شیخ سعدی رحمۃ اللہ کے فرامین

بزرگانِ دین کے مبارک فرامین

*مولانا ابوریان عطاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ نومبر2023

شیخ سعدی رحمۃُ اللہ علیہ کے فرامین

(1)برائی کا بدلہ برائی سے دینا کوئی بڑی بات نہیں مردانگی تو یہ ہے کہ تم برا سلوک کرنے والے سے بھی اچھا سلوک کرو۔

(بوستانِ سعدی،ص 91)

(2)جو تقدیر اور (میسّر)رزق پر مطمئن نہ ہو اس نے نہ تو رَبّ کو پہچانا اور نہ ہی اس کی اطاعت گزاری کی ، قناعت انسان کو دولت مند کر دیتی ہے۔ (بوستانِ سعدی، ص 167)

(3)اگر خواہشات کے چُنگل سے دامن چُھڑا لیا جائے تو (کامیابی کی) بلندیوں تک پہنچا جاسکتا ہے۔(بوستانِ سعدی،ص 167)

(4)نیکی اور فرماں برداری کا دروازہ کھلا ہے لیکن ہر شخص نیک کام پر قادر نہیں، رب کی بارگاہ میں اس کے حکم کے بغیر حاضری نہیں ہوسکتی۔(بوستانِ سعدی، ص 222)

(5)تم نے اس دُنیا میں رہنے کا سامان تو کیا مگر جانے کی تدبیر نہیں کی، قیامت میں جب جنت کا بازار سجے گا تو نیک اعمال کے مطابق مرتبے دئیے جائیں گے ، جو جس قدر (اعمال) کی پونجی لائے گا اتنا ہی سودا لے سکے گا، اگر (نیکیوں کے معاملے میں) مفلس ہوا تو شرمندگی اُٹھائے گا، کیونکہ بازار جس قدر بھرا ہوتا ہے خالی ہاتھ والے کا دل اتنا ہی پریشان ہوتا ہے۔(بوستانِ سعدی،ص 223)

(6)تم کسی کی ایک خوبی دیکھو تو اس کی دس خامیوں کو نظرانداز کردیا کرو، کسی کی ایک خامی پر اس قدر انگلیاں مت اُٹھاؤ کہ اس کی خوبیوں اور فضیلتوں کے انبار کی کوئی اہمیت ہی نہ رہے ، انسان 100 خوبیوں پر کان نہیں دھرتے مگر ایک خامی پر شور مچاتے ہے۔

(بوستانِ سعدی، ص 205، 206)

(7)غم اور خوشی باقی نہیں رہتی عمل کا بدلہ اور نیک نام رہتا ہے، حکومت، مرتبے اور لشکر پر بھروسا نہ کر اس لئے کہ یہ چیزیں تو تجھ سے پہلے بھی تھیں اور تیرے بعد بھی باقی رہیں گی۔(بوستانِ سعدی، ص 59)

(8)اپنے پرانے (خدمت گزاروں )کا ” گریڈ“ بڑھاؤ کیونکہ جسے پالا گیا ہے وہ غداری نہیں کرتا، جب تمہارا خدمت گزار پرانا ہوجائے تو اس کے سالہا سال کا حق فراموش مت کرو، اگرچہ بڑھاپے نے خدمت کرنے سے (اب)اس کے ہاتھ باندھ دئیے ہیں مگر تم تو اسی طرح خیرخواہی کر سکتے ہونا۔ (بوستانِ سعدی، ص 17)

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

(9) محبوبانِ خُدا کی یادگاری کے لئے دن مقرر کرنا بےشک جائز ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 29/202)

(10)(والد کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا) اولاد کے ساتھ تنہا خوری نہ بَرتے (یعنی اولاد کے بغیر اکیلے مت کھائے) بلکہ اپنی خواہش کو اِن کی خواہش کے تابِع (یعنی ماتحت)رکھے جس اچھی چیز کو اِن کا جی چاہے اِنہیں دے کر اِن کے طُفَیل میں(یعنی واسطے سے) آپ بھی کھائے، زیادہ نہ ہو تو اِنہیں کو کھلائے۔ (فتاویٰ رضویہ، 24/453)

عطّار کا چمن، کتنا پیارا چمن!

(11)غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ پاک نے ہر ایک کی روزی تو اپنے ذمۂ کرم پر لی ہے مگر ہر ایک کی مغفرت کا ذمّہ نہیں لیا۔ وہ مسلمان کس قدر نادان ہے جو رزق کی کثرت کے لئے تو مارا مارا پھرے مگر مغفرت کی حسرت میں دل نہ جلائے۔ (خود کُشی کا علاج، ص 58 تا 59)

(12)والدین سے خدمت لینے کی بجا ئے اِن کی خدمت کیجئے۔ (مدنی مذاکرہ، 16 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code