Book Name:Masjid kay Aadab (Haftawar Bayan)

وغیرہ کوئی چیز بھی اِس طرح نہ ڈالئیے  کہ آواز پیدا ہو۔اگر موبائل فون ہو تو مسجِد میں اس کی گھنٹی  بھی بند رکھئے ، افسوس! فی زمانہ اس کی احتیاط بہت کم کی جاتی ہے،یہاں تک کہ مسجدُ الحرام شریف میں اور وہ بھی عین خانۂ  کعبہ کے طواف میں لوگوں کے موبائل فون کی گھنٹیاں بلکہ مَعَاذَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ میوزیکل ٹیونز (Musical Tunes) گونجتی رہتی ہیں ،حالانکہ میوزیکل ٹیون تو مسجِد کے علاوہ بھی ناجائزوگناہ ہے۔(تو مسجد میں تو حکم اور سخت ہوگا۔)

12مدنی کاموں میں سے ایک مدنی قافلوں میں سفر کرنابھی ہے

میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!سُنَّتوں کی خدمت  کےلیے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیجئے۔ذیلی حلقے کے 12مدنی کاموں میں سے ایک مَدَنی کام”مَدَنی قافلے  میں سفر کرنا“بھی ہے۔ اَمِیْرُالمؤمنین حضرت سَیّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :میں اور میرا  ایک انصاری پڑوسی بَنُو اُمَیّہ بن زید (کے محلّے) میں رہتے تھے، جو مدینۂ پاک کی بُلندی پر تھا ،ہم باری باری سرکارِ والا تَبار،شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تھے،ایک دن وہ مدینۂ مُنوّرہ جاتے اور واپس آکر اس دن کی وَحْی کاحال مجھےبتادیتے اور ایک دن میں جاتا اورآکر اس دن کی وَحْی کی خبر کا حال اُنہیں بتاتا۔ (صَحیح بُخاری ج ۱ ص۵۰حدیث۸۹)

میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!جیسا کہ ہم نے سُنا کہ مدنی قافلوں میں سفرکرکے بھی مساجد کو آبادکرنے کی کوشش کی جاتی ہے،مدنی قافلوں میں سفر کی سعادت حاصل کرنے والے عاشقانِ رسول نہ صرف خود مسجدوں کوآباد کرتے ہیں ،بلکہ دِیگر مسلمانوں کوبھی نیکی کی دعوت کے ذریعے مسجدیں آباد کرنے کی ترغیب دِلاتے ہیں ۔آئیے!ہم بھی ہاتھوں ہاتھ مدنی قافلے میں سفر کے ذریعے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے گھر’’مسجد‘‘کوآباد کرنے کی نیّت سے مدنی قافلوں میں سفر کی نیّت کرتے ہیں ۔

ہمیں بھی  ہر ماہ کم اَزْ کم تین دن کے مدنی قافلے میں ضرور سفرکرنا چاہیے ۔ اس سے جہاں ہمیں علمِ