Book Name:Ghos-e-Pak Ka Khandan

کے انداز پر مشتمل ایک دلنشین  واقعہ سنتی ہیں،چنانچہ

شراب کے مٹکے  توڑ دئیے

حضرت سَیِّدُناابُوصالح مُوسیٰ جنگی دوست رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ ایک دن جامع مسجدکی طرف جارہے تھے،دیکھا کہ بادشاہِ وَقْت کے چند مُلازِم شَراب کے مٹکے سروں پراُٹھائے، بادشاہ کے محل کی طرف بڑھے چلےجارہے تھے۔جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے یہ منظر دیکھا تو بُرائی سے روکنے کے مُقدَّس جذبے سے سرشار ہو کر آگے بڑھے اور ان کے مٹکوں کوتوڑدیا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے رُعب و دَبْدَبے،جَلال اوربزرگی کو دیکھ کرکسی بھی مُلازِم کو کچھ کہنے کی ہمّت نہ ہوئی لیکن انہوں نے جاتے ہی بادشاہ کے سامنےسارا واقِعہ بیان کردیا۔بادشاہ نےکہا:سیّدموسیٰ(رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)کوفَوراً میرے دربار(Court)میں پیش کرو!۔چُنانچہ حضرت سیّد مُوسیٰ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہدربارمیں تشریف لے آئےتوبادشاہ نے غُصّے میں جَل بُھن کر پوچھا:آپ کون ہوتے ہیں میرے مُلازمین کی محنت کو ضائع کرنے والے؟حضرت سیدموسیٰ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے فرمایا:میں مُحْتَسِب(یعنی نگرانی کرنے والا)ہوں اور میں نے اپنافرض اَداکیاہے۔بادشاہ نے کہا:آپ کس کے حکم سے مُحْتَسِب(یعنی نگرانی کرنے والے)مُقَرَّرکئے گئے ہیں؟حضرت سَیِّدمُوسیٰرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے رُعب دارلہجے میں جواب دیا:جس کے حکم سے تم حکومت کر رہے ہو۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  کے  اس اِرشادسےخلیفہ پرایسی رِقَّت طاری ہوئی کہ وہ گھٹنوں پرسَررکھ کر بیٹھ گیااورتھوڑی دیربعد سَراُٹھاکر عَرْض کی:حُضُور!مٹکوں کو توڑنے میں کیا حکمت تھی؟حضرت سیدابُوصالح مُوسیٰرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اِرْشادفرمایا:تمہارے حال پرشفقت کرتے ہوئے اور تمہیں دُنیاو آخرت کی رُسوائی اورذِلّت سے بچانے کی خاطر ایساکیا۔خلیفہ پرآپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  کی اس حکمت بھری گفتگوکابہت اثرہوااورمتاثر ہوکر وہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