کی خَاطِر بَیان سُننےسے پہلےاَچّھی اَچّھی نیّتیں کر لیتی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami