- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت جریر ابن عبدالله سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تم اپنے رب کو ظاہر ظہور دیکھو گے ۱∞؎اور ایک روایت میں ہے کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس بیٹھے تھے کہ حضور انور نے چودھویں شب میں چاند کو دیکھا ۲؎پھر فرمایا کہ تم اپنے رب کو ایسے دیکھو گے جیسے چاند کو دیکھ رہے ہو تم اس کے دیکھنے میں شک نہیں کرتے۳؎تو اگر تم یہ کر سکو کہ سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلی والی نماز پر مغلوب نہ ہو تو کرو۴؎پھرحضور نے یہ قراءت کی سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی تسبیح کرو اس کی حمد کے ساتھ ۵؎(مسلم،بخاری)
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عِيَانًا". وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: "إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا"، ثُمَّ قَرَأَ: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} [طه: 130]. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5655 ، باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
روایت ہے حضرت صہیب سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو الله تعالٰی فرمائے گا کیا تم وہ چیز چاہتے ہو جو میں تم کو زائد دوں ۱∞؎وہ عرض کریں گے کیا تو نے ہمارے منہ اوجیالے نہ کردیئے کیا تو نے ہم کو جنت میں داخل نہیں کردیا اور ہم کو آگ سے نجات نہ دے دی۲؎فرمایا کہ رب حجاب اٹھا دے گا۳؎یہ رب کی ذات کا نظارہ کریں گے تو انہیں کوئی چیز رب کے دیدار سے زیادہ پیاری نہ دی گئی۴؎پھر حضور نے یہ تلاوت کی،نیک کاروں کے لیے اچھی چیز ہے اور زیادتی ہے۵؎(مسلم)
وَعَنْ صُهَيْبٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ "، قَالَ: "فَيُرْفَعُ الْحِجَابُ، فَيَنْظُرُونَ إِلَى وَجْهِ اللَّهِ، فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ"، ثُمَّ تَلَا: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: 26]. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. [م: 181].
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5656 ، باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنتیوں میں ادنی درجے والا وہ ہوگا جو اپنے باغات اپنی بیویوں اپنی نعمتیں اپنے خدام کو اور اپنے تختوں کو ایک ہزار سال کے پھیلاوے میں دیکھے گا ۱∞؎اور الله کے نزدیک بڑی عزت والا ہوگا وہ جو صبح شام اس کی ذات کے نظارے کرے۲؎پھر تلاوت فرمائی بعض چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھنے والے۳؎(احمد،ترمذی)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَمَنْ يَنْظُرُ إلَى جِنَانِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَنَعِيمِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ، وَأَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً". ثُمَّ قَرَأَ: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 22 - 23]. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5657 ، باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
روایت ہے حضرت ابو رزین عقیلی سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله کیا قیامت کے دن سب اپنے رب کو خلوت میں دیکھیں گے ۱∞؎فرمایا ہاں میں نے عرض کیا الله کی مخلوق میں اس کی نشانی کیا ہے فرمایا اے ابو رزین کیا تم سب چودھویں شب میں چاند کو خلوت میں نہیں دیکھتے،عرض کیا ہاں۲؎فرمایا یہ تو الله کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے،الله تو بہت جلالت و عظمت والا ہے۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي رَزِيْنٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: "بَلَى". قُلْتُ: وَمَا آيَةُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "يَا أَبَا رَزِينٍ! أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ؟ ". قَالَ: بَلَى. قَالَ: "فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5658 ، باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے پوچھا کیا اپنے رب کو دیکھا فرمایا میں نے اسے دیکھا ہے نور والا ہے ۱∞؎(مسلم)
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ قَالَ: "نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5659 ، باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے دل نے وہ نہیں جھٹلایا جو دیکھا ۱∞؎اور بے شک اس کو دوسری بار دیکھا،فرمایا حضور نے رب کو اپنے دل سے دوبار دیکھا ۲؎(مسلم)اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا حضور محمد نے اپنے رب کو دیکھا۳؎عکرمہ فرماتے ہیں میں نے کہا کیا الله تعالٰی یہ نہیں کہتا کہ اسے آنکھیں نہیں پاسکتی اور وہ آنکھوں کو پاتا ہے۴؎فرمایا تم پر افسوس ہے یہ جب ہے جب رب اپنے خاص نور سے تجلی فرمائے جو اس کا ذاتی نور ہے۵؎اور حضور نے یقینًا اپنے رب کو دو بار دیکھا۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} [النجم: 11] ، {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: 13] ، قَالَ: رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَة التِّرْمِذِي قَالَ: رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ. قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ} قَالَ: وَيْحَكَ ذَاكَ إِذَا تَجَلَّى بِنُورِهِ الَّذِي هُوَ نُورُهُ، وَقَدْ رَأَى رَبَّهُ مَرَّتَيْنِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5660 ، باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
روایت ہے حضرت شعبی سے فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کعب سے عرفہ میں ملے تو ان سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے تکبیر کہی جس سے پہاڑ گونج گئے ۱∞؎تب حضرت ابن عباس نے فرمایا ہم بنی ہاشم ہیں۲؎تب حضرت کعب نے فرمایا کہ الله تعالٰی نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم فرمادیا تو موسیٰ علیہ السلام سے دوبار کلام کیا۳؎اور محمد مصطفی نے رب کو دوبار دیکھا ۴؎مسروق کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت عائشہ کے پاس گیا میں نے عرض کیا حضور نے اپنے رب کو دیکھا ۵؎آپ بولیں تم نے ایسے بات کہی جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۶؎میں نے عرض کیا پھر میں نے یہ آیت پڑھی کہ حضور نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں۷؎آپ بولیں خیالات تمہیں کہاں لیے پھرتے ہیں وہ تو حضرت جبریل ہیں۸؎جو تمہیں خبر دے کہ حضور نے اپنے رب کو دیکھا یا جس کی تبلیغ کا حکم دیا گیا تھا اس میں سے کچھ چھپایا ۹؎یا حضور ان پانچ باتوں کو جانتے ہیں جن کے متعلق الله تعالٰی نے فرمایا کہ الله ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے بارش تو اس نے بڑا بہتان باندھا۱۰؎لیکن آپ نے حضرت جبریل کو دیکھا ان کی اصلی صورت کبھی نہ دیکھی سواء دوبار کے ایک بار سدرۃ المنتہی کے پاس اور دوسری بار محلہ اجیاد میں ان کے چھ سو پر تھے جنہوں کے کنارہ نے آسمان بند کردیئے تھے ۱۱∞؎(ترمذی)اور مسلم،بخاری نے کچھ زیادتی اور کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی روایت میں ہے فرمایا میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا تو رب کا یہ قول کہاں پھر قریب ہوا پھر تو دو کمانوں کی بلکہ اس سے بھی قریب تر،آپ بولیں یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو حضور کے پاس مرد کی صورت میں آئے تھے۱۲؎اور اس دفعہ آپ کے پاس اپنی اصلی صورت میں آئے جو ان کی اپنی صورت ہے تو کنارہ آسمان بھردیئے۱۳؎
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَعْبًا بِعَرَفَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَكَبَّرَ حَتَّى جَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا بَنُو هَاشِمِ. فَقَالَ كَعْبٌ: إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى، فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ، وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ. قَالَ مَسْرُوقٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: هَل رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ تَكَلَّمْتَ بِشَيْءٍ قَفَّ لَهُ شَعْرِيْ، قُلْتُ: رُويدًا، ثُمَّ قَرَأْتُ: {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [النجم: 18] ، فَقَالَتْ: أَيْنَ تَذْهَبُ بِكَ؟ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ. مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ، أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ، أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ} [لقمان: 34] ، فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ، لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَمَرَّةً فِي أَجْيَادٍ، لَهُ سِتُّ مِئَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الأُفُقَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
