- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
باب: عرفہ میں ٹھہرنا
کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت محمد ابن ابی بکر ثقفی سے کہ انہوں نے منٰی سے عرفہ جاتے ہوئے حضرت انس ابن مالک سے پوچھا کہ آپ حضرات اس دن میں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ہمراہ کیا کہا کرتے تھے ۱؎تو وہ بولے کہ ہم میں تلبیہ کہنے والالبیكکہتا تھا اور اس پر اعتراض نہ ہوتا تھا اور ہم میں سے تکبیر والا اللّٰه اکبر کہتا تھا اس پر اعتراض نہ ہوتا تھا ۲؎(مسلم،بخاری)
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهٗ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلٰى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هٰذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُّ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنكَرُ عَلَيْهِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2592 ، باب: عرفہ میں ٹھہرنا
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم نے یہاں قربانی کرلی ہے مگر سارا منٰی ہی قربانی گاہ ہے لہذا اپنی منزلوں میں قربانی کرسکتے ہو ۱؎اور ہم نے یہاں قیام فرمایا ہے مگر سارا عرفہ ہی قیام گاہ ہے ۲؎اور ہم نے یہاں وقوف مزدلفہ کیا ہے مگر سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے ۳؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَحَرْتُ هٰهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوْا فِي رِحَالِكُمْ. وَوَقَفْتُ هٰهُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هٰهُنَا وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2593 ، باب: عرفہ میں ٹھہرنا
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا عرفہ سے بڑھ کر ایسا کوئی دن نہیں جس میں اللّٰه اپنے بہت سے بندوں کو آگ سے آزاد کردے ۱؎رب تعالٰی اس دن بہت ہی قریب ہوتا ہے پھر ان فرشتوں پر فخر فرماتا ہے کہتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ۲؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللّٰهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهٗ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2594 ، باب: عرفہ میں ٹھہرنا
روایت ہے حضرت عمرو بن عبداللّٰه ابن صفوان سے وہ اپنے ماموں سے راوی جنہیں یزید ابن شیبان کہا جاتا تھا ۱؎فرماتے ہیں ہم عرفات میں اپنی منزل میں تھے عمرو نے فرمایا کہ وہ جگہ امام کی جگہ سے بہت دور تھی ۲؎تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے بولے کہ میں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا تمہاری طرف پیغامبر ہوں۳؎حضور تم سے فرماتے ہیں کہ تم لوگ اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو ۴؎تم لوگ اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی وراثت پر ہو ۵؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ خَالٍ لَهٗ يُقَالُ لَهٗ يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: كُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفَةَ يُبَاعِدُهٗ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ لَكُمْ: قِفُوا عَلٰى مَشَاعِرِكُمْ فَإِنَّكُمْ عَلٰى إِرْثٍ من إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2595 ، باب: عرفہ میں ٹھہرنا
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا عرفات جائے وقوف ہے اور سارا منٰی قربانی گاہ ہے اور سارا مزدلفہ قیام گا ہے اور مکہ معظمہ کی ہر سڑک راستہ اور قربانی گاہ ہے ۱؎(ابوداؤد،دارمی)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيْقٌ وَمَنْحَرٌ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2596 ، باب: عرفہ میں ٹھہرنا
روایت ہے حضرت خالد ابن ہوذہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ عرفات میں اونٹ پر دو رکابوں کے درمیان کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلٰى بَعِيرٍ قَائِمًا فِي الرِّكَابَيْنِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2597 ، باب: عرفہ میں ٹھہرنا
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا عرفہ کے دن کی دعاؤں میں سے بہترین ۱؎اور جو ہم نے اور ہم سے پہلے نبیوں نے عرض کیا ان میں سے بہترین عرض یہ ہے کہ اللّٰه اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کا ملک ہے،اسی کی تعریف اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2598 ، باب: عرفہ میں ٹھہرنا
اور مالک نے حضرت طلحہ ابن عبیداللّٰهسےلاشریك لہتک روایت کی۔
وَرَوٰى مَالِكٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ إِلٰى قَوْلِهٖ : «لَا شَرِيْكَ لَهٗ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2599 ، باب: عرفہ میں ٹھہرنا
روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبیداللّٰه ابن کریز سے ۱؎کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن شیطان بہت چھوٹا بہت پھٹکارا ہوا اور بہت ذلیل و غمگین نہ دیکھا گیا ۲؎یہ صرف اس لیے ہے کہ وہ آج کے دن رحمت باری کا نزول اور اللّٰه کا بڑے گناہوں کی معافی دینا مشاہدہ کرتاہے۳؎اس کے سواء جو بدر کے دن دیکھا گیا ۴؎عرض کیا گیا حضور بدر کے دن کیا دیکھا گیا فرمایا اس نے حضرت جبریل کو دیکھا کہ وہ فرشتوں کی صف آرائی کررہے ہیں ۵؎(مالک)مرسلًا اور شرح سنہ میں لفظ مصابیح سے۔
