باب : حشر کا بیان

فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ قیامت کے دن اس سفیدہ زمین میں جمع کیے جائیں گے۱∞؎جو میدہ کی روٹی کی طرح ہے۲؎جس میں کسی کا نشان نہ ہوگا۳؎(مسلم،بخاری)

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ،كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لِأَحَدٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5532 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن زمین ایک روٹی ہوجاوے گی جسے الله تعالٰی اپنے دست قدرت سے تیارکرے گا ۱∞؎جیسے تم میں سے کوئی سفر میں اپنی روٹی تیارکرتا ہے جنت والوں کی مہمانی کے لیے۲؎پھر ایک یہودی شخص حاضر ہوا بولا اے ابوالقاسم الله آپ پر برکت نازل کرے کیا میں آپ کو جنتیوں کی مہمانی جو قیامت کے دن ہوگی اس کے متعلق خبر نہ دوں۳؎فرمایا ہاں،بولا زمین ایک روٹی ہوجاوے گی جیسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہماری طرف دیکھا پھر تبسم فرمایا حتی کہ آپ کی کیلیں مبارک نمودار ہوگئیں۴؎پھر بولا کیا میں آپ کو ان کے سالن کی خبر نہ دوں بالام اور مچھلی۵؎صحابہ نے کہا وہ کیا چیز ہے بولا بیل اور مچھلی کہ ان دونوں کی کلیجی کے ٹکڑے سے ستر ہزار کھائیں گے۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَكُونُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً، يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ، كَمَا يَتَكَفَّأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ". فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ. فَقَالَ: بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ! أَلَا أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: "بَلَى". قَالَ: تَكُونُ الأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً كَمَا قَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَنَظَرَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- إِلَيْنَا ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ؟بَالَامٌ وَالنُّونُ. قَالُوا: وَمَا هَذَا؟ قَالَ: ثَوْرٌ وَنُونٌ، يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5533 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ تین طریقوں سے جمع کیے جائیں گے ۱∞؎رغبت کرتے خوف کرتے۲؎اور دو ایک اونٹ پر۳؎اور تین ایک اونٹ پر اور چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر۴؎باقیوں کو آگ جمع کرے گی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی جہاں وہ لوگ قیلولہ کریں گے اور رات گزاریں گے اور ان کی ساتھ صبح کرے گی جہاں صبح کریں گے اور ان کے ساتھ شام کریں گے۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ: رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ،وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوْا، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا، وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5534 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ تم حشر کیے جاؤ گے ننگے پاؤں، ننگے بدن بے ختنہ ۱∞؎پھر آپ نے تلاوت فرمائی کہ جیسے ہم نے اولاد پیدائش کی ابتداء کی تھی ویسے ہی لوٹائیں گے ہمارے ذمہ یہ وعدہ ہے ہم کرنے والے ہیں۲؎اور پہلے جسے لباس پہنایا جاوے گا قیامت کے دن وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۳؎اور میرے ساتھ والوں میں سے کچھ لوگ بائیں طرف پکڑ لیے جائیں گے۴؎تو میں فرماؤں گا کہ میرے ساتھ والے ہیں میرے ساتھ والے۵؎تو کہیں گے کہ یہ لوگ جب سے آپ ان سے جدا ہوئے اپنی ایڑیوں پر لوٹے رہے۶؎تو جو اس نیک بندے نے کہا ہے وہ ہی میں کہوں گا کہ میں ان کا ذمہ دار نگران تھا جب میں ان میں رہاعزیز الحکیمتک۷؎(مسلم، بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا" ثُمَّ قَرَأَ: " {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ} ، وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ،وَإِنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ: أُصَيْحَابِي أُصَيْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّهُمْ لَنْ يَزَالُوْا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مذْ فَارَقْتَهُمْ. فَأَقُوْلُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ} إِلى قَوْلِهِ:{الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ}. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5535 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں،ننگے بدن،بے ختنہ جمع کیے جائیں گے ۱∞؎میں نے عرض کیا یارسول الله مرد و عورتیں سارے بعض بعض کو دیکھیں گے۲؎تو فرمایا اے عائشہ وہ حال اس سے سخت تر ہوگا کہ بعض بعض کی طرف نظر بھی کریں۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ؟ فَقَالَ: "يَا عَائِشَةُ! الأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5536 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے ایک شخص نے عرض کیا یا نبی الله قیامت کے دن کافر اپنے چہرے کے بل کس طرح محشر میں لایا جائے گا۱∞؎فرمایا کہ جس نے دنیا میں دو پاؤں پر چلایا وہ اس پر قادر نہیں کہ اسے قیامت کے دن اس کے منہ کے بل چلائے۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: "أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5537 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا حضرت ابراہیم اپنے باپ آزر سے قیامت کے دن کہیں گے آزر کے منہ پر سیاہی اور مٹیلا رنگ ہوگا ۱∞؎اس سے ابراہیم فرمائیں گے کہ کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر ان کا باپ کہے گا کہ اب میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا۲؎جناب ابراہیم کہیں گے اے رب تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جس دن لوگ اٹھائیں جائیں گے تو مجھے رسوا نہ کرے گا تو میری ہلاکت والے باپ سے بڑھ کر کون سی رسوائی بڑی ہے۳؎الله تعالٰی فرمائے گا کہ میں نے کفار پر جنت حرام کردی ہے۴؎پھر حضرت ابراہیم سے کہا جاوے گا کہ تمہارے پاؤں کے نیچے کیا ہے وہ دیکھیں گے۵؎کہ وہ ایک لتھڑے ہوئے بھیڑیئے پر ہے۶؎پھر آزر کے ہاتھ پاؤں پکڑ لیے جائیں گے اسے آگ میں ڈال دیا جاوے گا۷؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ: لَا تَعْصِنِي؟ فَيَقُولُ لَهُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ. فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا ربِّ إِنَّك وَعَدْتَنِي أَلَّا تُخْزِيَنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الأَبْعَدِ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ، ثُمَّ يُقَالُ لإِبْرَاهِيمَ: مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ؟ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ"رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5538 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن لوگ پسینہ پسینہ ہوجائیں گے حتی کہ ان کا پسینہ زمین میں ستر گز چلا جاوے گا اور ان کی لگام بن جاوے گا حتی کہ ان کے کانوں تک پہنچ جاوے گا ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَعْرَقُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَذْهَبَ عَرَقُهُمْ فِي الأَرْضِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا وَيُلْجِمُهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ آذَانَهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5539 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے حضرت مقداد سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کے دن سورج مخلوق سے قریب کردیا جاوے گا حتی کہ ان سے میل کی مقدار رہ جاوے گا ۱∞؎تو لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینہ میں ہوں گے۲؎بعض وہ ہوں گے کہ ان کے ٹخنوں تک پسینہ ہوگا،بعض وہ جن کے گھٹنوں تک ہوگا اور بعض وہ جن کی کمر تک ہوگا اور ان میں بعض وہ ہوں گے کہ پسینہ ان کی لگام بن جاوے گا اور رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ہاتھ شریف سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۳؎(مسلم)

وَعَنِ الْمِقْدَادِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُمُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا"، وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5540 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ الله تعالٰی فرمائے گا اے آدم وہ عرض کریں گے حاضر ہوں خدمت گزار ہوں اور ساری بھلائی تیرے قبضہ میں ہے ۱∞؎فرمائے گا آگ کا حصہ نکالو۲؎عرض کریں گے آگ کا حصہ کیا ہے فرمائے گا ہر ہزار سے نو سو ننانوے۳؎تو اس وقت بچے بڈھے ہوجائیں گے اور ہر حمل والی اپنا حمل گرادے گی۴؎اور تم لوگوں کو نشہ میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے۵؎لیکن الله کا عذاب سخت ہے لوگوں نے عرض کیا یارسول الله وہ ایک ہم میں سے کون ہوگا۶؎فرمایا خوش ہوجاؤ کہ تم میں سے ایک شخص اور یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار۷؎پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں امید کرتا ہوں کہ تم لوگ جنتیوں کے چوتھائی ہوگے تو ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم جنتیوں کے تہائی ہوؤگے ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں میں آدھے ہو گے۸؎ہم نے تکبیر کہی۹؎پھر فرمایا تم لوگوں میں نہیں مگر ایسے جیسے سفید بیل کی کھال میں ایک کالا بال یا جیسے کالے بیل کی کھال میں ایک سفید بال۱۰؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَن النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: يَا آدَمُ! فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ. قَالَ: أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ. قَالَ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ ألفٍ تِسْعَ مِئَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ،{وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ}، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ؟ قَالَ: "أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْكُمْ رَجُلًا وَمِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفٌ"،ثُمَّ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَكَبَّرْنَا، فَقَالَ: "أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَكَبَّرْنَا، فَقَالَ : "أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَكَبَّرْنَا، قَالَ: "مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ، أَوْ كَشَعْرَةٍ بَيْضَاءَ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5541 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ہمارا رب اپنی پنڈلی قدرت کھولے گا ۱∞؎اور اسے ہر مؤمن مرد و عورت سجدہ کریں گے۲؎وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھلاوے یا شہرت کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ سجدہ کرنے لگیں گے تو ان کی پیٹھ ایک تختہ بن جاوے گی۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "يَكْشِفُ ربُنَا عَنْ سَاقِهِ فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً،فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ فَيَعُوْدُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5542 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ایک بڑا موٹا آدمی قیامت کے دن آوے گا ۱∞؎الله کے نزدیک مچھر کے پر برابر وزن نہ دے گا۲؎اور فرمایا کہ یہ تلاوت کرو کہ ہم قیامت کے دن ان کا وزن نہ رکھیں گے۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّه جَناحَ بَعُوضَةٍ". وَقَالَ: "اقْرَؤُوا: {فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا} ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5543 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت پڑھی کہ اس دن زمین اپنی خبریں دے گی فرمایا کہ جانتے ہو کہ زمین کی خبریں کیا ہیں ۱∞؎لوگوں نے عرض کیا ارسول ہی خوب جانتے ہیں فرمایا اس کی خبریں یہ ہیں کہ ہر بندے اور بندی پر گواہی دے گی اس کی جو اس نے اس کی پشت پرعمل کیے ۲؎کہ کہے گی کہ مجھ پر فلاں فلاں دن فلاں فلاں عمل کیے فرمایا کہ زمین کی خبریں یہ ہیں۳؎(احمد،ترمذی )اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- هَذِهِ الآيَةَ: {يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا}، قَالَ: "أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ وَأَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا أَنْ تَقُولَ: عَمِلَ عَليَّ كَذَا وَكَذَا يومَ كَذَا وَكَذَا". قَالَ: "فَهَذِهِ أَخْبَارُهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5544 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کوئی نہیں جو مرے مگر شرمندہ ہوگا ۱∞؎عرض کیا یارسول الله اس کی شرمندگی کیا ہوگی،فرمایا اگر نیک کار ہوگا تو شرمندہ ہوگا کہ اس نے زیادہ نیکیاں کیوں نہ کیں۲؎اور گنہگار ہوا تو شرمندہ ہوگا کہ وہ کیوں نہ باز آیا۳؎(ترمذی)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ إِلَّا نَدِمَ". قَالُوا: وَمَا نَدَامَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ ازْدَادَ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ نَزَعَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5545 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ قیامت کے دن تین طرح جمع کیے جائیں گے ۱∞؎ایک قسم پیدل،ایک قسم سوار ۲؎اور ایک قسم اپنے چہروں پر،عرض کیا گیا یارسول الله وہ اپنے چہروں پر کیسے چلیں گے،فرمایا جس نے انہیں ان کے قدموں پر چلایا ہے وہ اس پر قادر ہے کہ انہیں ان کے چہروں پر چلائے۳؎آگاہ رہو کہ وہ اپنے چہروں سے ہر ٹیلے اور کانٹے سے بچیں گے۔(ترمذی)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ: صِنْفًا مُشَاةً، وَصِنْفًا رُكْبَانًا،وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ قَالَ: "إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5546 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جسے یہ پسند ہو کہ قیامت کا دن آنکھوں دیکھے کی طرح دیکھے ۱∞؎تواذا الشمس کوّرتاوراذا السماء انفطرتاوراذا السماء انشقتکی تلاوت کرے۲؎(احمد،ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فَلْيَقْرَأْ: {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ}، و {إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ} ، و {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5547 ، باب : حشر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ سچ کہنے والے سچی خبر دینے والے ۱∞؎صلی الله علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ لوگ تین فوجوں میں جمع کیے جائیں گے۲؎ایک فوج سوار عیش والے لباس پہنے ہوئے۳؎اور ایک فوج فرشتے ان کے چہروں پر گھسیٹیں گے اور انہیں آگ جمع کرے گی۴؎اور ایک فوج جو چلیں گے اور دوڑیں گے۵؎الله تعالٰی ان کی سواری پر آفت ڈال دے گا وہ باقی نہ رہے گی حتی کہ ایک شخص جس کے پاس باغ ہوگا وہ ایک قابل سواری اونٹ کے عوض دے گا مگر وہ اس پر قادر نہ ہوگا۶؎(نسائی)

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ -صلى اللَّه عليه وسلم- حَدَّثَنِي: "أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ:فَوْجًا رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ، وَفَوْجًا تَسْحَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ، وَفَوْجًا يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ وَيُلْقِي اللَّهُ الآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ، فَلَا يَبْقَى حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَتَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ يُعْطِيهَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5548 ، باب : حشر کا بیان