Share this link via
Personality Websites!
کامیاب ہوجاتے ہیں تو موقع کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور پھر اُس کی عزّت، وقار ختم کرنے اور دوسروں کی نظر میں اُسے نیچا دِکھانے کے لئے کسی ایسی محفل میں یا ایسی مُعَزَّز شخصیَّت کے سامنے، اُس کی پولیں(کمزوریاں) کھولتے ہیں کہ وہ کسی کو منہ دِکھانے کے قابل نہیں رہتا اور شرم سے پانی پانی ہوجاتا ہے،حالانکہ نبیِ کریم، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تعلیمِ اُمّت کے لئے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو مُخاطب کرکے ارشاد فرمایا: مجھے کوئی صحابی کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں۔([1])
مشہور مُحَدِّث حضرت سَیِّدُنا شیخ عبدُالحق مُحَدِّث دہلَوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بیان کردہ حدیثِ پاک کے اِس حصّے ”مجھے کوئی صَحابی کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے“کی وَضاحت کرتے ہوئے فر ما تے ہیں:یعنی کسی کی کوتاہی ،بُرےفعل،بُری عادت،اُس نے یہ کِیا ،یا اُس نے یہ کہا ، فُلاں اِس طرح کہہ رہا تھا (اَلْغَرَض اِس طرح کی باتیں کوئی بھی کسی کے بارے میں نہ پہنچایا کرے)۔ ([2]) نیز حدیث شریف کے اِس حصّے”میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں “ کاخُلاصہ کرتے ہوئے مُفَسِّرِِشہیر،حکیمُ الاُمَّت مُفتی اَحمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:(یعنی) کسی کی دُشمنی، کسی سے نفرت دل میں نہ ہُوا کرے۔یہ بھی ہم لوگوں کیلئے ایک قانون کا بیان ہے کہ اپنے سینے(مسلمانوں کے کینے سے) صاف رکھو تاکہ اُن میں مدینے کے اَنوار دیکھو، ورنہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکا سینۂ رحمت، نورِ کرامت کاخزانہ ہے ،وہاں بُغُض و کینےکی پہنچ ہی نہیں۔ ([3])
بہرحال اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ دوسروں کی ذات میں عیب ڈُھونڈنے والے اگر اپنا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami