باب : امید اور حرص کا بیان

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے حضرت عبداللہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چوکور خط کھینچی اور ایک خط بیچ میں کھینچا اس سے نکلا ہوا اور چند خطوط چھوٹے کھینچے اس خط کی طرف جو بیچ میں تھا ۲؎اس کی طرف سے جس کے بیچ میں یہ تھا ۳؎پھر فرمایا یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے اسے گھیرے ہوئے اور یہ جو باہر نکالا ہوا ہے یہ اس کی امید ہے اور یہ چھوٹے خط آفتیں ہیں۴؎تو اگر انسان اس آفت سے بچا تو اس نے ڈس لیا اور اگر اس سے بچا تو اس نے کاٹ لیا ۵؎(بخاری)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ، وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا إِلَى هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الْوَسَطِ، فَقَالَ: "هَذَا الإِنْسَانُ، وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ، وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجٌ أَمَلُهُ، وَهَذِهِ الْخُطُطُ الصِّغَارُ الأَعْرَاضُ، فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَسَهُ هَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَسَهُ هَذَا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5268 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چند خط کھینچے پھر فرمایا یہ امید ہے اور یہ اس کی موت ہے اس حالت میں کہ انسان یوں ہی ہوتا ہے کہ قرب والا خط اسے آلیتا ہے ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- خُطُوطًا فَقَالَ: "هَذَا الأَمَلُ وَهَذَا أَجَلُهُ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُ الْخَطُّ الأَقْرَبُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5269 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ انسان بوڑھا ہوجاتا ہے اور اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں ۱؎مال کی حرص اور عمر کی حرص ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5270 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا بوڑھے کا دل دو چیزوں میں جوان رہتا ہے دنیا کی محبت اور لمبی امید میں ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَا يَزَالُ قَلْبُ الْكَبِيرِ شَابًّا فِي اثْنَيْنِ: فِي حُبِّ الدُّنْيَا وَطُولِ الأَمَلِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5271 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اس بندے کو معذور رکھتا ہے جس کی موت پیچھے کردی گئی حتی کہ اسے ساٹھ سال تک پہنچادیا ۱؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5272 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایااگر انسان کے پاس مال کے دو جنگل ہوں تو وہ تیسرا تلاش کرے ۱؎انسان کے پیٹ کو مٹی کے سواء کوئی چیز نہیں بھرسکتی ۲؎اور اتوبہ قبول کرلیتا ہے اس کی جو توبہ کرے ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا، وَلَا يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5273 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم کا بعض حصہ پکڑا ۱؎پھر فرمایا دنیا میں رہو جیسے کہ تم مسافر ہو یا راہ گیر ۲؎اور اپنے کو قبر والوں میں سے شمار کرو ۳؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ: "كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ، وعُدَّ نفسَكَ فِي أَهْلِ الْقُبُورِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5274 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے میں اور میری ماں کسی چیز کو مٹی سے لپیٹ رہے تھے تو فرمایا اے عبدایہ کیا ہے ۱؎میں نے عرض کیا ایک چیز ہے جسے ہم درست کررہے ہیں فرمایا وہ کام اس سے بھی جلد آرہا ہے ۲؎(احمد ،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَأَنَا وَأُمِّي نُطَيِّنُ شَيْئًا فَقَالَ:"مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ " قُلْتُ: شَيْءٌ نُصْلِحُهُ، قَالَ: "الأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5275 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استنجاء کرتے تھے تو فورًا مٹی سے تیمم کرلیتے تھے ۱؎میں عرض کرتا یارسول اللہ پانی آپ سے قریب ہی ہے ۲؎تو فرماتے مجھے کیا خبر ۳؎شاید اس تک نہ پہنچ سکوں ۴؎(شرح سنہ،ابن جوزی کتاب الوفاء)۵؎

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- كَانَ يُهَرِيقُ الْمَاءَ فَيَتَيَمَّمُ بِالتُّرَابِ، فَأَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ، يَقُولُ: "مَا يُدْرِينِي لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي كتاب "الْوَفَاءِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5276 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے اور اپنا ہاتھ اپنی گدی پر رکھا ۱؎پھر ہاتھ دراز کیا فرمایا یہاں اس کی امید ہے ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ"، وَوَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ قَفَاهُ ثُمَّ بَسَطَ فَقَالَ: "وَثَمَّ أَمَلُهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5277 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی اپنے سامنے گاڑی اور دوسری اس کے برابر اور تیسری اس سے بہت دور ۲؎پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا ارسول خوب جانیں،فرمایا یہ انسان ہے اور یہ موت ہے۳؎مجھے خیال ہے کہ فرمایا اوریہ امید ہے انسان امیدوں میں مشغول رہتا ہے مگر اسے امید سے پہلے موت پہنچ جاتی ہے ۴؎(شرح سنہ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- غَرَزَ عُودًا بَيْنَ يَدَيْهِ وآخَرَ إِلَى جَنْبِهِ وآخَرَ أَبْعَدَ مِنْهُ، فَقَالَ: "أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "هَذَا الإِنْسَانُ وَهَذَا الأَجَلُ"، أُرَاهُ قَالَ: "وَهَذَا الأَمَلُ، فَيَتَعَاطَى الأَمَلَ فَلَحِقَهُ الأَجَلُ دُونَ الأَمَلِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5278 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا میری امت کی عمر ساٹھ ستر سال کے درمیان ہوگی ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "عُمُرُ أُمَّتِي مِنْ سِتِّينَ سَنَةً إِلَى سَبْعِينَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5279 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت کی عمریں ساٹھ ستر سال کے درمیان ہوں گی کم لوگ اس سے آگے بڑھیں گے ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور حضرت عبداابن شخیر کی حدیثباب عیادۃ المریضمیں بیان کردی گئی ۲؎

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ، وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَذُكِرَ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بنِ الشِّخيرِ فِي (بَاب عِيَادَة الْمَرِيضِ).

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5280 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت کی پہلی درستی یقین اور زہد ہے ۱؎اور اس کا پہلا فساد بخل اور دراز امید ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "أَوَّلُ صَلَاحِ هَذِهِ الأُمَّةِ الْيَقِينُ وَالزُّهْدُ، وَأَوَّلُ فَسَادِهَا الْبُخْلُ وَالأَمَلُ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5281 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے حضرت سفیان ثوری سے ۱؎فرماتے ہیں کہ دنیا میں بے رغبتی موٹا پہننے موٹا کھانے سے معمولی غذا سے نہیں،دنیا میں بے رغبتی جھوٹی امیدوں سے ہے ۲؎(شرح سنہ)

وَعَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ: لَيْسَ الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا بِلُبْسِ الْغَلِيظِ وَالْخَشِنِ وَأَكْلِ الْجَشِبِ، إِنَّمَا الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا قِصَرُ الأَمَلِ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5282 ، باب : امید اور حرص کا بیان

روایت ہے حضرت زید ابن حسین سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے مالک سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ دنیا میں بے رغبتی کیا چیز ہے فرمایا حلال کمائی ۲؎اور جھوٹی امیدیں ۳؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا وَسُئِلَ أَيُّ شَيْءٍ الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: طِيبُ الْكَسْبِ وَقِصَرُ الأَمَلِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5283 ، باب : امید اور حرص کا بیان