- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت سعد سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی پرہیزگار بے نیاز پوشیدہ بندے کو پسند فرماتا ہے۔(مسلم)اور حضرت ابن عمر کی حدیث کہ نہیں ہے رشک۲؎مگر دو چیزوں میں فضائل قرآن کے باب میں بیان کردی گئی۳؎
عَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَذُكِرَ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ: "لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَيْنِ" فِي (بَاب فَضَائِل الْقُرْآن).
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5284 ، باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
روایت ہے حضرت ابوبکرہ ۱؎سے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله کون آدمی اچھا ہے فرمایا جس کی عمر بھی لمبی ہو اور اس کے عمل اچھے ہوں ۲؎عرض کیا تو کون آدمی برا ہے فرمایا جس کی عمر دراز ہو اور اس کے عمل برے ہوں۔(احمد،ترمذی،دارمی)
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ النَّاسِ خيرٌ؟ قَالَ: "مَنْ طَالَ عمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ"، قَالَ: فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟قَالَ: "مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5285 ، باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
روایت ہے حضرت عبید ابن خالد سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے دو شخصوں کے درمیان بھائی چارہ فرمایا ۱؎تو ان میں سے ایک اﷲکی راہ میں مارا گیا پھر ایک ہفتہ یا اس کے قریب میں دوسرا آدمی فوت ہوا ۲؎لوگوں نے اس پر نماز پڑھی تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کیاکہا ۳؎عرض کیا ہم نے اﷲسے دعا کی کہ اسے بخش دے اس پر رحم کر اسے اس کے ساتھی سے ملادے۴؎تب نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس شہید کے بعد اس کی نمازیں اور اس کے عمل یا فرمایا شہید کے روزوں کے بعد اس کے روزے کہاں گئے ان کے درمیان کا فاصلہ آسمان و زمین کے فاصلہ سے زیادہ ۵؎دراز ہے(ابوداؤ د،نسائی)
وَعَنْ عُبَيْدِ ابْنِ خَالِدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- آخَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ مَاتَ الآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ أَوْ نَحْوِهَا، فَصَلَّوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا قُلْتُمْ؟ " قَالُوا: دَعَوْنَا اللَّهَ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَيَرْحَمَهُ وَيُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ؟ " أَوْ قَالَ: "صِيَامُهُ بَعْدَ صِيَامِهِ، لَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5286 ، باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
روایت ہے حضرت ابو کبشہ انماری سے ۱؎کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تین باتیں وہ ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں اور ایک بات کی تمہیں خبر دیتا ہوں ۲؎اسے یاد رکھو وہ تین باتیں جن پر میں قسم فرماتا ہوں وہ یہ ہیں کہ کسی بندے کا مال صدقہ سے نہیں گھٹتا ۳؎اور کوئی ظلم نہیں کیا جاتا جس پر وہ صبر کرے ۴؎مگر اﷲتعالٰی اس سے اس کی عزت بڑھاتا ہے ۵؎اور کوئی بندہ مانگنے کا دروازہ نہیں کھولتا مگر الله اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے ۶؎اور جس چیز کی میں تمہیں خبر دیتا ہوں جسے تم یاد رکھو،فرمایا دنیا چار شخصوں کے لیے ہے ایک وہ بندہ جسے الله مال اور علم دونوں دے ۷؎تو وہ اس میں اﷲسے ڈرتا ہے،رشتہ داروں سے سلوک کرتا ہے اور اس میں اﷲکے لیے ان کے حق کے مطابق عمل کرتا ہے ۸؎تو یہ بہترین درجوں میں ہے ۹؎اور ایک وہ بندہ جسے اﷲنے علم دیا مال نہ دیا لیکن وہ ہے سچی نیت والا،کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کے لیے کام کرتا ان دونوں کا ثواب برابر ہے ۱۰؎اور ایک وہ بندہ جسے اﷲمال دے اورعلم نہ دے تو وہ اپنے مال میں بغیرعلم خلط ملط ہی کرتا ہے ۱۱؎اس میں اپنے رب سے نہیں ڈرتا اپنے رشتہ داروں سے سلوک نہیں کرتا اور نہ اس میں حق کے عمل کرتا ہے ۱۲؎تو یہ خبیث ترین درجہ والا ہے ۱۳؎اور ایک وہ بندہ جسے اﷲنہ مال دے نہ علم تو وہ کہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اس میں فلاں کے سے کام کرتا تو وہ اپنی نیت پر ہے۱۴؎اور ان دونوں کا گناہ برابرہے ۱۵؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الأَنْمَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ، فَأَمَّا الَّذِي أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ فَإِنَّهُ مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَةٍ،وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَظْلِمَةً صَبَرَ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا، وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ، وَأَمَّا الَّذِي أُحَدِّثُكُمْ فَاحْفَظُوهُ" فَقَالَ: "إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ: عَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ رَحِمَهُ وَيَعْمَلُ لِلَّهِ فِيهِ بِحَقِّهِ، فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ،وَعَبدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ، وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَتَخَبَّطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ، وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَلَا يَعْمَلُ فِيهِ بِحَقٍّ، فَهَذَا بِأَخْبثِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٌ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ، فَهُوَ نِيَّتُهُ، وَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5287 ، باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اﷲتعالٰی جب کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو اس سے کام لیتا ہے ۱؎عرض کیا گیا یارسول الله کیسے کام لیتا ہے ۲؎فرمایا اسے موت سے پہلے نیک اعمال کی توفیق دیتا ہے۳؎(ترمذی)۴؎
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ"، فَقِيلَ: وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ الموتِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5288 ، باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو قریب کردے ۲؎اور بعد موت کے لیے عمل کرے۳؎اورعاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگادے اور اﷲپر آرزو میں رکھے ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا.وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5289 ، باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
روایت ہے نبی صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں تھے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے تجلی فرمائی(تشریف لائے)۲؎آپ کے سر پر پانی کا اثر تھا ہم نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ہم حضور کو بہت خوش دل دیکھ رہے ہیں۳؎فرمایا ہاں،راوی کہتے ہیں کہ پھر قوم امیری کے ذکر میں مشغول ہوگئی۴؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مالداری میں حرج نہیں اس کے لیے جو الله سے ڈرے ۵؎متقی کے لیے تندرستی امیری سے بہتر ہے۶؎اور دل کی خوشی نعمتوں میں سے ہے ۷؎(احمد)
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ، قَالَ: "أَجَلْ"، قَالَ: ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى، وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النَّعِيمِ"رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5290 ، باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
روایت ہے حضرت سفیان ثوری سے فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانہ میں مال ناپسند تھا ۱؎لیکن آج مال مؤمن کی ڈھال ہے ۲؎اور فرمایا اگر یہ اشرفیاں نہ ہوتیں تو یہ بادشاہ ہم کو رومال بنالیتے ۳؎اور فرمایا کہ جس کے پاس کچھ دولت ہو تو وہ اسے سنبھالے۴؎بڑھائے کیونکہ یہ زمانہ وہ ہے کہ اگر کوئی محتاج ہوجاوے تو پہلی جو چیز خرچ کرتا وہ اس کا دین ہے ۵؎فرمایا کہ حلال مال میں فضول خرچی کی گنجائش نہیں ۶؎(شرح سنہ)
وَعَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ: كَانَ الْمَالُ فِيمَا مَضَى يُكْرَهُ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَهُوَ تُرْسُ الْمُؤْمِنِ، وَقَالَ: لَوْلَا هَذِهِ الدَّنَانِيرُ لَتَمَنْدَلَ بِنَا هَؤُلَاءِ الْمُلُوكُ، وَقَالَ: مَنْ كَانَ فِي يَدِهِ مِنْ هَذِهِ شَيْءٌ فَلْيُصْلِحْهُ، فَإِنَّهُ زَمَانٌ إِنِ احْتَاجَ كَانَ أَوَّلَ مَنْ يَبْذُلُ دِينَهُ، وَقَالَ: الْحَلَالُ لَا يَحْتَمِلُ السَّرَفَ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5291 ، باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن پکارنے والا پکارے گا کہ ساٹھ سالہ لوگ کہاں ہیں ۱؎یہ عمر وہ ہے جس کے متعلق اﷲتعالٰی فرماتا ہے کیا ہم نے تم کو اس قدر عمر نہ دی جس میں نصیحت پکڑنے والا نصیحت پکڑے ۲؎اور آیا تمہارے پاس ڈرانے والا ۳؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: يُنَادِي مُنَادٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ أَبْنَاءُ السِتِّينَ؟ وَهُوَ الْعُمُرُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5292 ، باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
روایت ہے حضرت عبداﷲابن شداد سے ۱؎فرماتے ہیں کہ بنی عذرہ کے تین شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ مسلمان ہوگئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا انہیں ہماری طرف سے کوئی سنبھالے گا ۲؎جناب طلحہ بولے میں،تو وہ ان کے پاس رہے پھر نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تو ان میں سے ایک اس لشکر میں گیا وہ شہید ہوگیا ۳؎پھر اور لشکر بھیجا تو ان میں دوسرا گیا تو وہ شہید کردیا گیا پھر مرگیا تیسرا اپنے بستر پر۴؎راوی کہتے ہیں کہ جناب طلحہ نے فرمایا کہ میں نے ان تینوں کو جنت میں دیکھا ۵؎اور اپنے بستر پر مرنے والے کو ان سب کے آگے دیکھا اور جو پیچھے شہید ہوا تھا اسے اس کے قریب دیکھا اور پہلے کو اس کے قریب دیکھا۶؎میرے دل میں اس سے کچھ آگیا ۷؎تب پہلے نبی صلی الله علیہ وسلم سے یہ عرض کیا تو فرمایا کہ تم نے اس میں سے کس چیز پر تعجب کیا الله کے نزدیک اس مؤمن سے کوئی افضل نہیں جسے اسلام میں زیادہ عمر دی جاوے ۸؎اس کی تسبیح اس کی تکبیر اس کے کلمہ کی وجہ سے ۹؎
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: إِنَّ نفًرًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ثَلَاثَةٌ أَتَوُا النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَأَسْلَمُوا،قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ يَكْفِينِيهِمْ؟ " قَالَ طَلْحَةُ: أَنَا، فَكَانُوا عِنْدَهُ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- بَعْثًا، فَخَرَجَ فِيهِ أَحَدُهُمْ فَاسْتُشْهِدَ، ثُمَّ بَعَثَ بَعْثًا فَخَرَجَ فِيهِ الآخَرُ فَاسْتُشْهِدَ، ثُمَّ مَاتَ الثَّالِثُ عَلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: قَالَ طَلْحَةُ: فَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ فِي الْجَنَّةِ، وَرَأَيْتُ الْمَيِّتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَمَامَهُمْ، وَالَّذِي اسْتُشْهِدَ آخِرًا يَلِيهِ، وَأَوَّلَهُمْ يَلِيهِ، فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَالَ: "وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ؟ لَيْسَ أَحَدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَمَّرُ فِي الإِسْلَامِ لِتَسْبِيحِهِ وَتَكْبِيرِهِ وَتَهْلِيلِهِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5293 ، باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
روایت ہے حضرت محمد ابن ابو عمیرہ سے ۱؎یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے تھے،حضور نے فرمایا کہ اگر کوئی بندہ اپنی پیدائش کے دن سے اپنے چہرے کے بل گر جاوے حتی کہ الله کی اطاعت میں بوڑھا ہوکر مرجاوے ۲؎تو اس دن اس عبادت کو حقیر سمجھے گا ۳؎اور تمنا کرے گا کہ دنیا میں لوٹایا جاوے تاکہ اجروثواب اور زیادہ کرے۴؎دونوں حدیثیں احمد نے روایت کیں۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ -وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: إِنَّ عَبْدًا لَوْ خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمَ وُلدَ إِلَى أَنْ يَمُوتَ هَرِمًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَحَقَّرَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، وَلَوَدَّ أَنَّهُ رُدَّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنَ الأَجْرِ وَالثَّوَابِ. رَوَاهُمَا أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5294 ، باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا