حضرت سیدتنا اُمِّ رومان رضی اللہ عنہا

اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا خدیجۃُ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد حضرت سیّدَتُنا خَولہ بنتِ حکیم رضی اللہ عنہا مکّۂ مکرّمہ کے ایک معزز گھرانے کی صاحبزادی کے لئے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پیغامِ نکاح لے کر گئیں، انہوں نے صاحبزادی کی والدہ سے کہا: اللہکریم نے آپ پر برکت نازِل فرمائی ہے۔ انہوں نے پوچھا:  کیسی  برکت؟ حضرت سیّدَتُنا خَولہ رضی اللہ عنہا نے کہا:مجھے سرکارِ مدینہ (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے آپ کی صاحبزادی کا رِشتہ مانگنے کے لئے بھیجا ہے۔ تو وہ خوش بخت خاتون اپنے شوہر سے مشورہ کرکے اس رشتے پر بخوشی راضی ہوگئیں، پھر نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس خوش بخت خاتون کی بیٹی سے نِکاح فرمایا۔(تاریخ طبری،ج 3،ص162 ملخصاً) رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پیغامِ نکاح اپنی صاحبزادی کے لئے قبول کرنے والی یہ خوش نصیب خاتون خلیفۂ اوّل حضرت سیّدُنا صِدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی زَوجہ اور اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدہ حضرت سیّدَتُنا اُمِّ رُومان رضی اللہ عنہا ہیں، یوں آپ رضی اللہ عنہا کو نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خوش دامن (یعنی ساس) ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ تعارف:آپ رضی اللہ عنہا کا اصل نام زینب بنتِ عامر یا زینب بنتِ عبد ہے۔ پہلے آپ حارث بن سَخْبَرہ کے عقد میں تھیں، ان سے آپ کے ایک بیٹے تھے جن کا نام حضرت سیّدُنا طفیل رضی اللہ عنہ ہے اور یہ حضرت سیّدَتُنا عائشہ رضی اللہ عنہا کے اَخْیافی (یعنی ماں شریک) بھائی اور صحابیِ رسول ہیں۔ یہ لوگ (بعض وجوہات کی بنا پر) اپنے علاقے سَرَاۃ سے ہجرت کرکے مکّۂ مکرّمہ آگئے۔(الاصابۃ،ج 8،ص391 ماخوذاً، تہذیب الکمال،ج 5،ص60) زمانۂ جاہلیت میں حضرت سیّدُنا صدیقِ اکبر رضیاللہ عنہ ان کے حَلِیْف[1]بنے، حارث بن سَخْبَرہ کے انتقال کے بعد حضرت سیّدُنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت سیّدَتُنا اُمِّ رُومان رضی اللہ عنہا سے نِکاح فرمایا اور ان سے حضرت سیّدُنا عبدالرّحمٰن اور حضرت سیّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی۔ (طبقات ابن سعد،ج 8،ص216 ملخصاً)  سیرتِ اُمِّ رُومان کی چند جھلکیاں: آپ رضی اللہ عنہا کا شمار قدیمُ الاسلام صحابیات میں ہوتا ہے۔ آپ نیک اور پرہیزگار خاتون تھیں۔ اسلام کی خاطر آپ نے بھی بہت قربانیاں دیں، آپ نے رسولِ کریم صلَّی اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کی سعادت حاصل کی نیز جن خواتین نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بیعت کا شرف پایا ان میں آپ کا نام بھی شامل ہے۔(طبقات ابن سعد،ج 8،ص216ملخصاً) شکل و صورت اور بہترین عادتوں اور خصلتوں کی بنا پر حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرمایا کرتے تھے کہ اُمِّ رُومان (جمالِ صورت اور حسنِ سیرت میں) جنّت کی حُور جیسی ہیں۔(جنتی زیور ص524 ملخصاً) وِصال مبارک: ذوالحجۃ الحرام6ہجری کو مدینۂ منوّرہ زادہَااللہ شرفاً وَّ تعظیماً میں آپ کا وِصال ہوا۔ ایک روایت کے مطابق رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خود ان کی قبر مبارک میں اُترے (طبقات ابن سعد،ج 8،ص216) اور ان کے لئے دُعائے مغفرت فرمائی اور ان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ اُمِّ رُومان نے تیری اور تیرے رسول کی راہ میں کیا کیا مصیبتیں جھیلیں۔(الاصابۃ،ج 8،ص392)

اللہ پاک کی ان پر رَحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی



1۔۔۔ حلیف سے مراد مولیٰ موالات ہے جس سے میت نے زندگی میں معاہدہ کیا ہو کہ تو میرا وارث اور میں تیرا وارث جو پہلے مرے اس کا مال دوسرا لے، اسے بھی بعض صورتوں میں میراث مل جاتی ہے جب کہ اس کے اوپر وارثین موجود نہ ہوں۔(مراٰۃ المناجیح،ج4،ص370)

Share

Articles

Comments


Security Code