Book Name:Muaf Karny K Fazail

۳/۴۰۹،حدیث:۲۰۳۳)

جس کی شاندار مثال فتحِ مکّہ کا واقعہ ہے کہ مکّہ فتح ہونے سے پہلے جن کُفّارِ بَدْ اَطوار کی طرف سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر زمین تنگ کردی گئی تھی،طرح طرح کی دَرْدناک تکلیفیں دی گئی تھیں،مکّہ فتح ہونے اور مسلمانوں کو غَلَبہ حاصِل ہونے کے بعد دیگر قیدیوں کے ساتھ ساتھ تکلیفیں دینے والے اُن خونخوار درندوں کو بھی گرفتار کرکے بارگاہِ مُصْطَفٰے میں حاضِر کِیا گیا تھا، اگر اُس موقع پر کوئی اور دُنْیوی شہنشاہ ہوتا تو شاید اُن کے لئے سخت سے سخت سزائیں تجویز کرتا، مگر قربان جائیے!نبیِّ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُنہیں بھی مُعافی سے سرفرازفرمایا،چنانچہ

جان کے دُشمن خون کے پیاسوں کو بھی شہرِ مکّہ میں

عام مُعافی تم نے عطا کی کتنا بڑا اِحسان کیا

(وسائلِ بخشش مُرمّم،ص ۱۹۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                          صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فتحِ مکّہ کے دن عام مُعافی کا اِعلان

دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی  کتاب”سِیرتِ مُصْطَفٰے“کے صفحہ نمبر437 پر ہے:     ۸     ؁ھ میں جب مکّہ فتح ہوا تو تاجدارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شہنشاہِ اِسلام کی حَیْثِیَّت سے حرمِ الٰہی میں سب سے پہلا دربارِعام مُنْعَقِد فرمایا،جس میں اَفْواجِ اِسلام کے علاوہ ہزاروں دُشمنانِ اسلام کا ایک زَبَرْدَسْتْ ہُجوم تھا۔ اِس شہنشاہی خُطْبے میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صِرْف اَہلِ مکّہ ہی سے نہیں بلکہ تمام  لوگوں سے خطابِ عام فرمایا۔خُطبے کے بعد شہنشاہِ کَونَیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےاِس ہزاروں کے مَجْمَعْ میں ایک گہری نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ سردارانِ قُریش سَرجُھکائے،نگاہیں نیچی کئے ہوئے،لَرزاں و تَرساں کھڑے ہوئے ہیں۔ اُن ظالموں اور جَفاکاروں میں وہ لوگ بھی تھے،جنہوں نے