- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب :التحیات
باب :التحیات
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جبالتحیاتمیں بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھتے اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر ۱؎اور ترپن (۵۳)کا عقد باندھتے اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کرتے ۲؎
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرٰى عَلیٰ رُكْبَتِهِ الْيُسْرٰى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنٰى عَلیٰ رُكْبَتِهِ الْيُمْنٰى وَعَقَدَ ثَلَاثًا وَخَمْسِيْنَ وَأَشَارَ بِالسَّبَابَةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 906 ، باب :التحیات
اور ایک روایت میں ہے کہ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر رکھتے اور اپنی داہنی انگلی جو انگوٹھے سے ملی ہے اسے اٹھاتے اس سے اشارہ کرتے ۱؎اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر بچھاتے ۲؎(مسلم)
وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلیٰ رُكْبَتَيْهِ وَرَفَعَ أُصْبُعَهُ الْيُمْنَى التِي تلِي الْإِبْهَامَ يَدْعُو بِهَا وَيَدَهُ الْيُسْرٰى عَلیٰ رُكْبَتِهٖ بَاسِطَهَا عَلَيْهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 907 ، باب :التحیات
روایت ہے حضرت عبد الله ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب بیٹھتے تو کلمہ پڑھتے ۱؎تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں ران پر رکھتے اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر۲؎اور اپنی کلمے کی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنا انگوٹھا بیچ کی انگلی پر رکھتے ۳؎ اور بائیں ہتھیلی سے گھٹنا پکڑ لیتے ۴؎ (مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ يَدْعُو وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنٰی عَلیٰ فَخِذِهِ الْيُمْنٰى وَيَدَهُ الْيُسْرٰى عَلیٰ فَخِذِهِ الْيُسْرٰى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهٖ السَّبَّابَةِ وَوَضَعَ إِبْهَامَهٗ عَلیٰ أُصْبُعِهِ الْوُسْطىٰ ويَلْقَمُ كَفَّهُ الْيُسْرٰى رُكْبَتَهٗ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 908 ، باب :التحیات
روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۱؎تو کہتے تھے ۲؎الله کے بندوں کی طرف سے الله پر سلام ہو ۳؎جبریل علیہ السلام پر سلام ہو میکائیل پر سلام ہو فلاں پر سلام ہو ۴؎جب نبی صلی الله علیہ وسلم پھرے تو اپنے چہرے سے ہم پر متوجہ ہوئے ۵؎اور فرمایا نہ کہو کہ الله پر سلام ہو الله تو خود سلام ہے ۶؎جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے ۷؎کہ الله کے لیے تحیتیں،نمازیں اور طیب کلمے ہیں ۸؎اے نبی آپ پر سلام ہو الله کی رحمتیں اور برکتیں ہوں ۹؎ہم پر اور الله کے نیک بندوں پر سلام ہو ۱۰؎نمازی جب یہ کہے گا تو زمین و آسمان کے ہر نیک بندے کو پہنچ جائے گا ۱۱؎میں گواہی دیتا ہوں کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۱۲؎پھر جو دعا اسے پسند ہو اختیار کر لے اور اس سے دعا مانگے ۱۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَی اللهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلٰى جِبْرَئِيلَ، السَّلَامُ عَلٰى مِيكَائِيلَ، السَّلَامُ عَلٰى فُلَانٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهٖ قَالَ: «لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَی اللهِ فَإِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّهٗ إِذَا قَالَ ذٰلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ ثُمَّ لْيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ اليْهِ فَيَدْعُوْهُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 909 ، باب :التحیات
روایت ہے حضرت عبد الله ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ہم کو نبی صلی الله علیہ وسلمالتحیاتایسے ہی سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے ۱؎فرماتے تھے کہ برکت والیتحیتیںاور طیب نمازیں الله کے لیئے ہیں اے نبی آپ پر سلام اور الله کی رحمتیں برکتیں ہوں، ہم پر اور الله کے نیک بندوں پر سلام ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد الله کے رسول ہیں ۲؎(مسلم)میں نے صحیحین میں اور صحیحین کے جامع میںسلام علیكاورسلام علینابغیر الف لام کے نہ پایا لیکن اسے جامع والے نے ترمذی سے روایت کیا ۳؎
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ فَكَانَ يَقُولُ: «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلّٰهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَلَمْ أَجِدْ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَلَا فِي الْجَمْعِ بَين الصَّحِيحَيْنِ: «سَلامٌ عَلَيْك» و «سَلامٌ عَلَيْنَا» بِغَيْرِ أَلْفٍ وَلَامٍ وَلَكِنْ رَوَاهُ صَاحِبُ الْجَامِع عَنْ التِّرْمِذِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 910 ، باب :التحیات
روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے وہ رسول الله سے راوی ہیں فرماتے ہیں کہ پھر حضور بیٹھے ۱؎تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی اپنی داہنی ران پر دراز کی ۲؎دو انگلیاں بند کیں اور حلقہ بنایا ۳؎پھر اپنی انگلی شریف اٹھائی میں نے آپ کو دیکھا کہ اسے ہلاتے تھے اس سے اشارہ کرتے تھے ۴؎(ابوداؤد، دارمی)
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرٰى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرٰى عَلیٰ فَخِذِهِ الْيُسْرٰى وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْيُمْنٰى عَلیٰ فَخِذِهِ الْيُمْنٰى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ أَصْبَعَهٗ فَرَأَيْتُهٗ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والدَارمِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 911 ، باب :التحیات
روایت ہے حضرت عبد الله ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے مگر اسے ہلاتے نہ تھے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)ابوداؤد نے یہ زیادہ کیا کہ آپ کی نگاہ اشارے سے آگے نہ بڑھتی۲؎
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِأَصْبَعِهٖ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَزَاد أَبُو دَاوُدَ وَلَا يُجَاوِزُ بَصَرُهٗ إِشَارَتَهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 912 ، باب :التحیات
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتا تھا ۱؎حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ایک سے کرو ایک سے کرو ۲؎(ترمذی، نسائی، بیہقی ، دعوات کبیر )
وَعَنْ أبي هُرَيْرَة قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَدْعُو بِأُصْبُعَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَحِّدْ أَحِّدْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِير
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 913 ، باب :التحیات
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع کیا کہ کوئی نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر بیٹھے ۱؎(احمد،ابوداؤد،)اسی کی ایک روایت میں ہے اس سے منع فرمایا کہ دونوں ہاتھوں پر ٹیک لگائے جب نماز میں اٹھے۲؎
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ وَهُوَ مُعْتَمِدٌ عَلیٰ يَدِهٖ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ : نَهٰى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلیٰ يَدَيْهِ إِذا نَهَضَ فِي الصَّلَاةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 914 ، باب :التحیات
روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم دو پہلی رکعتوں میں ایسے ہوتے تھے گویا آپ گرم پتھر پر ہیں حتی کہ کھڑے ہوتے ۱؎(ترمذی، ابوداؤد، نسائی)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهٗ عَلَی الرَّضْفِ حَتّٰى يَقُومَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 915 ، باب :التحیات
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ہم کوالتحیاتایسے سکھاتے تھے جیسے ہم کو قرآن کی سورت سکھاتے ۱؎الله کے نام سے اور الله سےتحیتیںپاک نمازیں الله کے لیے ہیں ۲؎اے نبی آپ پر سلام ہو ۳؎اور الله کی رحمت اس کی برکتیں ہوں ہم پر اور الله کے نیک بندوں پر سلام ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد الله کے بندے و رسول ہیں ۴؎الله سے جنت مانگتا ہوں آگ سے رب کی پناہ (نسائی)
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: «بِسْمِ اللهِ وَبِاللهِ التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ أَسْأَلُ اللهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 916 ، باب :التحیات
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ عبد الله ابن عمر جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اپنی نگاہ اس پر لگاتے ۱؎پھر فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان پر لوہے سے زیادہ گراں ہے یعنی یہ انگلی ۲؎(احمد)
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلیٰ رُكْبَتَيْهِ وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهٖ وَأَتْبَعَهَا بَصَرَهٗ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَهِيَ أَشَدُّ عَلَی الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ».يَعْنِي السَّبَّابَةَ. رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 917 ، باب :التحیات
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں ۱؎کہالتحیاتآہستہ کہنا سنت ہے(ابوداؤد، ترمذی) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: مِنَ السُّنَّةِ إِخْفَاءُ التَّشَهُّدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 918 ، باب :التحیات