باب: کرایہ کا باب

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن مغفل ۱؎سے فرماتے ہیں کہ ثابت ابن ضحاک نے فرمایا ۲؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کھیتی کرانے سے منع فرمایا ۳؎اور زمین کرایہ پر دینے کی اجازت دی اور فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ۴؎(مسلم)

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: زَعَمَ ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنِ الْمُزَارَعَةِ وَأَمَرَ بِالمُؤَاجَرَةِ وَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2981 ، باب: کرایہ کا باب

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے پچھنے لگوائے اور لگانے والے کو مزدوری دی ۱؎اور نسوارلی ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهٗ، وَاسْتَعَطَّ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2982 ، باب: کرایہ کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہاللّٰهنے کوئی نبی نہ بھیجا مگر انہوں نے بکریاں چرائیں ۱؎صحابہ نے عرض کیا حضور آپ نے فرمایا ہاں میں مکہ والوں کی بکریاں کچھ قیراط کے عوض چَراتا تھا ۲؎(بخاری)روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہاللّٰهنے کوئی نبی نہ بھیجا مگر انہوں نے بکریاں چرائیں ۱؎صحابہ نے عرض کیا حضور آپ نے فرمایا ہاں میں مکہ والوں کی بکریاں کچھ قیراط کے عوض چَراتا تھا ۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بَعَثَ اللّٰهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ» . فَقَالَ أَصْحَابُهٗ : وَأَنْتَ؟ فَقَالَ:«نَعَمْ كُنْتُ أَرْعٰى عَلٰى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2983 ، باب: کرایہ کا باب

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہاللّٰهتعالٰی فرماتا ہے کہ میں قیامت کے دن تین شخصوں کا مدمقابل ہوں گا ۱؎ایک وہ شخص جو میرے نام پر وعدہ دے پھر عہد شکنی کرے ۲؎دوسرا وہ شخص جو آزاد کو بیچے پھر اس کی قیمت کھائے ۳؎تیسرا وہ شخص جو مزدور سے کام پورا لے اور اس کی مزدوری نہ دے ۴؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطٰى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهٗ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفٰى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهٖ أَجْرَهٗ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2984 ، باب: کرایہ کا باب

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے صحابہ کی ایک جماعت کسی گھاٹ پر گزری ۱؎جس میں ایک سانپ یا بچھو کا ڈسا ہوا تھا تو گھاٹ والوں میں سے ایک شخص ان کے پاس آکر بولا کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے گھاٹ میں ایک شخص بچھو یا سانپ کا کاٹا ہوا ہے ۲؎تو صحابی میں سے ایک صاحب کچھ بکریوں کی شرط پر چلے گئے ۳؎سورۂ فاتحہ پڑھ دی وہ اچھا ہوگیا وہ اپنے ساتھیوں کے پاس کچھ بکریاں لائے صحابہ نے ناپسند کیں ۴؎وہ بولے تم نے کتاباللّٰهپر اجرت لی ہے یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے بولے یا رسولاللّٰهانہوں نے کتاباللّٰهپر اجرت لی ہے تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یقینًا اجرت لینے کی سب سے زیادہ لائق کتاباللّٰهہے ۵؎(بخاری)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تم نے ٹھیک کیا بانٹ لو اور اپنے ساتھ ہمارا حصہ بھی رکھو ۶؎

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَقَالَ: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ إِنَّ فِي الْمَاءَ لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ فَبَرِئَ فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلٰى أَصْحَابِهٖ فَكَرِهُوا ذٰلِكَ وَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلٰى كِتَابِ اللّٰهِ أَجْرًا حَتّٰى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَخَذَ عَلٰى كِتَابِ اللّٰهِ أَجْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللّٰهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ: «أَصَبْتُمُ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْمًا»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2985 ، باب: کرایہ کا باب

روایت ہے حضرت خارجہ ابن صلت سے وہ اپنے چچا سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس آئے تو عرب کے ایک قبیلہ پر گزرے وہ لوگ بولے ہمیں خبر ملی ہے کہ تم ان محبوب کے پاس سے بڑی خیر لے کر آئے ہو ۲؎تو کیا تمہارے پاس کوئی دوا یا دم درود ہے ہمارے ہاں ایک دیوانہ قید میں بندھا ہوا ہے ۳؎ہم بولے ہاں چنانچہ وہ لوگ بیڑیاں پہنے ایک دیوانہ لائے میں نے تین دن تک صبح شام اس پر سورۂ فاتحہ پڑھی کہ اپنا تھوک جمع کرتا پھر اس پر تھتکار دیتا تھا۴؎وہ تو گویا رسیوں سے کھل گیا انہوں نے مجھے کچھ اجرت پیش کی میں بولا نہیں حتی کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھ لوں ۵؎حضور نے فرمایا کھاؤ میری زندگی کی قسم یہ اجرت اسی کے لیے ہے جو جھوٹے دم سے کھائے تم نے توسچے دم سے کھایا ہے ۶؎(احمد،ابوداؤد)

عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّهٖ قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا عَلٰى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا: إِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ قَدْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هٰذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رُقْيَةٍ؟ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُود فَقُلْنَا: نَعَمْ، فَجَاؤُوا بِمَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً أَجْمَعُ بُزَاقِي ثُمَّ أَتْفُلُ قَالَ: فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا فَقُلْتُ: لَا حَتّٰى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كُلْ فَلَعُمُرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2986 ، باب: کرایہ کا باب

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے دے دو ۱؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم:أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهٗ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهٗ .رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2987 ، باب: کرایہ کا باب

روایت ہے حضرت حسین ابن علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ مانگنے والے کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر آئے ۱؎(احمد،ابوداؤد)۲؎اور مصابیح میں مرسل ہے ۳؎

وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلٰى فَرَسٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَفِي "الْمَصَابِيحِ": مُرْسَلٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2988 ، باب: کرایہ کا باب

روایت ہے حضرت عتبہ ابن نذر سے ۱؎فرماتے ہیں ہم رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس تھے کہ آپ نے سورۃطسمپڑھی حتی کہ حضرت موسیٰ کے قصہ پر پہنچے ۲؎فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے نفس کو اپنی پاکدامنی کی حفاظت اور اپنے پیٹ کی روٹی پر آٹھ یا دس سال اجرت پر دیا ۳؎(احمد،ابن ماجہ)

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ الْمُنْذِرِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ: (طٓسٓمٓ)حَتَّى بَلَّغَ قِصَّةَ مُوسٰى قَالَ: «إِنَّ مُوسٰى عَلَيْهِ السَّلَامُ آجَرَ نَفْسَهٗ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ عَشْرًا عَلٰى عِفَّةِ فَرْجِهٖ وَطَعَامِ بَطْنِهٖ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْن مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2989 ، باب: کرایہ کا باب

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسولاللّٰهجنہیں میں کتاباللّٰهیعنی قرآن سکھاتا تھا ان میں سے ایک شخص نے مجھے کمان دی ہے ۱؎یہ کوئی بڑا قیمتی مال نہیں ہے اس پر میںاللّٰهکی راہ میں تیر پھینکوں گا فرمایا اگر تم آگ کا ہار پہنایا جانا پسند کرتے ہو تو اسے قبول کرلو ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ رَجُلٌ أَهْدٰى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهٗ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ وَلَيْسَتْ بِمَالٍ فَأَرْمِي عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2990 ، باب: کرایہ کا باب