Book Name:Shan e Sahaba

بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خَیْر کو زیورِ اِخلاص سے آراستہ فرما کر دونوں جہاں کی بھلائیاں نصیب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم                   

12مدنی کاموں میں سے ایک مدنی کام ”صدائے مدینہ لگانا“بھی ہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِخْلاص واِسْتِقامت کے ساتھ نیکی کی دعوت عام کرنےکیلئے ذیلی حلقے کے 12 مَدَنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصَّہ لیجئے ۔ان 12 مَدَنی کاموں میں سے روزانہ کا ایک مَدَنی کام ”صَداۓ مدینہ لگانا “ بھی ہے۔دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں مُسلمانوں کونَمازِ فَجر کیلئے جگانے کو صَدائےمدینہ لگانا کہتے ہیں۔ یقیناً فی زمانہ مُسَلمان دِین سے بہت دُور اورفکرِ آخرت کوچھوڑ کر دُنیا  کی فکر میں مصروف ہیں ۔ سُنَن ونَوافل تو دُور  کی بات لوگوں کی  اَکْثَرِیَّت فرض نمازیں تک قَضا کر دیتی ہے۔ اسی وجہ سے ہماری مَساجد وِیران  ہوگئیں،ایسے میں انہیں دوبارہ آباد کرنے کا عزم کرنا اور اسی عزم کی تکمیل کےلیے مسلسل کوشش کرنا یقیناً سَعادَت کی بات  ہے۔ لہذا کوشش کیجئے! اور مَساجد کی آباد کاری کیلئے روزانہ صَدائے مدینہ لگانے کا معمول بنالیجئے ۔

اَمِیْرُالمؤمنین حَضْرتِ سیّدُنا عمرِ فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا یہ معمول تھاکہ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ لوگوں کو نماز کےلیے بیدار کرتے ، جب نمازِ فجر کےلیے تَشْرِیْف  لاتے، راستے میں لوگوں کو نماز کےلیے جگاتےہوۓ آتے، نیز اَذانِ فجر کے فوراً بعد اگر مسجد میں کوئی سویا ہوتا تو اسے بھی جگاتے۔ (طبقات کبریٰ، ذکر استخلاف عمر، ۳/۲۶۳) یاد رکھئے!اگر ہماری اِنْفِرادی کوشش سے ایک اسلامی بھائی بھی نمازی بن گیا تو اسے  تو نیک اَعْمال کا ثواب ملے گا ہی ،ساتھ میں ہم بھی اس ثواب سے مالامال ہوں گے۔ کیونکہ ”نیکی کی طرف رَہْنُمائی کرنے والا بھی نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔“(جامع ترمذی ،کتاب العلم ، باب ماجاء الدال علی الخیر الخ ،ج۴، ص۳۰۵، رقم :۲۶۷۹)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کامل مسلمان بننے کیلئے، غیبت کرنے سُننے کی عادت نکالنے،