وَرَوَى الشَّيْخَانِ مَعَ زِيَادَةٍ وَاخْتِلَافٍ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ: {ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: 8 - 9] ؟ قَالَتْ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عليه السلام كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ، وَإِنَّهُ أَتَاهُ هَذِهِ الْمَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ الأُفُقَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5661 ، باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے رب کے اس فرمان کے بارے میں تو ہوا دو کمانوں کے فاصلہ یا اور زیادہ قریب ۱∞؎اور رب کے اس فرمان کے بارے میں کہ نہیں جھٹلایا دل نے جو دیکھا اور رب کے اس قول کے بارے میں کہ بے شک اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں فرمایا ان سب میں حضور نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا جن کے چھ سو بازو تھے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: 9] ، وَفِي قَوْلِهِ: {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} [النجم: 11] ، وَفِي قَوْلِهِ: {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [النجم: 18] ، قَالَ فِيهَا كُلِّهَا: رَأَى جِبْرِيلَ عليه السلام لَهُ سِتُّ مِئَةِ جَنَاحٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5662 ، باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا دل نے نہ جھٹلایا جو دیکھا فرمایا،رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو باریک ریشم کے جوڑے میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان و زمین کو بھر دیا تھا۳؎∞ ترمذی و بخاری کی روایت میں ہے رب کے اس فرمان کے متعلق بے شک ریشمی جوڑے میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان و زمین کے درمیان کو بھردیا تھا اور بخاری کی روایت میں اس آیت کے متعلق ہے کہ بے شک اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں،فرمایا آپ نے باریک سبز ریشم دیکھا جس نے آسمان کا کنارہ بھر دیا تھا ۴؎∞ اورحضرت مالک ابن انس سے باری تعالٰی کے قول"اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ"کے متعلق پوچھا گیا کہا گیا کہ ایک قوم کہتی ہے کہ لوگ رب کے ثواب کو دیکھیں گے۵؎∞ امام مالک نے فرمایا جھوٹ کہا وہ اس فرمان باری سے جا رہے ہیں کہ خبردار وہ اس دن اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے،امام مالک نے فرمایا ۶؎∞ کہ قیامت کے دن لوگ الله تعالٰی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے فرمایا اگر قیامت کے دن مؤمن اپنے رب کو نہ دیکھتے تو الله تعالٰی کفار کو حجاب سے عار نہ دلاتا ۷؎∞ اس نے فرمایا کہ وہ اس دن اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے۸؎∞(شرح سنہ)
وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَلَهُ وَلِلْبُخَارِيِّ فِي قَوْلِهِ: {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [النجم: 18] ، قَالَ: رَأَى رَفْرَفًا أَخْضَرَ سَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ. [خ:، م: 174، ت:. وَسُئِلَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] ، فَقِيلَ: قَوْمٌ يَقُولُونَ: إِلَى ثَوَابِهِ فَقَالَ مَالِكٌ: كَذَبُوا فَأَيْنَ هُمْ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} [المطففين: 15] ؟ قَالَ مَالِكٌ: النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَعْيُنِهِمْ، وَقَالَ: لَوْ لَمْ يَرَ الْمُؤْمِنُونَ رَبَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ يُعَيِّرِ اللَّهُ الْكُفَّارَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ: {كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} [المطففين: 15]. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5663 ، باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی کہ جب کہ جنتی لوگ اپنی نعمتوں میں ہوں گے کہ اچانک ان کے سامنے ایک نور چمکے گا ۱؎∞ یہ اپنے سر اٹھائیں گے تو اچانک الله تعالٰی ان پر ان کے اوپر سے متوجہ ہوگا ۲؎∞ فرمائے گا تم پر سلامتی ہو اے جنت والو۳؎∞ فرمایا یہ ہی وہ رب کا فرمان ہے،سلام کا کلام ہوگا مہربان رب کی طرف سے فرمایا پھر ان کی طرف نظر فرمائے گا وہ رب کو دیکھیں گے تو جب تک رب کو دیکھتے رہیں گے کسی نعمت کی طرف التفات نہ کریں گے۴؎∞ یہاں تک کہ ان سے حجاب فرمائے گا اور اس کا نور باقی رہے گا ۵؎∞ (ابن ماجہ)
وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ، إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ، فَرَفَعُوا رُؤُوْسَهُمْ، فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ} [يس: 58]، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَلَا يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، حَتَّى يَحْتجِبَ عَنْهُمْ، وَيَبْقَى نُورُهُ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5664 ، باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان