قربانی کا گوشت

بھئی جلدو کرو کب بنےگی کلیجی ؟ حاجی امجد صاحب  نے کِچن میں جھانکتے ہوئے صدا لگائی ، بس دَم پَر ہے پانچ دس  منٹ لگیں گے۔ شہناز بیگم نے تسلّی دیتے ہوئے کہا ۔

اچھا تو  میں ذرا ارشد بھائی اور جَمشید چچّا  کو گوشت دے آؤں۔ یہ کہہ کر حاجی امجد بڑا سا شاپر اُٹھائے چل پڑے۔ گوشت کاسارا ڈھیر ابھی چٹائی پر ہی پڑا تھا حاجی صاحب کے جانے کےبعد شہناز بیگم دونوں بیٹوں کوساتھ لگاکر اس ڈھیر کو ڈیپ فریزر میں سیٹ کرنے میں مصروف ہو گئیں۔

حاجی صاحب کی واپسی تک تمام گوشت فریز ہوچکاتھا ، حاجی صاحب نے جونہی لاؤنج میں قدم رکھا گوشت کی چٹائی کانقشہ دیکھ کر  حیرت سے ان کی آنکھیں پھیل گئیں کیونکہ اب وہاں چار مَن گوشت کے بجائے صِرف سری پائے ،  ہڈیاں اور چندکلو چربی و گوشت کی بوٹیاں اپنا ادھورا سا نظارہ پیش کررہی تھیں۔

حاجی صاحب نے سوالیہ نظروں سے شہناز بیگم کی طرف دیکھ کر پوچھا : یہ کیا ہے ؟

شہناز بیگم فاتحانہ انداز میں مسکراکر بتانے لگیں : میں نے اسپیشل گوشت فریج میں save کردیاہے بلکہ پیکٹ بناکر ڈشز کےنام بھی لکھ دئیے ہیں یہ دیکھئے ۔

حاجی امجد جیسے خیرخواہ و نرم دل  شخص جو کہ صدمے کی حالت میں تھےجب انہوں نے ذرا  سی  گردن گھماکر فریج میں جو جھانکا تو فریج بچھڑےکےگوشت سے ناصرف اووَر لوڈ ہوچکاتھا بلکہ شاپرز کے اوپر سے کڑاہی ، پسندے ، بریانی ، نہاری اور نجانے کیاکیا نام جگمگارہے تھے اور ان ناموں کی چمک  شہناز بیگم کی آنکھوں میں بھی نظرآرہی تھی۔

حاجی صاحب نے تأسُّف سے  دیکھتے ہوئے پوچھا : آپ نےسارا گوشت فریز کردیا ؟ غریبوں اور رشتے داروں میں ہم کیا تقسیم کریں گے؟

شہناز  بیگم جو کہ فریج بند کرتے ہوئے داد طلب نظروں سے حاجی صاحب کی طرف مُڑ رہی تھیں  شوہر کے سنجیدہ لہجے اور اچانک سوال سے ہَڑبَڑا گئیں مگر جَلد ہی حَوّاس بحال کرتے ہوئے بتانے لگیں : ارےحاجی صاحب! یہ دیکھئے میں نے بانٹنے کے لئے گوشت سائیڈ پر رکھ لیا ہے ۔

حاجی امجد صاحب جو کہ چٹائی پر بکھرے ہڈیوں اور چربی کے ڈھیرکو پہلے ہی ملاحظہ کرچکے تھے اپنے جذبات پر بمشکل قابو کرتے ہوئے بولے : بہت اچھی بات ہے کہ آپ کو غریبوں کا خیال ہے مگر جس طرح کا گوشت بلکہ ہڈیاں اور چربی آپ نے غریبوں کے لئے بچائی ہے کیا اس طرح کا فریج میں بھی رکھاہے؟ آپ نے ہمارے لئے اچھاسوچا تبھی اسپیشل گوشت فریز کیا مگر نیک بخت! غریبوں کےبچوں کے لئے بھی تو سوچئے!کیاآپ کو پیارے نبی   صلَّی اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا فرمان یاد نہیں کہ “ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے (مسلمان) بھائی کے لئے وہی  پسند نہ کرے  جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ “

عام طورپران بےچاروں کو توپورا سال گوشت کھانا نصیب نہیں ہوتا بقر عید پر ایک آس ہوتی ہے کہ قربانی کرنے والوں کے یہاں سے گوشت آئےگا تو اپنے بچوں کو کھلائیں گے ۔

پتا ہے صبح عید گاہ سے واپسی پر ارشد سبزی فروش کا بیٹا حامد بُھولپن سے اپنے باپ سے پوچھ رہاتھا : بابا ! کیا آج بھی ہم سبزی ہی کھائیں گے ؟ارشد نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا : نہیں بیٹا! آج تو بقر عید ہے اِنْ شَآءَ اللہ  آج گوشت کھائیں گے۔

اچھا یہ بتائیے کہ ہم قربانی کیوں کرتے ہیں ؟ شہناز بیگم جوکہ اتنی مَتانَت سے سمجھانے پر نہ صرف قائل ہوچکی تھیں بلکہ دل ہی دل میں شَرمِندہ بھی ہورہی تھیں ، کہنے لگیں : سنّتِ رسول کی ادائیگی اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ۔

ماشآءَ اللہ ، اللہ آپ کی  نیّت قبول فرمائے حاجی صاحب نے سراہتے ہوئے  مزید سوال کیا : اچھا تو اپنا ہی جانور قربان کرکے سارا گوشت اسٹور کرلینا تو مقصد نہیں۔

حاجی صاحب نے مزید کہا : نیک بخت!اگر کسی نے قربانی کا سارا گوشت خود ہی رکھ لیا تب بھی کوئی گناہ نہیں لیکن بہتر اور افضل یہ ہے کہ گوشت کے3حصے کرے : ایک حصہ فُقراء کے لئے ، ایک دوست و احبا ب کے لئے اور ایک اپنے گھر والوں کے لئے۔                                    (ابلق گھوڑے سوار ، ص23)

 شہناز بیگم نے تائید میں سَر ہلاتے ہوئے کہا : آپ بالکل صحیح فرمارہے ہیں حاجی صاحب! میں شرمندہ ہوں میں نے صرف اپنے لئے سوچا دوسرےمسلمانوں کو بھول گئی۔ اب سے میں کبھی ایسا نہیں کرونگی۔ یہ کہتے ہوئے  شہناز بیگم اُٹھ کر فریج کی طرف چل پڑیں۔ اب کہاں چلیں آپ؟ حاجی صاحب نے پوچھا۔

فریج سے گوشت نکال رہی ہوں ، آپ تقسیم کرنے کی تیاری کرلیجئے ہم آج شام تک سارا گوشت بانٹ دیں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ

شہناز بیگم کے جواب پر حاجی صاحب  اطمینان سے آنکھیں مُوْنْد کر رَبِّ کریم کا شکر ادا کرنے لگے۔

Share

Articles

Comments


Security Code