- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
- باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے ۱؎وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا میں الله تعالٰی کے نزدیک آخر نبی لکھا ہوا تھا جب کہ آدم اپنی خمیر میں لوٹ رہے تھے ۲؎میں تم کو اپنی پہلی حالت بتاتا ہوں میں دعاء ابراہیم ہوں اور بشارت عیسیٰ ہوں ۳؎میں اپنی ماں کا نظارہ ہوں جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا کہ ان کے سامنے ایک نور ظاہر ہوا جس سے ان کے لیے شام کے محل چمک گئے ۴؎(شرح سنہ)
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ:"إِنِّي عِنْدَ اللّٰهِ مَكْتُوبٌ: خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لِمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهٖ وَسَأُخْبِرُكُمْ بِأَوَّلِ أَمْرِي دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَةُ عِيسٰى وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْنِي وَقَدْ خَرَجَ لَهَا نُورٌ أَضَاءَ لَهَا مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5759 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
اور احمد بروایت ابو امامہ حضور کے فرمانساخبرکمسے۔
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مِنْ قَوْلِهٖ: "سَأُخْبِرُكُمْ" إِلَى آخِرِهٖ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5760 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں ۱؎فخریہ نہیں کہتا ۲؎اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہو گا۳؎فخریہ نہیں کہتا،اس دن کوئی نبی آدم علیہ السلام اور ان کے سوا ایسا نہ ہوگا جو میرے جھنڈے تلے نہ ہو۴؎میں ان میں پہلا ہوں جن سے زمین کھلے گی ۵؎فخریہ نہیں فرماتا۔ (ترمذی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَنَا سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ. وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5761 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ بیٹھے ۱؎پھر حضور انور تشریف لائے حتی کہ ان حضرات سے قریب ہوگئے ۲؎تو انہیں کچھ تذکرہ کرتے سنا۳؎ان میں سے بعض نے کہا کہ الله نے حضرت ابراہیم کو اپنا دوست بنایا، دوسرے صاحب بولے کہ الله نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا۴؎ایک اور صاحب بولے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام الله کا کلمہ اس کی روح ہیں۵؎ایک دوسرے نے کہا آدم کو الله نے برگزیدہ کرلیا ۶؎تب ان کے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے ۷؎اور فرمایا کہ ہم نے تمہاری گفتگو اور تمہارا تعجب کرنا سنا۸؎یقینًا ابراہیم الله کے خلیل ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور موسیٰ علیہ السلام راز کی بات کرنے والے ہیں ۹؎واقعی وہ ایسے ہی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام الله کی روح اور کلمہ وہ ایسے ہی ہیں،آدم کو الله نے چن لیا واقعی وہ ایسے ہی ہیں ۱۰؎مگر خیال رکھو کہ میں الله کا محبوب ہوں۱۱؎فخریہ نہیں کہتا قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میں ہی اٹھائے ہوں گا جس کے نیچے آدم اور ان کے سواء ہوں گے فخریہ نہیں کہتا میں پہلا شفاعت کرنے والا اور پہلا مقبول الشفاعت قیامت کے دن میں ہوں فخریہ نہیں کہتا میں پہلا وہ شخص ہوں جو جنت کی زنجیر ہلائے گا ۱۲؎تب الله کھولے گا پھر اس میں مجھے داخل کرے گا۱۳؎میرے ساتھ فقراء مسلمان ہوں گے۱۴؎فخریہ نہیں کہتا میں سارے اگلے پچھلوں میں الله پر زیادہ عزت والا ہوں۱۵؎فخریہ نہیں کہتا۔ (ترمذی،دارمی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ حَتّٰى إِذَا دَنَا مِنْهُمْ سَمِعَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ اللّٰهَ اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا وَقَالَ آخَرُ:مُوسٰى كَلَّمَهُ اللّٰهُ تَكْلِيمًا وَقَالَ آخَرُ: فَعِيسٰى كَلِمَةُ اللهِ وَرُوحُهٗ. وَقَالَ آخَرُ: آدَمُ اصْطَفَاهُ اللّٰهُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «قَدْ سَمِعْتُ كَلَامَكُمْ وَعَجَبَكُمْ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُ اللهِ وَهُوَ كَذٰلِكَ وَمُوْسٰى نَجِيُّ اللّٰهِ وَهُوَ كَذٰلِكَ وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللّٰهُ وَهُوَ كَذٰلِكَ أَلَا وَأَنَا حَبِيبُ اللّٰهِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَهٗ آدَمُ فَمَنْ دُونَهٗ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ حِلَقَ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُ اللّٰهُ لِي فَيُدْخِلُنِيهَا وَمَعِي فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ عَلَى اللّٰهِ وَلَا فَخْرَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5762 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت عمرو ابن قیس ۱؎سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری ہیں اور ہم قیامت کے دن اول ہوں گے۲؎اور میں ایک بات کہتاہوں مگر فخر نہیں کہ ابراہیم علیہ السلام الله کے خلیل ہیں،موسیٰ علیہ السلام الله کے برگزیدہ ہیں ۳؎اور میں الله کا محبوب ہوں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے پاس ہوگا۴؎الله نے مجھے میری امت کے بارے میں وعدہ فرمالیا ہے اور انہیں تین آفتوں سے امان دی ہے ان پر عام قحط نہ بھیجے گا،انہیں کوئی دشمن جڑ سے نہ اکھیڑے گا،انہیں گمراہی پر جمع نہ کرے گا۵؎(دارمی)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنِّي قَائِلٌ قَوْلًا غَيْرَ فَخْرٍ: إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ اللّٰهِ ، ومُوسٰى صَفِيُّ اللّٰهِ ، وَأَنَا حَبِيبُ اللّٰهِ وَمَعِي لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ اللّٰهَ وَعَدَنِي فِي أُمَّتِي وَأَجَارَهُمْ مِنْ ثَلَاثٍ: لَايَعُمُّهُمْ بِسَنَةٍ وَلَا يَسْتَأْصِلُهُمْ عَدُوٌّ وَلَا يَجْمَعُهُمْ عَلٰى ضَلَالَةٍ ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5763 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت جابر رضی الله عنہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میں رسولوں کا پیش رو ہوں ۱؎فخریہ نہیں کہتا میں نبیوں میں آخری ہوں،فخریہ نہیں کہتا میں پہلا شفاعت والا اور مقبول الشفاعت ہوں فخریہ نہیں(دارمی)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شافعٍ وَمُشَفَّعٍ وَلَا فَخْرَ . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5764 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب لوگ اٹھائیں جاوے گے ان سب میں پہلے ہم قبر انور سے باہر آئیں گے ۱؎اور جب لوگ وفد بنیں گے تو ہم پیش رو ہوں گے ۲؎اور لوگ جب خاموش ہوں گے تو ہم ان کے خطیب ہوں گے ۳؎اور جب لوگ روکے ہوئے ہوں گے۴؎تو ان کے شفیع ہوں گے،لوگ جب مایوس ہوں گے تو انہیں بشارت دینے والے ہم ہوں گے۵؎اس دن عزت اور کنجیاں ہمارے ہاتھ ہوں گی ۶؎حمد کا جھنڈا اس دن ہمارے ہاتھ ہوگا،میں ساری اولاد آدم میں اپنے رب کے نزدیک زیادہ عزت والا ہوں۷؎ہمارے پاس ایک ہزار خدام گھومیں گے گویا وہ محفوظ انڈے ہیں ۸؎یا بکھرے ہوئے موتی ۹؎(ترمذی،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ خُرُوجًا إِذَا بُعِثُوا وَأَنَا قَائِدُهُمْ إِذَا وَفَدُوا وَأَنَا خَطِيبُهُمْ إِذَا أَنْصَتُوا وَأَنَا مُسْتَشْفِعُهُمْ إِذَا اُحْبِسُوا وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا يَئِسُوا الْكَرَامَةُ وَالْمَفَاتِيحُ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي وَلِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي وَأَنَا أَكْرَمُ وُلْدِ آدَمَ عَلٰى رَبِّي يَطُوفُ عَلَيَّ أَلْفُ خَادِمٍ كَأَنَّهُمْ بَيْضٌ مُكْنُونٌ أَوْ لُؤْلُؤٌ مَنْثُورٌ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5765 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا پھر مجھے جنتی جوڑا پہنایا جاوے گا ۱؎پھر میں عرش کی داہنی طرف کھڑا ہوں گا ۲؎مخلوق میں میرے سوا کوئی نہیں جو اس جگہ کھڑا ہو۳؎(ترمذی)اور جامع الاصول کی روایت میں ہے اور انہیں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس کی قبر کھلے گی پھر مجھے جوڑا پہنایا جاوے گا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَأُكْسٰى حُلَّةً مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ يَقومُ ذٰلِكَ الْمَقَامَ غَيْرِي". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ "جَامِعِ الأُصُولِ" عَنهُ:«أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ فَأُكْسٰى»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5766 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی ہیں فرمایا الله سے میرے لیے وسیلہ مانگو ۱؎صحابہ نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم وسیلہ کیا چیز ہے فرمایا بہشت میں سب سے اونچا درجہ جسے صرف ایک شخص پائے گا ۲؎اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں گا۳؎(ترمذی)
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « سَلُوا اللهَ الْوَسِيلَةَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَمَا الْوَسِيلَةُ؟ قَالَ: «أَعْلٰى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5767 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا ۱؎تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب ہوں گا اور ان حضرات کا شفاعت والا۲؎فخریہ نہیں فرماتا ہوں(ترمذی)
