قطع تعلقی نہ کیجئے

اسلامی بہنوں کےلئے

قطع تعلقی نہ کیجئے

بنت محمد یعقوب عطّاریہ

ماہنامہ ربیع الآخر 1442ھ

فاطمہ آپی! میں آج بہت خوش ہوں ، خالہ کی بیٹی کی شادی ہے اور سب سے زیادہ خوشی یہ کہ ابو نے ہمیں وہاں جانے کی اجازت دے دی ہے ، میں امی سے اپنی پسند کافینسی سوٹ ، میچنگ جیولری ، سینڈلزمنگواؤں گی کہ سب کزنیں دیکھتی رہ جائیں گی ۔ ، اب بس! دادی جان اجازت (Permission) دے دیں ، زینب ایک ہی سانس میں اپنی بڑی بہن سے بولتی چلی گئی۔

زینب کی گفتگو پر فاطمہ کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ دادی جنہوں نے زینب کی باتیں سُن لی تھیں بولیں : خبردار! جو جانے کا نام بھی لیا ، میں نے پہلے اپنے بیٹے پھر اپنی بیٹی کی شادی پر تمہاری خالہ کو بُلایا لیکن وہ نہیں آئیں ، اُنہیں اگر اپنی دولت پر ناز (فخر) ہے تو ہمارے پاس بھی کسی چیز کی کمی نہیں۔

دادی کے غصّے سے فاطمہ سہم (ڈر) گئی ، اب مجھے کیا دیکھے جارہی ہو ، کچھ غلط تو نہیں کہا میں نے! مجھے ٹی وی آن کرکے دو۔

فاطمہ نے ڈرتے ہوئے جی جی دادی جان کہا ، ریموٹ (Remote) اُٹھایا ، مدنی چینل لگایا اور اپنے کمرے میں آ گئی۔

صبح کے خُوبصورت لمحات میں مدنی چینل پر “ کُھلے آنکھ صَلِّ علیٰ کہتے کہتے “ پروگرام میں اِتفاق سے قطعِ رحمی کے موضوع پر مبلغین گفتگو فرما رہے تھے کہ قراٰن پاک میں ہے : اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کےجوڑنے کا خدا نے حکم دیا۔ (پ1 ، البقرۃ : 27)

ہماری حالت تو یہ ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر رنجشیں (ناراضیاں) پیدا کرلیتے ہیں ، ہمارے پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو کُفارِ مکہ نے کتنی اذیتیں اور تکلیفیں دیں ، آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  مکّہ سے تشریف لے گئے لیکن اس کے باوجود فتحِ مکّہ کے موقع پر آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مُعافی کا عام اِعلان فرمایا اور سب کو معاف فرما دیا۔ مگر ہم تو ذرا سی بات پر پوری زندگی کے لئے روٹھ جاتے ہیں ، پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : رشتہ کاٹنے والا جنّت میں نہیں جائے گا۔ (مسلم ، ص1062 ، حدیث : 6520)

مولانا روم  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں :

تو برائے وصل کردن آمدی

نے برائے فصل کردن آمدی

ترجمہ : تُو اِس دُنیا میں جوڑ پیدا کرنے آیا ہے نہ کہ توڑ پیدا کرنے آیا ہے۔

مبلغین کی ایمان افروز گفتگو سُن کر دادی کو احساس ہو رہا تھا کہ وہ غلطی پر ہیں ، دادی جان دل ہی دل میں اللہ پاک سے مُعافی طلب کر رہی تھیں کہ یااللہ مجھے معاف کر دے۔

پروگرام ختم ہونے کے ساتھ دادی کا دل بھی صاف ہو چکا تھا۔ دادی نے ٹی وی آف کیا اور فاطمہ کو آواز دی ، فاطمہ! فاطمہ! جی دادی جان! فاطمہ بھاگی بھاگی آئی۔

اپنی والدہ سے کہو میرا سوٹ بھی اِستری (Press) کر دیں ، کل ہم سب تمہاری خالہ کے گھر جائیں گے۔

فاطمہ کہنے لگی : دادی جان! ابھی تو آپ کہہ رہی تھیں کہ نہیں جانا! دادی کہنے لگیں : بیٹی! وہ نہیں آئیں تو کیا ہوا ، ہم اللہ کی رضا کے لئے جائیں گے۔

فاطمہ خوشی سے “ میری پیاری دادی جان “ کہتے ہوئے دادی کے گلے لگ گئی۔

Share

Articles

Comments


Security Code