- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
حضرات صحابہ کے فضائل
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میرے صحابہ کو برا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں کا کوئی احد(پہاڑ)بھر سونا خیرات کرے تو ان کے ایک کے نہ مد کو پہنچے نہ آدھے کو ۱؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيْفِهِ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6007 ، حضرات صحابہ کے فضائل
روایت ہے حضرت ابوبردہ سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ بہت دفعہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۲؎فرمایا کہ تارے آسمان کے لیے امان ہیں جب تارے جاتے رہیں گے تو آسمان کو وہ پہنچے گا ۳؎جس کا وعدہ ہے اور میں اپنے صحابہ کے لیے امان ہوں۴؎تو جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ گزرے گا جس کا ان سے وعدہ ہے ۵؎اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں تو جب میرے صحابہ چلے گئے تو میری امت کو وہ پہنچے گا جس کا ان سے وعدہ ہے۶؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَفَعَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّايَرْفَعُ رَأْسَهُ اِلَى السَّمَاءِ. فَقَالَ: «النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومَ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوْعَدُ وَأَنا أَمَنةٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَنَا أَتٰى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتٰى أُمَّتِيْ مَا يُوعَدُونَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6008 ، حضرات صحابہ کے فضائل
روایت ہے حضرت ابوسعید الخدری سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگوں پر ایک زمانہ آوے گا ۱؎کہ لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی تو لوگ کہیں گے کہ کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہا ہو تو کہیں گے کہ ہاں پھر انہیں فتح دی جاوے گی۲؎پھر لوگوں پر ایک زمانہ آوے گا تو لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی تو کہا جاوے گا کہ تم میں وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کے ساتھ رہا ہو لوگ کہیں گے ہاں پھر انہیں فتح دی جاوے گی،پھر لوگوں پر ایک زمانہ آوے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی تو کہا جاوے گا کہ کیا تم میں وہ ہے جو ان کے ساتھ رہا ہو جو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کے ساتھ رہے لوگ کہیں گے ہاں تو انہیں فتح دی جاوے گی۳؎(مسلم وبخاری) اور مسلم کی روایت میں ہےفرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آوےگا کہ ان میں سے ایک لشکر بھیجا جاوے گا تو کہیں گے کہ دیکھو کیا تم اپنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا صحابی پاتے ہو تو ایک صحابی پائے جائیں گے تو انہیں فتح دی جاوے گی۴؎پھر دوسرا لشکر بھیجا جاوے گا تو کہیں گے کیا ان میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کو دیکھا۵؎پھر انہیں فتح دی جاوے گی پھر تیسرا لشکر بھیجا جاوے گا تو کہا جاوے گا کہ دیکھو کیا تم ان میں وہ شخص دیکھتے ہو جس نے اسے دیکھا ہو جس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو پھر چوتھا لشکر ہوگا تو کہا جاوے گا کہ دیکھو کیا تم ان میں کوئی ایسا دیکھتے ہو جس نے اسے دیکھا ہو جس نے اسے دیکھا ہو جس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا ہے تو ایک شخص پایا جائے گا تب اسے فتح دی جاوے گی۶؎
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيَقُولُونَ:هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ " (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهٖ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأٰى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهٖ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَيُقَالُ: اُنْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأٰى مَنْ رَأٰى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأٰى مَنْ رَأٰى أَحَدًا رَأٰى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُ"
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6009 ، حضرات صحابہ کے فضائل
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میر ی امت میں بہترین میرا گروہ ہے ۱؎پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۲؎پھر ان کے بعد ایسی قوم ہوگی جو گواہی دے گی حالانکہ گواہ بنائی نہ جائے گی۳؎خیانت کرے گی امانت نہ کرے گی۴؎نذر مانے گی اور نذر پوری نہ کرے گی۵؎اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ قسم کھائیں گےحالانکہ قسم نہ لئے جائیں گے۶؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ إِنَّ بَعْدَهُمْ قَوْمًا يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَنْذُرُونَ وَلَا يَفُوْنَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «وَيَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُوْنَ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6010 ، حضرات صحابہ کے فضائل
اور مسلم کی روایت میں حضرت ابوہریرہ سے ہے کہ پھر ان کے پیچھے ایسے لوگ آئیں گے جو موٹاپا پسند کریں گے ۱؎
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ يُحِبُّوْنَ السَّمَانَةَ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6011 ، حضرات صحابہ کے فضائل