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرَ فَخْرٍ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5768 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ہر نبی کے بعض نبی قریب تر ہوتے ہیں ۱؎اور میرے قریبی میرے باپ میرے رب کے خلیل ہیں ۲؎پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ لوگوں میں ابراہیم سے قریب ترین وہ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے ۳؎اور الله والی ہے مؤمنوں کا ۴؎(ترمذی)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِن لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ وَلِيِّيَ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي ثُمَّ قَرَأَ: إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهٰذَاالنَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللّٰهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5769 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله نے اخلاق کے درجات مکمل کرنے ۱؎اور اچھے اعمال کے کمالات پورے کرنے کے لیے مجھ کو بھیجا(شرح سنہ)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قا ل: «إِنَّ اللّٰهَ بَعَثَنِي لِتَمَامِ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَكَمَالِ محَاسِنِ الأَفْعَالِ" رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5770 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت کعب سے ۱؎وہ توریت سے حکایت کرتے ہیں فرمایا ہم وہاں لکھا پاتے ہیں ۲؎کہ محمد صلی الله علیہ وسلم الله کے رسول ہیں میرے پسندیدہ بندے ہیں ۳؎نہ سخت دل ہیں اور نہ سخت زبان اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے۴؎برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے لیکن معاف فرمادیتے ہیں بخش دیتے ہیں ۵؎ان کی ولادت مکہ میں ہوگی۶؎اور ان کی ہجرت مدینہ میں ۷؎اور ان کا ملک شام میں ۸؎ان کے امتی بہت حمد کرنے والے ہیں،آرام و تکلیف میں الله کی حمدکریں گے اور ہر درجہ میں الله کی حمد کریں گے ۹؎اور ہر بلندی پر الله کی تکبیر کہیں گے۱۰؎سورج کا خیال رکھیں گے ۱۱؎جب نماز کا وقت آوے گا تو نماز پڑھا کریں گے۱۲؎اپنی کمر پر تہبند باندھیں گے۱۳؎اور اپنے اعضاء پر وضو کیا کریں گے۱۴؎ان کا مؤذن آسمان کی فضا میں اذان دیا کرے گا۱۵؎ان کی صف جہاد میں اور ان کی صف نماز میں برابر ہوگی۱۶؎رات میں ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی بھنکار کی طرح ہوگی۱۷؎یہ مصابیح کے لفظ ہیں،دارمی نے معمولی فرق سے روایت کی۔
وَعَنْ كَعْبٍ يَحْكِي عَنِ التَّوْرَاةِ قَالَ: نَجِدُ مَكْتُوبًا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، عَبْدِي الْمُخْتَارُ لَا فَظٌّ غَلِيظٌ، وَلَا سَخَّابٌ فِي الأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلٰكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ مَوْلِدُهٗ بِمَكَّةَ وَهِجْرَتُهٗ بِطَيبَةَ وَمُلْكُهٗ بِالشَّامِ وَأُمَّتُهُ الحَمَّادُونَ يَحْمَدُونَ اللّٰهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ يَحْمَدُونَ اللّٰهَ فِي كُلِّ مَنْزِلَةٍ وَيُكَبِّرُونَهٗ عَلٰى كُلِّ شَرَفٍ رُعَاةٌ لِلشَّمْسِ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ إِذَا جَاءَ وَقْتُهَا يَتَأَزَّرُونَ عَلَى أَنْصَافِهِمْ، وَيَتَوَضَّؤُونَ عَلٰى أَطْرَافِهِمْ مُنَادِيهِمْ يُنَادِي فِي جَوِّ السَّمَاءِ صَفُّهُمْ فِي الْقِتَالِ وَصَفُّهُمْ فِي الصَّلَاةِ سَوَاءٌ لَهُمْ بِاللَّيْلِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ «. هٰذَالَفْظُ» الْمَصَابِيحِ " وَرَوَى الدَّارِمِيُّ مَعَ تَغْيِيرٍ يَسِيرٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5771 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت عبدالله ابن سلام سے ۱؎فرماتے ہیں کہ توریت میں حضور محمد صلی الله علیہ وسلم کی صفت مذکور ہے۲؎اور عیسیٰ ابن مریم حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ دفن کیے جائیں گے۳؎ابو مودود کہتے ہیں۴؎کہ حجرہ انور میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے ۵؎(ترمذی)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ وَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهٗ قَالَ أَبُو مَوْدُودٍ: وَقَدْ بَقِي فِي الْبَيْتِ مَوْضِعُ قَبْرٍ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5772 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرمایا کہ الله تعالٰی نے حضور محمد صلی الله علیہ وسلم کو سارے نبیوں پر اور سارے آسمان والوں پر بزرگی دی ۱؎لوگوں نے کہا کہ اے ابن عباس آسمان والوں پر کس طرح بزرگی دی فرمایا کہ الله تعالٰی نے آسمان والوں سے فرمایا کہ تم میں سے جو کہے گا کہ میں الله کے سوا معبود ہوں ۲؎تو یہ وہی ہوگا جسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں ۳؎اور الله تعالٰی نے حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم کے لیے فرمایا کہ ہم نے آپ کے لیے روشن فتح دی ۴؎کہ آپ کے صدقہ سے آپ کی امت کے اگلے پچھلے گناہ الله بخشے ۵؎لوگوں نے کہا کہ نبیوں پر کیسے بزرگی دی فرمایا کہ الله تعالٰی نے فرمایا ہے کہ ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ان کی قوم کی زبان میں ۶؎تاکہ وہ ان کے لیے بیان کریں تو الله جسے چاہے گمراہ کرے آخر آیت تک اور محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم سے فرمایا کہ ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر سارے لوگوں کے لیے کافی ۷؎تو حضور کو جن و انسان کی طرف بھیجا ۸؎
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إنَّ اللهَ تَعَالٰى فَضَّلَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الأَنْبِيَاءِ وَعَلٰى أَهْلِ السَّمَاءِ فَقَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ بِمَ فَضَّلَهُ اللهُ عَلٰى أَهْلِ السَّمَاءِ؟ قَالَ: إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى قَالَ لِأَهْلِ السَّمَاءِ وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلٰهٌ مِنْ دُونِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالُوا: وَمَا فَضْلُهٗ عَلَى الأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَشَاءُ الْآيَةَ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ فَأَرْسَلَهٗ إِلَى الْجِنِّ وَالإِنْسِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5773 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ابو ذر غفاری سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم آپ نے کیسے جانا کہ آپ الله کے نبی ہیں حتی کہ آپ نے یقین کرلیا ۱؎تو فرمایا اے ابو ذر میرے پاس دو فرشتے آئے جب کہ میں مکہ کے بعض پتھریلے علاقہ میں تھا۲؎تو ان میں سے ایک تو زمین کی طرف آگیا اور دوسرا آسمان و زمین کے درمیان رہا۳؎تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کیا یہ وہ ہی ہیں ۴؎اس نے کہا ہاں اس نے کہا کہ انہیں ایک شخص سے تولو ۵؎میں اس سے تولا گیا تو میں وزنی ہوا ۶؎پھر اس نے کہا کہ انہیں دس سے تولو تو میں ان سے تولا گیا میں ان پر وزنی ہوا،پھر اس نے کہا کہ انہیں سو سے تولو میں ان سے تولا گیا میں ان پر بھاری ہوا۷؎وہ بولا انہیں ہزار سے تولو میں ان سے تولا گیا تو میں ان پر بھاری ہوگیا گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ پلہ ہلکا ہونے کی وجہ سے مجھ پرگرے پڑتے ہیں ۸؎تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اگر تم انہیں ان کی پوری امت سے تولو تو بھی یہ سب پر بھاری ہوں گے ۹؎(دارمی)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ عَلِمْتَ أَنَّكَ نَبِيٌّ حَتّٰى اسْتَيْقَنْتَ؟ فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ! أَتَانِي مَلَكَانِ وَأَنَا بِبَعْضِ بَطْحَاءِ مَكَّةَ، فَوَقَعَ أَحَدُهُمَا عَلَى الأَرْضِ وَكَانَ الْآخَرُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهٖ: أَهْوَ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَزِنْهُ بِرَجُلٍ فَوُزِنْتُ بِهٖ فَوَزَنْتُهٗ ثُمَّ قَالَ: زِنْهُ بِعَشَرَةٍ فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ ثُمَّ قَالَ: زِنْهُ بِمِئَةٍ فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَنْتَثِرُونَ عَلَيَّ مِنْ خِفَّةِ الْمِيزَانِ. قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لصَاحبه: لَوْ وَزَنتُهٗ بِأُمَّتِهٖ لَرَجَحَهَا". رَوَاهُمَا الدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5774 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھ پر قربانی فرض کی گئی تم پرفرض نہیں کی گئی ۱؎اور میں چاشت کی نماز کا حکم دیا گیا ہوں تم کو اس کاحکم نہیں دیاگیا۲؎(دارقطنی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحٰى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا". رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5775 ، باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام
- 1
- 2