باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے رب کی قسم میں ایک دن میں ستر بار سے زیادہ رب سے مغفرت مانگتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۱؎(بخاری)

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "وَاللّٰهِ إِنِّيْ لأَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِيْنَ مرَّةً". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2323 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت اغرمزنیرضی اللّٰه عنہسے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلمنے کہ میرے دل پر پردہ آتا رہتا ہے حالانکہ میں دن میں سو بار استغفار پڑھتا ہوں ۱؎(مسلم)

وَعَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّهٗ لَيُغَانُ عَلٰى قَلْبِيْ، وَإِنِّيْ لأَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2324 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے اے لوگوکی بارگاہ میں توبہ کرو ۱؎دیکھو میں دن میں سو بار توبہ کرتاہوں ۲؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ! تُوْبُوْا إِلَى اللّٰهِ فَإِنِّيْ أَتُوْبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مرَّةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2325 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابوذر سے فر ماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان روایتوں میں جو حضور اپنے رب تبارک و تعالٰی سے روایت فرماتے ہیں کہ رب نے فرمایا اے میرے بندوں میں نے ظلم کو اپنے نفس پر حرام فرمالیا ہے ۱؎اور تمہارے آپس میں بھی ظلم کو حرام فرمادیا۲؎لہذا ظلم نہ کرو اے میرے بندو تم سب گمراہ ہو بجز اس کے جسے میں ہدایت دے دوں لہذا مجھ سے ہدایت مانگو ہدایت دوں گا۳؎اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو بجز اس کے جسے میں روزی دوں لہذا مجھ سے کھانا مانگو تمہیں دوں گا اے میرے بندو تم سب ننگے ہو بجز اس کے جسے میں پہناؤں لہذا مجھ سے لباس مانگو میں دوں گا۴؎اے میرے بندو تم دن رات کے خطا کار ہو اور میں سارے گناہ بخشتا رہتا ہوں مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں بخش دوں گا ۵؎اے میرے بندو تم میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچادو اور نہ میرے نفع تک تمہاری رسائی ہے کہ مجھے نفع دو ۶؎اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان و جن اپنے کسی بڑے پرہیزگار کے دل پر متفق ہو جائیں ۷؎تو تمہارا یہ متفقہ تقویٰ میرے ملک میں کچھ بڑھائے گا نہیں ۸؎اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان و جن اپنے میں سے کسی بڑے بدکار کے دل پر متفق ہوجائیں تو تمہاری یہ متفقہ بدکاری میرے ملک میں کچھ کمی نہ کر دے گی ۹؎اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان و جن ایک میدان میں کھڑے ہوکر مجھ سے بھیک مانگیں پھر میں ہر انسان کا سوال پورا کردوں تو یہ میرے خزانوں کے مقابلہ ایسا حقیر ہوگا جیسے سوئی کی تری جب وہ دریا میں ڈبوئی جائے ۱۰؎اے میرے بندو میں تمہارے اعمال شمار میں رکھ رہا ہوں پھر ان کا بدلہ تمہیں پورا پورا دوں گا ۱۱؎جو نیکی پائے تو وہ اللہ کی حمدکرے اور جو اس کے علاوہ پائے وہ صرف اپنے کو ہی ملامت کرے۱۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِيْمَا يَرْوِيْ عَنِ اللّٰهِ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى أَنَّهٗ قَالَ: "يَا عِبَادِيْ! إِنِّيْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰى نَفْسِيْ وَجَعَلْتُهٗ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوْا، يَا عِبَادِيْ! كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهٗ، فَاسْتَهْدُوْنِيْ أَهْدِكمْ، يَا عِبَادِيْ! كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهٗ، فَاسْتَطْعِمُوْنِيْ أُطْعِمْكُمْ، يَا عِبَادِيْ! كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهٗ، فَاسْتَكْسُوْنِيْ أَكْسُكُمْ، يَا عِبَادِيْ! إِنَّكُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا، فَاسْتَغْفِرُوْنِيْ أَغْفِرْ لَكُمْ، يَا عِبَادِيْ! إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوْا ضَرِّيْ فَتَضُرُّوْنِيْ، وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِيْ فَتَنْفَعُوْنِيْ، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانوُا عَلٰى أَتْقٰى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا زَادَ ذٰلِكَ فِيْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِنْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوْا فِيْ صَعِيْدٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلُوْنِيْ فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهٗ، مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِمَّا عِنْدِيْ إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ، يَا عِبَادِيْ! إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيْهَا عَلَيْكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيْكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللّٰهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذٰلِكَ فَلَا يَلُوْمَنَّ إِلَّا نَفْسَهٗ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2326 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہےحضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے آدمی مار ڈالے تھے ۱؎پھر مسئلہ پوچھنے نکلا تو ایک پادری کے پاس پہنچا ۲؎اس سے پوچھا کہ کیا اس کی توبہ ہوسکتی ہے وہ بولا نہیں ۳؎اس نے اسے بھی مار دیا ۴؎اور مسئلہ پوچھتا پھرا اسےکسی نے بتایا کہ فلاں بستی میں جا ۵؎اسی حال میں اسے موت آگئی تو اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف کردیا ۶؎اس کے متعلق رحمت و عذاب کے فرشتوں نے جھگڑا کیا ۷؎رب نے اس بستی کی طرف حکم بھیجا کہ قریب آجا اور اس بستی کی طرف کہ دور ہوجا پھر فرمایا ان دونوں بستیوں کے درمیان نا پو پھر وہ اس بستی کی طرف ایک بالشت قریب پایا گیا چنانچہ اس کی مغفرت کردی گئی ۸؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِيْنَ إِنْسَانًا، ثُمَّ خَرَجَ يَسْأَلُ، فَأَتٰى رَاهِبًا فَسَأَلَهٗ فَقَالَ: أَلَهٗ تَوْبَةٌ؟ قَالَ: لَا، فَقَتَلَهٗ، وَجَعَلَ يَسْأَلُ فَقَالَ لَهٗ رَجُلٌ: اِئْتِ قَرْيَةَ كَذَا وَكَذَا، فأَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، فَنَاءَ بِصَدْرِهٖ نَحْوَهَا، فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ،فَأَوْحَى اللّٰه إِلٰى هٰذِهٖ أَنْ تَقَرَّبِي، وَإِلٰى هٰذِهٖ أَنْ تَبَاعَدِيْ، فَقَالَ: قِيسُوْا مَا بَيْنَهُمَا فَوُجِدَ إِلٰى هٰذِهٖ أَقْرَبَ بِشِبْرٍ فَغُفِرَ لَهٗ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2327 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو توتمہیں لے جائے اور ایسی قوم لائے جو گناہ کریں پھر معافی مانگیں توانہیں بخشے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوْا لَذَهَبَ اللّٰه بِكُمْ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُوْنَ، فَيَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2328 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہتعالٰی اپنا دستِ کرم رات کو پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کرلے اور دن کو پھیلاتا ہے کہ رات کا گنہگار توبہ کرلے ۱؎یہ کرم نوازی اس وقت تک ہوگی جب کہ سورج پچھم سے نکلے۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ يَدَهٗ بِاللَّيْلِ، لِيَتُوْبَ مُسِيءُ النَّهَارِوَيَبْسُطُ يَدَهٗ بِالنَّهَارِ لِيَتُوْبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2329 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بندہ جب اقرار گناہ کرلیتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تواس کی توبہ قبول کرلیتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ، تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2330 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو سورج کے مغرب کے نکلنے سے پہلے توبہ کرے توتعالٰی اس کی توبہ قبول کرے گا ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2331 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالٰی اس کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے ۱؎جس کی سواری پٹپر زمین میں ہو وہ سواری بھاگ جائے اس پر اس کا کھانا پانی ہو یہ اس سواری سے مایوس ہوکرکسی درخت تک پہنچے اپنی سواری سے مایوس ہوکر درخت کے سایہ میں لیٹ رہے وہ اس حال میں ہو کہ ناگاہ اس کی سواری اس کے پاس آکھڑی ہو وہ اس کی مہار پکڑے ۲؎پھر انتہائی خوشی میں یوں کہہ بیٹھے الٰہی تو میرا بندہ اور میں تیرا رب بہت خوشی سے بندہ خطا کر گیا ۳؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَلّٰهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهٖ حِينَ يَتُوْبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ رَاحِلَتُهٗ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهٗ وَشَرَابُهٗ، فَأَيِسَ مِنْهَا، فأَتٰى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهٖ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذٰلِكَ إِذْ هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهٗ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اَللّٰهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2332 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرلیتا ہے پھرکہتا ہے مولیٰ میں نے گناہ کرلیا مجھے معافی دے دے ۱؎رب فرماتا ہے کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور اس پر پکڑبھی لیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۲؎پھر جتنا رب چاہے بندہ ٹھہرا رہتا ہے پھر کوئی گناہ کر بیٹھتا ہےکہتا ہے یارب میں نے گناہ کرلیا بخش دے ۳؎رب فرماتا ہے کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑ بھی لیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پھر بندہ ٹھہرا رہتا ہے جتنا رب چاہے پھر گناہ کر بیٹھتا ہے عرض کرتا ہے یارب میں نے گناہ کر لیا مجھے معافی دے تو رب فرماتا ہے کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور پکڑ بھی لیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا جو چاہے کرے ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ عَبْدًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ: رَبِّ أَذْنَبْتُ فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ رَبُّهٗ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهٗ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهٖ؟ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللّٰهُ، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا قَالَ : رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ ، فَقَالَ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهٗ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهٖ؟ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللّٰهُ، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا قالَ : رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا آخَرَ فَاغْفِرْ لِيْ ، فَقَالَ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهٗ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهٖ؟ غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَفْعَلْ مَا شَاءَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2333 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت جندب سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ ایک آدمی نے کہا رب کی قسم اللہ تعالٰی فلاں کو نہ بخشے گا ۲؎اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا وہ کون ہے جو مجھ پرقسم کھاتا ہے کہ میں فلاں کو نہ بخشوں گا۳؎میں نے فلاں کو توبخش دیا اور تیرے عمل ضبط کرلیے ۴؎یا جیسے حضور انور نے فرمایا ۵؎(مسلم)

