Book Name:Masjid kay Aadab (Haftawar Bayan)

صدرُالْاَ فاضِل حضرت علّامہ مولانا سیِّدمحمد نعیم الدّین مُراد آبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اِس آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں :یعنی لباسِ زینت اور ایک قول یہ ہے کہ کنگھی کرنا،خوشبو لگانا داخلِ زینت ہے اور سنّت یہ ہے کہ آدَمی بہتر ہَیئَت(یعنی عمدہ صورت و حالت)کے ساتھ نَماز کے لئے حاضِر ہو، کیونکہ نَماز میں ربّ عَزَّ  وَجَلَّ سے مُناجات ہے تو اس کے لئے زِینت کرناعطر لگانا مُستَحب ہے۔ (خَزائنُ العرفان ص۲۹۱)

مسجد میں باتوں کی بدبُو!

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہوسکتا ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ میں تو پانچوں وَقْت پاک صاف ہوکر خُوشبو لگاکر مسجد میں جاتا ہوں اور مسجد کی اَشْیاء وغیرہ   بھی خراب نہیں کرتا ہوں ، تواس طرح میں بدبو پھیلاکر مسجد کی بے ادبی سے بچ جاتاہوں ۔تو جواباً عرض ہے  ضروری نہیں کہ ظاہری چیزوں سے ہی مسجد میں بدبُوپھیلتی ہو، بلکہ آج ہماری اکثریت ایسے مَرَض میں مبُتلا ہے کہ جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا اور ہم مسجدیں ’’بدبُودار‘‘کرتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ  ایک روایت میں ہے ’’ جو لوگ غیبت کرتے اورمسجِد میں دُنیا کی باتیں کرتے ہیں ، ان کے منہ سے وہ گندی بدبُونکلتی ہے، جس سے فِرِشتے،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے حُضُور ان کی شکایت کرتے ہیں ۔‘‘(فتاویٰ رضویہ  مخرجہ ، ۱۶ /۳۱۲)

اس روایت کی روشنی میں ہم اپنا اور اپنے معاشرے کا جائزہ لیں کہ کیا ہمارے ذہن کے کسی گوشہ میں کبھی یہ بات آئی کہ مسجد میں غیبت کرنا،مسجد میں دُنیا کی باتیں کرنا بھی منہ سے گندی بدبُو کے نکلنے کاسبب ہے؟کیا کبھی اس بات کی طرف بھی ہمارادھیان گیا کہ ہمیں مسجد میں فضول گوئی نہیں کرنی چاہیے؟یادرکھئے!مساجد کی تعمیرکا مقصد اس میں دنیاوی باتیں کرنانہیں ، بلکہ یادِ الٰہی  میں مشغول رہنا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے:جس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے داعی(یعنی دعوت دینے والے) کی آواز پر لبیک کہا اوراللہ تعالٰی کی مسجدیں اچھے طور پر تعمیر کیں ،تو اس کے عِوَض اللہتعالٰی کے یہاں جنّت ہے۔عرض کی