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میرے صحابہ کی عزت کرو کیونکہ وہ تمہارے بہترین ہیں ۱؎پھر وہ جو ان کے قریب ہیں پھروہ جو ان کے قریب ہیں ۲؎پھر جھوٹ ظاہر ہوگا حتی کہ آدمی قسم کھائے گا حالانکہ قسم لیا نہ جاوے گا اور گواہی دے گا حالانکہ گواہی لیا نہ جاوے گا آگاہ رہو کہ جو جنت کا وسط چاہے وہ جماعت کو مضبوط پکڑے۳؎کیونکہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہوتا ہے ۴؎اور وہ دو سے دور رہتا ہے ۵؎کوئی شخص کسی اجنبی عورت سے خلوت نہ کرے کیونکہ شیطان ان کا تیسرا ہوتا ہے ۶؎اور جس کو اس کی نیکی خوش کرے اور اس کی برائی غمگین کرے تو وہ مؤمن ہے ۷؎
عَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْرِمُوا أَصْحَابِي فَإِنَّهُمْ خِيَارُكُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَظْهَرُ الْكَذِبُ حَتّٰى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَحْلِفُ وَلَا يُسْتَحْلَفُ وَيَشْهَدُ وَلَا يُسْتَشْهَدُ أَلَا مَنْ سَرَّهٗ بُحْبُوحَةُ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْفَذِّ وَهُوَ مِنَ الْاِثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمْ وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهٗ وَسَآءَتْهُ سَيِّئَتُهٗ فَهُوَ مُؤْمِنٌ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6012 ، حضرات صحابہ کے فضائل
روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اس مسلمان کو آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمٌا رَآنِي أَو رَآى مَنْ رَآنِي».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6013 ، حضرات صحابہ کے فضائل
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مغفل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے صحابہ کے متعلق اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ۱؎اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑے۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللّٰهَ اللّٰهَ فِي أَصْحَابِي اللّٰهَ اللّٰهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِيْ أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللّٰهَ وَمَنْ آذَى اللّٰهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6014 ، حضرات صحابہ کے فضائل
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے صحابہ کی مثال میری امت میں کھانے میں نمک کی سی ہے کہ کھانا بغیر نمک کے درست نہیں ہوتا ۱؎حسن نے فرمایا کہ ہمارا نمک تو چلا گیا ہم کیسے درست ہوں۲؎(شرح سنہ)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ أَصْحَابِي فِي أُمَّتِي كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ لَا يَصْلُحُ الطَّعَامُ إِلَّا بِالْمِلْحِ» قَالَ الْحَسَنُ: فَقَدْ ذَهَبَ مِلْحُنَا فَكَيْفَ نَصْلُحُ؟ رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6015 ، حضرات صحابہ کے فضائل
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بریدہ سے وہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میراکوئی صحابی کسی زمین میں وفات نہیں پاتا مگروہ قیامت کے دن ان کا پیشرو ان کا نور ہوگا ۱؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور ابن مسعود کی حدیث کہ مجھے کوئی نہ پہنچائےالخ زبان کی حفاظت کے باب میں ذکر کردی گئی۲؎
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي يَمُوتُ بِأَرْضٍ إِلَّا بُعِثَ قَائِدًا وَنُورًا لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ وَذُكِرَ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ«لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ»فِي بَابِ«حِفظ اللِّسَان»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6016 ، حضرات صحابہ کے فضائل
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم ان کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں ۱؎تو کہو کہ تمہاری شر پر اللہ کی پھٹکار۲؎(ترمذی)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلٰى شَرِّكُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6017 ، حضرات صحابہ کے فضائل
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میں نے اپنے رب سے اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق سوال کیا جو میرے بعد ہوگا ۱؎تو مجھے وحی فرمائی کہ اے محمد تمہارے صحابہ میرے نزدیک آسمان کے تاروں کی طرح ہیں کہ ان کے بعض بعض سے قوی ہیں اور سب میں نور ہے تو جس نے ان کے اختلاف میں سے کچھ حصہ لیا جس پر وہ ہیں تو وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے ۲؎فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے صحابہ تاروں کی طرح ہیں تو تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۳؎(رزین)
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"سَأَلْتُ رَبِّي عَنِ اخْتِلَافِ أَصْحَابِي مِنْ بَعْدِي فَأَوْحٰى اِلَيَّ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ أَصْحَابَكَ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ بَعْضُهَا أَقْوٰى مِنْ بَعْضٍ وَلِكُلٍّ نُورٌ فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْءٍ مِمَّا هُمْ عَلَيْهِ مِنِ اخْتِلَافِهِمْ فَهُوَ عِنْدِي عَلٰى هُدًى " قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ» . رَوَاهُ رَزِينٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6018 ، حضرات صحابہ کے فضائل