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ بْنِ كَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا رُئِيَ الشَّيْطَانُ يَوْمًا هُوَ فِيهِ أَصْغَرُ وَلَا أَدْحَرُ وَلَا أَحْقَرُ وَلَا أَغْيَظُ مِنْهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِمَا يَرَى مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ وَتَجَاوُزِ اللّٰهِ عَنِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ إِلَّا مَا رُئِيَ يَوْمَ بَدْرٍ» . فَقِيلَ: مَا رُئِيَ يَوْمَ بَدْرٍ؟ قَالَ: «فَإِنَّهٗ قَدْ رَاٰى جِبْرِيلَ يَزَعُ الْمَلَائِكَةَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2600 ، باب: عرفہ میں ٹھہرنا
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو رب تعالٰی دنیاوی آسمان کی طرف نزول کرم فرماتا ہے ۱؎تو حجاج کے ذریعے فرشتوں پر فخرکرتاہے ۲؎فرماتا ہے میرے بندوں کو دیکھو کہ میرے پاس بکھرے بال گرد آلود دور دراز کے راستوں سے شور مچاتے آئے ہیں میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا ۳؎فرشتے عرض کرتے ہیں یارب فلاں مرد اور فلاں عورت تو بدکاری کرتے رہے ہیں ۴؎فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے میں نے انہیں بھی بخش دیا ۵؎فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ عرفہ سے زیادہ کوئی دن لوگوں کے آگ سے چھٹکارا پانے کا نہیں ۶؎(شرح سنہ)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ إِنَّ اللّٰهَ يَنْزِلُ إِلٰى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلٰى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا ضَاجِّينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَيَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ فُلَانٌ كَانَ يُرَهَّقُ وَفُلَانٌ وَفُلَانَةُ قَالَ: يَقُولُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ". قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ» . رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2601 ، باب: عرفہ میں ٹھہرنا
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں قریش اور ان کا طریقہ کرنے والے مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے تھے ۱؎اور انہیں حمس (بہادر وغیرہ)کہا جاتا تھا ۲؎باقی عرب عرفات میں ٹھہرتے تھے پھر جب اسلام آیا تو اللّٰه تعالٰی نے نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو حکم دیا کہ عرفات پہنچیں وہاں ہی ٹھہریں پھر وہاں سے واپس ہوں۳؎یہ حکم ہے اللّٰه عزوجل کا کہ تم وہاں سے چلو جہاں سے لوگ چلیں۴؎(مسلم، بخاری)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدلِفَةِ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ فَكَانَ سَائِرَ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ أَمَرَ اللّٰهُ تَعَالٰى نَبِيَّهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفُ بِهَا ثُمَّ يَفِيضُ مِنْهَا فَذٰلِكَ قَوْلُهٗ عَزَّ وَجَلَّ: (ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2602 ، باب: عرفہ میں ٹھہرنا
روایت ہے حضرت عباس ابن مرداس سے ۱؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے عرفہ کی شام اپنی امت کے لیے دعائے مغفرت کی ۲؎تو جواب ملا کہ حقوق العباد کے سوا باقی گناہ بخش دیئے مظلوم کا حق تو لوں گا ۳؎عرض کیا یارب اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے دے اور ظالم کو بخش دے ۴؎اس شام کو تو جواب نہ ملا مگر جب مزدلفہ میں حضور نے صبح کی تو وہ ہی دعا دوبارہ کی تب آپ کا سوال پورا کیا گیا ۵؎راوی فرماتے ہیں تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم ہنسے یا مسکرائے ۶؎خدمت عالی میں حضرت ابوبکر و عمر نے عرض کیا ہمارے ماں باپ فدا اس گھڑی حضور ہنسا نہ کرتے تھے اللّٰه حضور کو خوش و خرم رکھے کیا چیز آپ کو ہنسارہی ہے ۷؎فرمایا کہ جب اللّٰه کے دشمن ابلیس نے دیکھا کہ اللّٰه تعالٰی نے میری دعا قبول کرلی اور میری امت کو بخش دیا ۸؎تو مٹی اٹھا کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور ہائے وائے پکارنے لگا ۹؎ہم نے جو اس کی گھبراہٹ دیکھی جس سے ہمیں ہنسی آگئی۱۰؎(ابن ماجہ)اور بیہقی نےکتاب البعث و النشورمیں اس کی مثل روایت کی ۱۱؎
وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهٖ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالمَغْفِرَةِ فَأُجِيبَ: «إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الْمَظَالِمَ فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ» . قَالَ: «أَيْ رَبِّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ» فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهٗ فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ فَأُجِيبَ إِلٰى مَا سَأَلَ. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ تبسَّمَ فَقَالَ لَهٗ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ هٰذِهٖ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللّٰهُ سِنَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّ عَدُوَّ اللّٰهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لأُمَّتِي، أَخَذَ التُّرَابَ، فَجَعَلَ يَحْثُوهُ عَلٰى رَأْسِهٖ وَيَدْعُو بِالوَيْلِ وَالثُّبُورِ فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهٖ » . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي: كِتَابِ "الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ" نَحْوَهٗ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2603 ، باب: عرفہ میں ٹھہرنا