وَعَنْ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- حَدَّثَ: "أَنَّ رَجُلًا قَالَ: وَاللّٰهِ لَا يَغْفِرُ اللّٰهُ لِفُلَانٍ، وَأَنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى قَالَ: مَنْ ذَا الَّذِيْ يَتَأَلّٰى عَلَيَّ أَنِّي لَا أَغْفِرُ لِفُلَانٍ، فَإنِّيْ قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ، وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ". أَوْ كَمَا قَالَ: رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2334 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استغفار کا سردار یہ ہے ۱؎کہ تم کہو الٰہی تو میرا رب ہے،تیرے سواء کوئی معبود نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا،میں تیرا بندہ ہوں۲؎اور بقد ر طاقت تیرے عہدوپیمان پر قائم ہوں ۳؎میں اپنے کئے کی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۴؎تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اقراری ہوں مجھے بخش دے،تیرے سواء گناہ کوئی نہیں بخش سکتا ۵؎حضور نے فرمایا کہ جو یقین قلبی کے ساتھ دن میں یہ کہہ لے پھر اسی دن شام سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا اور جو یقین دل کے ساتھ رات میں یہ کہہ لے پھر صبح سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا۶؎(بخاری)

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ تَقُوْلَ: اللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِيْ وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلٰى عَهْدِكَ، وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ،أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوْءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهٗ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ". قَالَ: "وَمَنْ قَالَهَا مِنَ النَّهَارِ مُوْقِنًا بِهَا، فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهٖ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ قَالَهَا مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ مُوْقِنٌ بِهَا، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2335 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ رب تعالٰی فرماتا ہے اے اولاد آدم جب تک تو مجھ سے دعا مانگے اور مجھ سے آس لگائے تو میں تجھے تیرے عیوب کے باوجود بخشتا رہوں گا ۱؎میں بے پرواہ ہوں اے ابن آدم اگر تیرے گناہ کنارۂ آسمان تک پہنچ جائیں ۲؎پھر تو مجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے بخش دوں گا کچھ پرواہ نہ کروں گا اے اولاد آدم اگر تو زمین بھرکر خطاؤں کے ساتھ ملے مگر ایسے ملے کہ کسی کو میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر بخشش کے ساتھ تیرے پاس آؤں گا۳؎(ترمذی،

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: يَا ابْنَ آدَمَ! إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِيْ وَرَجَوْتَنِيْ غَفَرْتُ لَكَ عَلٰى مَا كَانَ فِيْكَ وَلَا أُبَالِي، يَا ابنَ آدمَ ! لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوْبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ،ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِيْ غَفَرْتُ لَكَ وَلَا أُبَالِي، يَا ابْنَ آدَمَ! إِنَّكَ لَوْ لَقِيْتَنِيْ بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيْتَنِيْ لَا تُشْرِكُ بِيْ شَيْئًا لأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2336 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

احمد،دارمیعن ابی ذر) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2337 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں فرمایا اللہ تعالٰی نے جو جانے کہ میں گناہ بخش دینے پر قادر ہوں تو میں اسے بخش دوں گا کچھ پرواہ نہ کروں گا جب تک کہ وہ میرا کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ۱؎(شرح سنہ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: مَنْ عَلِمَ أَنِّي ذُوْ قُدْرَةٍ عَلٰى مَغْفِرَةِ الذُّنُوْبِ غَفَرْتُ لَهٗ وَلَا أُبَالِيْ مَا لَمْ يُشْرِكْ بِي شَيْئًا". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2338 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے جو استغفار کو اپنے پر لازم کرلے ۱؎تواس کے لیے ہرتنگی سے چھٹکارا اور ہر غم سے نجات دے گا اور وہاں سے اسے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۲؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللّٰهُ لَهٗ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَهٗ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ". رَوَاهُ أحمدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2339 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ معافی مانگ لینے والا گناہ پر اڑیل نہیں اگرچہ دن میں ستر بار گناہ کرے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِيْ بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2340 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے ہر انسان خطا کار ہیں ۱؎بہترین خطا وار رجوع کرلینے والے ہیں ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُوْنَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2341 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسو لصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ داغ لگ جاتا ہے ۱؎اگر توبہ کرے اور معافی مانگ لے تو اس کا دل صیقل ہوجاتا ہے اور اگر گناہ زیادہ کرے تو سیاہی زیادہ ہوتی ہے حتی کہ دل پر چھاجاتی ہے یہ ہی وہ زنگ ہے جس کا رب تعالٰی نے ذکر فرمایا ہے کہ ان کے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ لگادی ۲؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهٖ، فَإِنْ تَابَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُهٗ، وَإِنْ زَادَ زَادَتْ حَتّٰى تَعْلُوَ قَلْبَهٗ، فَذٰلِكُمُ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللّٰهُ تَعَالٰى
كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ "رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2342 ، باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان