- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
- باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں اولاد آدم میں بہترین گروہ میں بھیجا گیا یکے بعد دیگرے گروہ ۱؎حتی کہ میں اس گروہ سے ظاہر ہوا جس میں سے میں پہلے سے تھا ۲؎(بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ«بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتّٰى كُنْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ مِنْهُ» .رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5739 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالٰی نے اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے کنانہ کو چنا ۱؎اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب فرمایا ۲؎اور قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا اور مجھ کو بنی ہاشم میں سے چنا۳؎(مسلم)اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے اولاد ابراہیم علیہ السلام سے جناب اسماعیل علیہ السلام کو چن لیا۴؎اور اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے بنی کنانہ کو چن لیا ۵؎
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى كِنَانَةَ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفٰى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ وَاصْطَفٰى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِى هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: «إِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى مِنْ وُلْدِ إِبْرَاهِيْمَ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ بَنِي كِنَانَةَ »
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5740 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں قیامت کے دن اولاد آدم علیہ السلام کا سردار ہوں ۱؎اور میں پہلا وہ ہوں جن کی قبر کھلے گی ۲؎اور میں پہلا شفاعت فرمانے والا ہوں اور پہلا شفاعت قبول کیا ہوا ۳؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5741 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن میں تمام نبیوں سے زیادہ تابعین والا(امت والا)ہوں گا ۱؎اور میں پہلا وہ ہوں جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الجَنَّةِ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5742 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن جنت کے دروازے پر میں آؤں گا دروازہ کھلواؤں گا تو خازن جنت کہے گا آپ کون ہیں میں کہوں گا محمد ہوں ۱؎وہ عرض کرے گا کہ مجھے آپ کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ آپ سے پہلے کسی کے لئے نہ کھولوں ۲؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ. فَيَقُولُ: بِكَ أُمِرْتُ أَنْ لَا أَفْتَحَ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5743 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت کے بارے میں ہم پہلے شفاعت کرنے والے ہیں ۱؎کسی نبی کی تصدیق اتنی نہ کی گئی جتنی میری تصدیق کی گئی ۲؎نبیوں میں بعض نبی وہ ہیں جن کی کسی نے بھی ان کی امت سے تصدیق نہ کی سوا ایک کے۳؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مَا صُدِّقْتُ وَإِنَّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيًّا مَا صَدَّقَهٗ مِنْ أُمَّته إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5744 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میری اور دوسرے نبیوں کی مثال اس محل کی سی ہے جس کی تعمیر بہت اچھی کی گئی اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی دیکھنے والے اس کے گرد چکر لگاتے تھے اور اچھی تعمیر سے تعجب کرتے تھے سواء اس اینٹ کے ۱؎تو میں نے ہی اس اینٹ کی جگہ پُر کردی مجھ پر انبیاء ختم کردئیے گئے اور مجھ پر رسول ختم کردیئے گئے ۲؎ایک روایت میں ہے کہ وہ آخری اینٹ میں ہی ہوں اور نبیوں میں آخری نبی ہوں۳؎(مسلم و بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهٗ تُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لَبِنَةٍ، فَطَافَ بِهِ النُّظَّارُ، يَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهٖ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ أَنَا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ خُتِمَ بِيَ الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ بِي الرُّسُلُ».وَفِي رِوَايَةٍ: «فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ».(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5745 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نبیوں کی جماعت میں کوئی نبی نہ تھے مگر انہیں اتنے معجزات دیئے گئے جتنے لوگ ان جیسے معجزوں پر ایمان لائے ۱؎اور جو خصوصی معجزہ مجھے عطا ہوا ہے وہ وحی ہے جو الله نے میری طرف بھیجی تو میں امیدکرتا ہوں کہ قیامت کے دن زیادہ متبعین میں ہوں گا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهٗ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَى اللّٰهُ إِلَيَّ فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5746 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت جابر رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھےپانچ نعمتیں وہ دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ دی گئیں ۱؎میں ایک ماہ کے راستے سے رعب کے ذریعہ مدد کیا گیا ۲؎اور میرے لیے ساری زمین مسجداور ذریعہ طہارت بنادی گئی ۳؎کہ میری امت کے آدمی کوجس جگہ نماز آجاوے و ہ وہاں ہی پڑھ لے اور میرے لئے غنیمتیں حلال کردی گئیں مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کی گئیں۴؎اور مجھے بڑی شفاعت دی گئی ۵؎اور نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتےتھے ۶؎میں سارے انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں ۷؎(بخاری ومسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاةُ فَلْيُصَلِّ، وأُحِلَّتْ لِي الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَأَعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلٰى قَوْمِهٖ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عامَّةً ".