باب:لعان کا بیان

نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ساعدی سے فرماتے ہیں کہ عویمر عجلانی نے عرض کیا ۱؎یارسول افرمایئے تو ایک شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے ۲؎کیا وہ اسے قتل کردے تو مسلمان اسے قتل کردیں گے ۳؎کیا کرے تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تیرے اور تیری بیوی کے متعلق آیت نازل کر دی گئی ۴؎تم جاؤ اسے لے آؤ ۵؎سہل فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے مسجد میں لعان لیا ۶؎میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب وہ زوجین فارغ ہوچکے تو عویمر بولے کہ میں نے اس پر جھوٹ ہی لگایا یارسول ا۷؎اگر اس کو روک رکھوں چنانچہ اسے تین طلاقیں دے دیں ۸؎پھر رسول انے فرمایا لوگو خیال رکھنا اگر وہ عورت جنے بچہ سیاہ رنگ بڑی آنکھ والا بڑے سرین والا بڑی پنڈلیانوالہ تو میں عویمر کو اس عورت پر سچا ہی گمان کرتا ہوں ۹؎اور اگر وہ عورت بچہ جنے سرخ رنگ والا گویا وہ بامنی ہے ۱۰؎تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر نے اس پر جھوٹ ہی بولا ۱۱؎پھر اس عورت نے بچہ اس صفت پر جنا جس پر رسول انے عویمر کو سچا فرمایا تھا پھر وہ بچہ بعد میں اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۱۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: إِنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رجُلًا أَيَقْتُلُهُ فِيَقْتُلُونَهُ؟ أمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا" قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِن أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "انْظُرُوا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ، أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ، عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا،وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا"، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، فَكَانَ بَعْدُ يُنْسَبُ إِلَى أُمِّهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3304 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کیا تو وہ مرد الگ ہوگیا اس کے بچہ سے ۱؎پس جدائی کردی ان کے درمیان ۲؎اور بچہ کو ماں سے منسوب کیا ۳؎(مسلم،بخاری)اور مسلم،بخاری کی ان کی ہی حدیث میں ہے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو نصیحت کی اور ڈرایا اور بتایا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے ۴؎پھر عورت کو بلایا اور اسے نصیحت کی ڈرایا اور بتایا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے۵؎

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ فَانْتَفى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي حَدِيثِهِ لَهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ: أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ، ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا: أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3305 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے لعان والے زوجین سے فرمایا کہ تم دونوں کا حساب اکے ہاں ہے ۱؎تم میں سے ایک جھوٹا ہے اب تم کو اس عورت پر کوئی حق نہیں آیا ۲؎عرض کیا یارسول اصلی اللہ علیہ و سلم میرا مال ۳؎تو فرمایا مال تجھے نہ ملے اگر تو نے اس پر سچ بولا ہے تو مال اس عوض میں رہا کہ تو نے اس کی شرمگاہ میں تصرف کرلیا ۴؎اور اگر تم نے اس پر جھوٹ باندھا ہے تو یہ تجھ سے بہت بہت دور ہے ۵؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: "حِسَابُكُمَا عَلَى اللّٰهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالِي قَالَ: "لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ وَأَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3306 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ہلال ابن امیہ نے ۱؎حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے نزدیک اپنی بیوی کو شریک ابن سحماء سے تہمت لگائی ۲؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا گواہ لاؤ یا تمہاری پیٹھ میں سزا ہے ۳؎وہ بولے یارسول اصلی اللہ علیہ و سلم جب ہم میں سے کوئی اپنی بیوی پر کسی مرد کو دیکھے تو گواہ ڈھونڈتا پھرے ۴؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرمانے لگے گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ میں سزا ہوگی ۵؎ہلال بولے اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں سچا ہوں تو اتعالٰی ضرور وہ آیات اتارے گا جو میری پیٹھ کو سزا سے بچالیں گی ۶؎اتنے میں جبرئیل اترے اور آپ پر یہ آیت اتاری ۷؎اور وہ لوگ جو الزام لگائیں اپنی بیویوں کو،پھر پڑھی حتی کہان کان من الصادقینتک پہنچ گئے پھر ہلال آئے گواہی دی۸؎اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ یقینًا اجانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرلے گا۹؎پھر عورت کھڑی ہوئی پس گواہی دی جب پانچویں پر پہنچی ۱۰؎تو لوگوں نے اسے ٹھہرالیا اور بولے کہ یہ واجب کرنے والی ہے ۱۱؎ابن عباس فرماتے ہیں کہ وہ کچھ ٹھہری اور لوٹی حتی کہ ہم نے گمان کر لیا کہ یہ رجوع کرلے گی ۱۲؎پھر بولی میں اپنی قوم کو کبھی رسوا نہ کروں گی پھر گزر گئی ۱۳؎اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے دیکھنا اگر یہ سرمگیں آنکھوں والا بھرے چوتڑوں والا پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ شریک ابن سحماء کا ہے ۱۴؎پھر وہ ایسا بچہ لائی فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اگر قرآن کا وہ حکم جو گزر گیا نہ ہوتا ۱۵؎تو میرا اور اس عورت کا کچھ حال ہوتا ۱۶؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْبَيِّنَةَ. أَوْ حَدًّا فِي ظَهْرِكَ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِذَا رَأَى أَحَدُنَا عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلًا يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ؟ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "الْبَيِّنَةَ، وَإِلَّا حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ" فَقَالَ هِلَالٌ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ، فَلَيُنْزِلَنَّ اللّٰهُ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، فَجَاءَ هِلَالٌ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ ثُمَّ قَامَتْ، فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَتْ عِنْدَ الْخَامِسَةِ وَقَفُوهَا، وَقَالُوا: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا تَرْجِعُ، ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، فَمَضَتْ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ، سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ" فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3307 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا سعد ابن عبادہ نے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا اسے نہ چھوؤں حتی کہ چار گواہ لاؤں تو رسول انے فرمایا ہاں ۱؎بولے ہر گز نہیں قسم اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں تو اسے اس سے پہلے تلوار سے جلد ماردوں ۲؎رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا سنو جو تمہارا یہ سردار کہتا ہے ۳؎یہ بڑا ہی غیرت مند ہے ۴؎اور میں اس سے بڑھ کر غیرتمند ہوں اور امجھ سے زیادہ غیور ہے۵؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "نَعَمْ" قَالَ: كَلَّا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ كُنْتُ لأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ، إِنَّهُ لَغَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللّٰهُ أَغْيَرُ مِنِّي". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3308 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت مغیرہ سے فرماتے ہیں فرمایا سعد ابن عبادہ نے اگر میں کسی مرد کو اپنی عورت کے ساتھ دیکھوں تو اسے مار دوں تلوار سے چوڑائی سے نہیں ۱؎یہ خبر رسول اکو پہنچی تو فرمایا کیا تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو ۲؎اکی قسم میں ان سے بڑھ کر غیرت مند ہوں ۳؎اور امجھ سے زیادہ غیور ہے اکی غیرت کی وجہ سے کہ انے ظاہر باطن فحش چیزیں حرام فرمادیں ۴؎اور اسے زیادہ کسی کو معذرت پسند نہیں ۵؎اسی لیے انے ڈرانے والے اور بشارت دینے والے بھیجے ۶؎اور ایسا کوئی نہیں ہے جسے اسے زیادہ تعریف پسند ہو ۷؎اسی وجہ سے انے جنت کا وعدہ فرمایا ۸؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفِحٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ؟ وَاللّٰهِ لأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللّٰهُ أَغْيَرُ مِنِّي، وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللّٰهِ حَرَّمَ اللّٰهُ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللّٰهِ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ الْمُنْذِرِينَ وَالْمُبَشِّرِينَ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللّٰهِ، وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللّٰهُ الْجَنَّةَ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3309 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بے شک اتعالٰی غیرت فرماتا ہے اور یقینًا مؤمن غیرت کرتا ہے ۱؎اور اکی غیرت یہ ہے کہ مومن وہ کام نہ کرے جو انے حرام کئے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى يَغَارُ، وَإنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ، وَغَيْرَةُ اللّٰهِ أَنْ لَا يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3310 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے ان ہی سے کہ ایک بدوی رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا میری بیوی نے سیاہ لڑکا جنا اور میں نے اس کا انکار کردیا ۱؎تو اس سے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیاتیرے پاس اونٹ ہیں بولا ہاں فرمایا ان کے رنگ کیا ہیں بولا سرخ فرمایا کیا ان میں کوئی چتکبرہ بھی ہے بولا اس میں چتکبرہ ہے ۲؎فرمایاا سے تو کہاں سے دیکھتا ہے کہ یہ آیا۳؎بولا کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ۴؎فرمایا تو شاید اسے بھی رگ نے کھینچ لیا ۵؎اور اس نے اپنے سے انکار کی اجازت نہ دی ۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إنَّ امْرَأَتي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "فَمَا أَلْوَانُهَا؟ " قَالَ: حُمْرٌ قَالَ: "هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ " قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا قَالَ: "فَأَنَّى تُرَى ذَلِكَ جَاءَهَا؟ " قَالَ: عِرْقٌ نَزَعَهَا قَالَ: "فَلَعَلَّ هَذَا عِرْقٌ نزَعَهُ"، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3311 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ عتبہ ابن ابی وقاص نے ۱؎اپنے بھائی سعد ابن ابی وقاص سے عہد لیا تھا کہ زمعہ کی لونڈی کا بچہ مجھ سے ہے تو تم اس پر قبضہ کرلینا ۲؎پھر جب فتح مکہ کا سال ہوا تو اسے سعد نے لے لیا بولے کہ یہ میرا بھتیجا ہے ۳؎اور عبداللہ ابن زمعہ نے کہا یہ میرابھائی ہے ۴؎یہ دونوں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی طرف مقدمہ لے گئے ۵؎سعد نے کہا یارسول امیرے بھائی نے اس بچہ کے بارے میں مجھ سے عہد کیا تھا اور عبداللہ ابن زمعہ بولے کہ یہ میرا بھائی ہے میرے باپ کی لونڈی کا بچہ ہے جو اس کے بستر پر پیدا ہوا ۶؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے عبد اللہ ابن زمعہ وہ بچہ تمہارا ہے ۷؎بچہ مستحق ولدکا ہوتاہے زانی کے لیے پتھر ۸؎پھر سودہ بنت زمعہ سے فرمایا کہ اس بچہ سے پردہ کرنا کیونکہ اس کی مشابہت عتبہ سے دیکھی ۹؎چنانچہ اس لڑکے نے سودہ کو نہ دیکھا حتّٰی کہ اسے مل گیا ۱۰؎اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا اے عبد ابن زمعہ وہ تمہارا بھائی ہے اس لیے کہ وہ ان کے باپ کے بستر پر پیدا ہوا تھا۱۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ فَقَالَ: إِنَّهُ ابْنُ أَخِي، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي، فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ ولِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: "احْتَجِبِي مِنْهُ" لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: "هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدَ بْنَ زَمَعَةَ" مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِيهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3312 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میرے پاس رسول اصلی اللہ علیہ و سلم ایک دن خوش تشریف لائے فرمایا اے عائشہ کیا تمہیں خبر نہیں کہمجززمدلجی آیا تھا ۱؎جب اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا حالانکہ ان دونوں پر کمبل تھا کہ انہوں نے سر ڈھکے ہوئے تھے اور ان کے قدم کھلے ہوئے تھے تو بولا کہ یہ قدم ان کے بعض بعض سے ہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَسْرُورٌ فَقَالَ: "أَيْ عَائِشَةُ! أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ، فَلَمَّا رَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قطيفةٌ قَدْ غَطَّيَا رُؤُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعضٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3313 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص اور حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے جو اپنے کو نسبت کرے اپنے غیر باپ کی طرف حالانکہ جانتا ہو تو اس پر جنت حرام ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَأَبِي بَكْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3314 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اپنے باپ دادوں سے منہ نه پھیرو ۱؎جو اپنے باپ سے اعراض کرے اس نے کفران کیا ۲؎(مسلم،بخاری)اور حضرت عائشہ کی حدیث خدا سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نماز خسوف کے باب میں ذکر ہوا ۳؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَقَدْ كَفَرَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَقَدْ ذُكِرَ حَدِيثُ عَائِشَةَ "مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللّٰهِ" فِي "بَاب صَلَاة الْخُسُوفِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3315 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا جب لعان کی آیت اتری جو عورت کسی قوم پر اسے داخل کرے جو ان میں سے نہیں ۱؎تو وہ اکی رحمت میں سے کسی حصہ میں نہیں ۲؎اور اسے ااپنی جنت میں ہر گز داخل نہ کرے گا۳؎اور جو شخص اپنے بچہ کا انکار کرے وہ اسے دیکھتا ہو۴؎تو ااس سے حجاب فرمائے گا۵؎اور اس کو مخلوق کے سامنے اگلے پچھلوں میں رسوا کرے گا۶؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ: "أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللّٰهِ فِي شَيْءٍ، وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللّٰهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، احْتَجَبَ اللّٰهُ مِنْهُ وَفَضَحَهُ عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ فِي الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالْدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3316 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا بولا میری بیوی کسی چھو نے والے کا ہاتھ رد نہیں کرتی ۱؎تو اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے طلاق دے دے ۲؎وہ بولا میں اس سے محبت کرتا ہوں ۳؎تو فرمایا تو اسے روک رکھ ۴؎(ابوداؤد،نسائی)اور نسائی نے فرمایا کہ بعض راویوں نے اسے حضرت ابن عباس تک مرفوع کیا اور بعض نے اسے مرفوع نہ کیا اور کہا کہ یہ حدیث ثابت نہیں ۵؎

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِي امْرَأَةً لَا تَرُدُّ يَدَ لَامِسٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "طَلِّقْهَا" قَالَ: إِنِّي أُحِبُّها قَالَ:"فَأَمْسِكْهَا إِذًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ النَّسَائِيُّ: رَفَعَهُ أَحَدُ الرُّوَاةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَحَدُهُمْ لَمْ يَرْفَعْهُ، قَالَ: وَهَذَا الحَدِيثُ لَيْسَ بِثَابِتٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3317 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ ہر ملایا ہوا شخص جو ملایا گیا ہو اس باپ کے بعد جس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس کا دعوی کیا اس کے وارثوں نے ۱؎پس فیصلہ فرمایا ۲؎کہ جو اس لونڈی سے ہو جس کا مالک تھا اس دن جب اس سے صحبت کی تو وہ مل گیا اس سے جس سے اسے ملایا ۳؎اور اسے اس میراث سے کچھ نہ ملے گا جو اس سے پہلے تقسیم کی جاچکی۴؎اور جو میراث پالی کہ اب تک تقسیم نہ کی گئی تھی تو اس کے لیے اس کا حصہ ہے ۵؎اور نہ ملایا جاسکے گا جب کہ اس کے اس باپ نے جس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس کا انکار کردیا ہو ۶؎پھر اگر اس لونڈی سے ہو جس کا وہ مالک نہ تھا یا لونڈی سے ہو جس سے زنا کیا ہو تو وہ اس سے نہ ملے گا اور نہ وارث ہوگا اگرچہ اس کا دعویٰ وہ ہی کرے جس کی طرف منسوب کیا جارہا ہے کیونکہ وہ زنا کا بچہ ہے آزاد سے ہو یا لونڈی سے ۷؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَضَى أَنَّ كلَّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ، فَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ، وَلَيْسَ لَهُ مِمَّا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ، وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَلَا يُلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أمَةٍ لَمْ يَمْلِكْهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يُلْحَقُ وَلَا يَرِثُ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ، فَهُوَ وَلَدُ زِنْيَةٍ مِنْ حُرَّةٍ كَانَ أَوْ أَمَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3318 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت جابر ابن عتیک سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بعض شرم وہ ہیں جنہیں اپسند کرتا ہے اور بعض شرم وہ ہیں جنہیں اناپسند کرتا ہے ۲؎لیکن وہ شرم جسے اپسند کرتا ہے وہ مشکوک چیزوں میں شرم ہے ۳؎اور لیکن وہ شرم جسے اناپسند کرتا ہے وہ غیر مشکوک چیز میں شرم ہے ۴؎اور بعض ناز وہ ہیں جنہیں اناپسند کرتا ہے ۵؎اور بعض ناز وہ ہیں جنہیں اپسند کرتا ہے لیکن وہ ناز جسے اپسند کرتا ہے ۶؎وہ کسی کا ناز کرنا ہے جہاد کے وقت ۷؎اور اس کا ناز ہے خیرات کے وقت ۸؎اور لیکن وہ ناز جسے اناپسند کرتا ہے وہ فخریہ ناز ہے ۹؎اور ایک روایت میں ہے وہ سرکشی میں ناز ہے ۱۰؎(ابوداؤد، نسائی)