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5747 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کہ رسول الله نے فرمایا مجھ کو تمام پیغمبروں پر چھ چیزوں سے بزرگی دی گئی ۱؎مجھے جامع الفاظ دیئے گئے ۲؎ہیبت سے میری مدد کی گئی ۳؎میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں اور میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنائی گئی اور میں ساری مخلوق کی طرف بھیجا گیا۴؎اور مجھ سے نبی ختم کردیئے گئے ۵؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"فُضِّلْتُ عَلَى الأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطُهُورًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5748 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جامع باتوں کے ساتھ بھیجا گیا اور ہیبت سے میری مدد کی گئی جبکہ میں سو رہا تھا تو میں نے اپنے کو دیکھا کہ میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں تو میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِيْ أُوتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِيْ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5749 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے اس کے مشرق و مغرب دیکھے ۱؎اور میری امت کا ملک وہاں تک ہی پہنچے گا جہاں تک کہ میرے لیے سمیٹ دیا گیا ۲؎اور مجھے دو خزانے دیئے گئے سرخ و سفید۳؎اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے سوال کیا کہ انہیں عام قحط سے ہلاک نہ کرے۴؎اور ان پر ان کی جماعت کے سوا کوئی دشمن مسلط نہ کرے جو ان کی اصل اکھیڑ دے ۵؎میرے رب نے فرمایا اے محمد صلی الله علیہ وسلم ہم جب کوئی فیصلہ فرما دیتے ہیں تو وہ رد نہیں ہوسکتا ۶؎میں نے آپ کو آپ کی امت کے متعلق یہ وعدہ دے دیا کہ انہیں عام قحط سالی سے ہلاک نہ کروں گا اور ان پر ان کی جماعت کے علاوہ کوئی دشمن مسلط نہ کروں گا ۷؎جو ان کی اصل اکھیڑ دے اگرچہ وہ دنیا کے ہر طرف سے جمع ہوجاویں حتی کہ وہ امتی خود ان کے بعض بعض کو ہلاک کردیں گے اور بعضے بعض کو قیدی کریں گے ۸؎(مسلم)
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللّٰهَ زَوٰى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ: الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوٰى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وإنَّ ربِّي قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهٗ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَّا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وأَنْ لَّا أُسَلِّطَ عَلَيْهِم عدُوّاً سِوٰى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا حَتّٰى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5750 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت سعد رضی الله عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم بنی معاویہ کی مسجد پر گزرے ۱؎اس میں تشریف لے گئے وہاں دو رکعتیں پڑھیں ۲؎اور ہم نے حضور کے ساتھ نماز پڑھی ۳؎حضور نے اپنے رب سے دراز دعا مانگی پھر فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں ۴؎اس نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے منع فرمادیا۵؎میں نے اپنے رب سے یہ سوال کیا کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کرےاس نے مجھے یہ عطا فرمادیا،میں نے سوال کیا کہ میری امت کو ڈبو کر ہلاک نہ کرے اس نے مجھے یہ بھی عطا فرمادیا ،میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ ان کی آپس میں جنگ نہ ہو مجھے اس سوال سے منع فرمادیا۶؎(مسلم)
وَعَنْ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهٗ وَدَعَا رَبَّهٗ طَوِيلًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: «سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرْقِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهٗ أَنْ لَّا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5751 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت عطاء ابن یسار سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے ملاقات کی میں نے کہا مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وہ صفات سناؤ جو توریت میں مذکور ہیں ۲؎انہوں نے کہا ہاں الله کی قسم حضور توریت میں بعض ان صفات سے موصوف ہیں جو قرآن میں موجود ہیں ۳؎وہاں ارشادہے اے نبی۴؎ہم نے تم کو گواہ ۵؎بشارت دینے والے ڈرانے والا۶؎بے پڑھوں کا حفاظت کرنے والا پناہ بناکر بھیجا۷؎تم میرے بندے اور رسول ہو میں نے تمہارا نام متوکل رکھا۸؎نہ سخت دل نہ سخت زبان نہ بازاروں میں شورکرنے والے ۹؎برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے بلکہ معافی و بخشش کردیتے ہیں ۱۰؎الله انہیں وفات نہ دے گا حتی کہ ان کے ذریعہ ٹیڑھے دین کو سیدھا کردے گا ۱۱؎اس طرح کہ لوگ کہیں گےلا الہ الا الله۱۲؎اور اس سے الله اندھی آنکھیں بہرے کان اور ڈھکے دل کھول دے گا۱۳؎(بخاری)
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ قَالَ: أَجَلْ وَاللّٰهِ إِنَّهٗ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهٖ فِي القُرْآنِ: (يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا) وحِرْزًا للاُمِّيِّينَ، أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلٰكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللّٰهُ حَتّٰى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5752 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
یوں ہی اسے دارمی نے بروایت عطاءعن عبدالله ابن سلام بھی اسی طرح روایت کیا اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کہ ہم آخر ہیںباب الجمعۃمیں ذکر کردی گئی۔
وَكَذَا الدَّارِمِيُّ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ سَلَامٍ نَحْوَهٗ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ:«نَحْنُ الْآخَرُونَ»فِي «بَابِ الْجُمُعَةِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5753 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت خباب ابن ارت سے ۱؎فرماتے ہیں ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو اسے بہت دراز فرمایا ۲؎صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے ایسی نماز پڑھی جو کبھی نہ پڑھتے تھے۳؎فرمایا ہاں یہ نماز رغبت اور ڈر کی ہے۴؎میں نے اس میں اللہ سے تین چیزیں مانگیں تو اس نے مجھے دو عطا فرمادیں اور ایک سے منع فرمادیا ۵؎میں نے اس سے مانگا کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ فرمائے اس نے مجھے عطا فرمادیا اور میں نے اس سے مانگا کہ ان پر ان کا غیر دشمن مسلط نہ فرمائے ۶؎مجھے عطا فرما دیا اور میں نے اس سے مانگا کہ ان کے بعض کو بعض کی سختی نہ چکھائے اس سے مجھے منع فرمادیا ۷؎(ترمذی،نسائی)
۱؎آپ مشہور صحابی ہیں،پرانے مؤمن ہیں،حضور کے دار ارقم میں تشریف لے جانے سے پہلے اسلام سے مشرف ہوئے،کفار کی ایذا پر بہت صبر کیا،بدر میں شریک ہوئے،کوفہ میں سب سے پہلے وہ مسلمان ہیں جن کی وفات ہوئی،حضرت علی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی،کوفہ میں ہی آپ کا مزار شریف ہے۔(اشعہ)
عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَأَطَالَهَا. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّيتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا قَالَ: «أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ وَإِنِّي سَأَلْتُ اللّٰهَ فِيهَا ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهٗ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهٗ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهٗ أَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5754 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہ اللہ تعالیٰ نے تم کو تین آفتوں سے امان دے دی،تم پر تمہارے نبی بد دعا نہ کریں گے کہ تم سارے ہلاک نہ ہوجاؤ ۱؎اور جھوٹے لوگ حق والوں پر غالب نہیں آئیں گے ۲؎اس سے کہ تم گمراہی پر جمع نہ ہوؤ گے ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ أَجَارَكُمْ مِنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ: أَنْ لَا يَدْعُوَ عَلَيْكُمْ نَبِيُّكُمْ فَتَهْلَكُوا جَمِيعًا وَأَنْ لَا يُظْهِرَ أَهْلَ الْبَاطِلِ عَلٰى أَهْلِ الْحَقِّ، وَأَن لَا تَجْتَمِعُوا عَلٰى ضَلَالَةٍ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5755 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہ اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں کبھی جمع نہیں فرمائے گا ایک تلوار اس کی اپنی اور دوسری تلوار اس کے دشمن کی ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يَجْمَعَ اللّٰهُ عَلٰى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ: سَيْفًا مِنْهَا وَ سَيفًا مِنْ عَدُوِّهَا " رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5756 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے شاید انہوں نے کچھ سنا تھا ۱؎تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے فرمایا میں کون ہوں۲؎لوگوں نے عرض کیا آپ اللہ کے رسول ہیں،فرمایا میں محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ہوں اللہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے ان میں سے اچھوں میں سے بنایا۳؎پھر ان اچھوں کی دو جماعتیں کیں تو مجھے ان کے اچھے فرقہ میں سے بنایا۴؎پھر ان اچھوں کے کئی قبیلے کیے تو مجھے اچھے قبیلے میں بنایا۵؎پھر ان اچھوں کے گھر بنائے تو مجھے اچھے گھر والوں میں بنایا ۶؎تو میں ان سب میں اچھی ذات والا۷؎اور اچھے گھر والا ہوں۸؎(ترمذی)
وَعَنِ الْعَبَّاسِ أَنَّهٗ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّهٗ سَمِعَ شَيْئًا فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى المِنْبَرِ فَقَالَ:«مَنْ أَنَا؟» فَقَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللّٰهِ. فَقَالَ:«أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِم فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيْلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا، فَأَنَا خَيْرُهُمْ نَفْسًا وَخَيْرُهُمْ بَيْتًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5757 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کے لئے نبوت کب ثابت ہوئی فرمایا جبکہ آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے ۱؎(ترمذی)
وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَتٰى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ؟قَالَ:«وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ»رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5758 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
- 1
- 2