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مِن الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ، وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، فَأَمَّا الَّتِي يُحِبُّهَا اللّٰهُ فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الَّتِي يُبْغِضُهَا اللّٰهُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ، وَإِنَّ مِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، وَمِنْهَا مَا يُحِبُّ اللَّهُ، فَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللّٰهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ عِنْدَ الصَّدَقَةِ، وَأَمَّا الَّتِي يُبْغِضُ اللّٰهُ فَاخْتِيَالُهُ فِي الْفَخْرِ" وَفِي رِوَايَةٍ: "فِي الْبَغْي". رَوَاهُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3319 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں ایک شخص کھڑا ہوا بولا یا رسول اکہ فلاں شخص میرا بیٹا ہے میں نے اس کی ماں سے زمانہ جاہلیت میں زنا کیا تھا ۱؎تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسلام میں ایسا دعویٰ جائز نہیں۲؎جاہلیت کے دور کی باتیں گئیں بچہ فراش کا ہے زانی کے لیے پتھر ہیں ۳؎(ابوداؤد)

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ فَلَانًا ابْنِي عَاهَرْتُ بِأُمِّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا دِعْوَةَ فِي الإِسْلَامِ، ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3320 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے ان ہی سے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے چار عورتیں جن میں لعان نہیں ۱؎عیسائن مسلمان کے نیچے یہودیہ مسلمان کے نیچے ۲؎اور آزاد عورت غلام کے نیچے اور لونڈی آزاد کے نیچے ۳؎(ابن ماجہ)۴؎

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لَا مُلَاعَنَةَ بَيْنَهُنَّ: النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ، وَالْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3321 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب دو لعان والوں کو لعان کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص کو حکم دیا کہ پانچویں قسم پر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لے ۱؎اور فرمایا کہ یہ قسم واجب کرنے والی ہے ۲؎(نسائی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا حِينَ أَمَرَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يَتَلَاعَنَا أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ عَلَى فِيهِ وَقَالَ: "إِنَّهَا مُوجِبَةٌ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3322 ، باب:لعان کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس سے ایک رات تشریف لے گئے فرماتی ہیں کہ میں نے اس پر غیرت کی ۱؎پھر آپ تشریف لائے تو دیکھا جو میں کررہی تھی ۲؎فرمایا اے عائشہ کیا حال ہے کیا غیرت کھاگئیں میں بولی مجھے کیا ہوا کہ مجھ جیسی بی بی آپ جیسے پر غیرت نہ کرے ۳؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس شیطان آگیا ۴؎بولیں یارسول اکیا میرے ساتھ شیطان ہے فرمایا ہاں ۵؎میں نے کہا اور آپ کے ساتھ یارسول افرمایا ہاں لیکن انے اس پر میری مدد فرمائی حتی کہ وہ مؤمن ہوگیا ۶؎(مسلم)

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا قَالَتْ: فَغِرْتُ عَلَيْهِ، فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ: "مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ؟ " فَقُلْتُ: وَمَا لِي لَا يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَمَعِي شَيْطَانٌ؟ قَالَ: "نَعَمْ" قُلْتُ: وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّه؟ قَالَ: "نعم وَلَكِنْ أَعَانَنِي اللّٰهُ علَيهِ حَتَّى أسلَمَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3323 ، باب:لعان کا بیان